سرگزشتِ حیات” کے مطالعے کی سرگزشت ـ اظہارالحق قاسمی بستوی استاذ: مدرسہ عربیہ قرآنیہ اٹاوہ

 

مولانا ضیاءالحق صاحب خیرآبادی کی ارسال کردہ کتابوں میں ایک تازہ خود نوشت سوانح "سرگزشتِ حیات” بھی تھی۔ کتاب نئی ہونے کی کشش کے ساتھ مصنف کے قاسمی ہونے اور فن حدیث کی ایک عظیم شخصیت کے احوالِ حیات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ترجیحاً پہلے پڑھی گئی۔

اس کتاب کے مصنف اور موضوعِ مصنف دونوں مولانا ڈاکٹر ابواللیث خیرآبادی ہیں۔ مولانا نے یہ کتاب حاجی بابو (مرتب کتاب: مولانا ضیاء الحق خیرآبادی) کے اصرار پر صرف تین ماہ کی قلیل مدت میں لکھی ہے اور شاندار کتاب لکھی ہے۔

پوری کتاب مصنف کی ولولہ انگیزیوں، جہد مسلسل اور نصرت و انعاماتِ خداوندی کی داستانوں سے لبریز اور برجستگی و شائستگی کا مرقع ہے۔ کتاب پڑھتے وقت جگہ جگہ مولانا کی قوتِ حافظہ پر عش عش کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ اس کتاب میں مولانا نے اپنی زندگی کے تمام قابلِ ذکر گوشوں کا دلچسپ، خوب صورت، ذمے دارانہ اور دیانت دارانہ تذکرہ کیا ہے۔

کتاب پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جہد مسلسل اور تضرع الی اللہ انسان کو کس طرح منزل بہ منزل ترقی کی راہوں پر لے جاتے ہیں۔ اس کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ خیرآباد مئو کے قصبہ نما گاؤں میں پیدا ہونے والا ایک بچہ جو چھ سال کی عمر میں اپنی ماں کی ممتا سے محروم ہو جاتا ہے، وہ کس طرح خیرآباد، مرادآباد میں پڑھتے ہوئے، ازہر ہند دارالعلوم دیوبند جا پہونچتا ہے اور وہاں سےاپنے علم کی پیاس بجھاتا ہے۔ وہاں سے مشکل حالات میں نکل کر وہ مالیگاؤں پھر اعظم گڑھ میں پڑاؤ ڈالتا ہے اور مدرسۃ الاصلاح میں سات سال اس کی عملی تَپائی ہوتی ہے، پھر اس کے اندر علم حاصل کرنے کی امنگیں انگڑائی لیتی ہیں اور وہ ہزار مجاہدے کرکے مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں حصول علم کے لیے فروکش ہوتا ہے۔ پھر وہاں سے بیت اللہ کی سرزمین کی کشش اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور یوں سات سال پڑھانے کے بعد وہ سترہ سال مزید اپنی علمی تشنگی بجھاتا ہے اور فن حدیث میں ماجستیر اور دکتورہ کرکے وہ باہر نکلتا ہے۔ پھر قسمت یاوری کرتی ہے اور وہ ملیشیا کی بین الاقوامی یونیورسٹی میں پہونچ جاتا ہے جہاں وہ اٹھائیس سال سے علم حدیث کی شمعیں جلائے ہوئے ہے۔ یہ مصنف کی زندگی کی چند لفظی روداد ہے۔

خاندانی پس منظر کے ذکر کے بعد مولانا نے اپنی تعلیمی سرگزشت بیان کی ہے۔ انھوں نے پرائمری تا عربی چہارم کی تعلیم خیرآباد کے معروف ادارے مدرسہ منبع العلوم میں حاصل کی ہے۔ پرائمری تعلیم کی روداد بڑے خوب صورت انداز میں ذکر کی ہے۔ "ایک بہانہ تراشی” کے عنوان کے ذیل میں انھوں نے دلچسپ اور بے ساختہ انداز میں ذکر کیا ہے کہ مجھے بچپن میں پڑھائی سے کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی۔ اس کی وجہ سے میں بہت مرتبہ مدرسے سے غائب ہو جاتا تھا اور نئے نئے بہانے تراشتا رہتا تھا۔ ایک دن بخار کے بہانے مدرسے نہیں گیا۔ اس سے پہلے کے دو دن بھی غائب رہا تھا۔ مولانا کے استاذ حافظ ریاض الدین صاحب نے پانچ بچوں کی بٹالین بھیجی۔ اس بٹالین نے دھر دبوچا اور اٹھا کر لے گئے۔ راستے میں ایک جگہ کچڑے میں سب کو لیے دیے گر بھی گئے مگر ان سپاہیوں نے نہ چھوڑا۔ مدرسے پہونچ کر حافظ صاحب نے سب سے پہلے ان سے سب کے کپڑے دھلوائے اور پھر دو گھنٹے مرغا بنایا اور پھر اتنا مارا کہ پورے بدن پر نشانات پڑگئے۔ مولانا کا کہنا ہے اور کتاب میں کئی بار تذکرہ کیا ہے کہ ” یہ انھیں کی مار کا اثر ہے کہ میں پڑھ پایا، اگر انھوں نے ذرا بھی مروت سے کام لیا ہوتا تو ابواللیث آج پروفیسر نہ بنا ہوتا؛ بل کہ خیرآباد کا ایک عام مزدور پیشہ انسان ہوتا”۔ مولانا نے جگہ بہ جگہ اپنے ان استاذ کے لیے دل سے دعائیں کی ہیں۔ مولانا کا یہ واقعہ اور اس پر مولانا کا تاثر پڑھ کر میں حیران رہ گیا کہ آج جہاں ہر طرف یہ مطالبہ ہو رہا ہے کہ بچوں کو ڈانٹو بھی مت، مارنے کی بات تو چھوڑ دیجیے، ایسے میں ایک عالمی یونیورسٹی کا پروفیسر اپنے ایک سخت ترین استاذ کے لیے منھ بھر بھر کر دعائیں کر رہا ہے اور اپنی ترقیوں کا کریڈٹ ایسے استاذ کو دے رہا ہے۔

منبع العلوم میں چہارم تک کی کتابیں مولانا نذیر احمد صاحب سے بہت پختہ پڑھ کر حیات العلوم مرادآباد گئے۔ وہاں پر استاذی مفتی حبیب الرحمن صاحب خیرآبادی سے بھی پڑھا جو میرے افتا کے استاذ اور تمرین فتاویٰ کے نگراں تھے۔ وہاں کی پڑھائی کچھ خاص جمی نہیں اس لیےایک سال کے بعد دارالعلوم دیوبند چلے گئے۔

مولانا نے دارالعلوم میں اپنی طالب علمی کے زمانے کا خوب صورت تذکرہ کیا ہے اور اس تین سالہ: ششم، ہفتم اور دورہ کے زمانے کو علمی معراج کا عہد قرار دیا ہے۔ مولانا نے دارالعلوم میں اپنے اساتذہ مولانا کیرانوی اور مولانا معراج الحق صاحب کے درس سے خاص طور پر متاثر ہونے کا تذکرہ کیا ہے۔ دورہ حدیث کے سال میں مشہور زمانہ اسٹرائیک کا واقعہ پیش آیا جس میں مولانا بالکلیہ عدم شرکت کے باوجود مشتبہ قرار دیے گئے اور بڑی کدو کاوش کے بعد فراغت تو ہوگئی اور دورے میں دوسری پوزیشن بھی آئی مگر مشتبہ قرار دیے جا چکے تھے اس لیے عید کے بعد مولانا کو رقعہ بھیج کر مزید دیوبند پڑھنے آنے سے منع کردیا گیا۔

مولانا چوں کہ تکمیل ادب کا ارادہ کرکے بیٹھے ہوئے تھے اس لیے عید کے بعد کی اس اطلاع سے انھیں شدید دھچکا لگا۔ اب رسمی تعلیم تو پوری ہی ہو چکی تھی لہذا اب فکر معاش سوار ہوئی۔ اسی سلسلے میں وہ مالیگاوں پہونچے۔ چند ماہ کے بعد وہاں سے سرائمیر پہونچے اور سات سال تک مدرسۃ الاصلاح سرائمیر میں ابتدائی، متوسطہ اور علیا کی کتابیں پڑھائیں۔ اسی درمیان دو بچوں کی ولادت ہو گئی اور سات سال میں تنخواہ 120 روپئے سے 180 روپئے پہونچی اور گزارا دشوار ہونے لگا۔

مولانا نے اس موقع کی کیفیت بڑی دلسوزی کے ساتھ لکھی ہے کہ انھوں نے اور ان کی بیوی نے کس طرح سے اللہ تعالیٰ کے سامنے تنگی معاش کا دکھڑا سنایا۔ چناں چہ بیوی کے کہنے سے ہی مدینہ منورہ پڑھنے جانے کا آناً فاناً منصوبہ بن گیا اور پھر ایک دن آیا کہ مولانا کی مدینہ سے منظوری آ گئی۔ مولانا نے درخواست بدست خود لکھی تھی جسے انھوں نے مدینہ بھیجا تھا کیوں کہ مولانا کا خط بہت عمدہ تھا۔ مولانا امینی رح نے لکھا ہے کہ حضرت مولانا وحیدالزماں کیرانوی رح اپنے طلبہ کے حسنِ خط کی طرف بھی بہت توجہ دیتے تھے؛ اسی وجہ سے اس وقت کے فضلاء کا خط بہت عمدہ ہوا کرتا تھا۔

مدینہ پہونچنے کے بعد کی اور وہاں پڑھائی کی سرگزشت بھی بہت زبردست ہے اور قاری کو خود سے باندھے رکھتی ہے۔ مدینہ یونیورسٹی میں ہندوستانی غیر مقلد طلبہ اور ان کی مولانا کے خلاف قدم بہ قدم ریشہ دوانیوں نے بار بار مولانا کے قدم کو ہلانے کی کوشش کی؛ مگر مولانا نے اپنے علمی مجاہدوں اور ممتاز حصول یابیوں کے ذریعے ان کو منھ توڑ جواب دیا۔ مدینہ میں بی اے کے چار سال مولانا کے مجاہدانہ طالب علمی کے سال ہیں۔ بی اے فائنل میں امتیازی پوزیشن کے باوصف مولانا کو انھیں غیرمقلدین کی شرانگیزی کی بدولت ایم اے میں داخلہ نہیں ملا۔ قاسمیوں کے خلاف غیر مقلدین بنیادی طور پر عقائد کو لے وہاں کی انتظامیہ کے کان بھرتے ہیں کہ اس کا عقیدہ کمزور اور شرکیہ ہے وغیرہ۔ مدینہ میں ایم اے میں داخلہ نہ ہونے کے سبب مکہ پہونچنے کی روداد بھی دلچسپ اور انابت الی اللہ کی سوزش سے بھرپور ہے۔ پی ایچ ڈی کی بھی داستان اور اس کے بعد سعودی میں ملازمت کی تگ ودو کی حکایت بھی کافی دلچسپ اور سبق آموز ہے۔ قاری کو قدم بہ قدم محسوس ہوتا ہے کہ جب جب دنیاوی اسباب ختم ہوئے، بارگاہ ربانی سے نئی راہیں کھلی نظر آئیں، ہاں بس بندے کی تھوڑی سی توجہ درکار تھی۔

مولانا نے ملیشیا کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اپنے تقرر سے لے کر ترقی، اپنے شاگردوں اور تجربات کی روداد بھی تفصیل سے ذکر کی ہے۔ یونیورسٹی کی آفیشل زبان انگریزی ہونے اور مولانا کی انگریزی سے عدم واقفیت کے باوجود ترقی ہوتے رہنے سے مولانا کی قدردانی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے جس کا بھی اس میں ذکر ہے۔ اولاد کے تذکرے میں مولانا نے اپنے ساتوں بچوں اور ان کی مصروفیات کا ذکر کیا ہے۔ وقائع و حوادث میں اپنی ماں، سالے والد اور زوجہ کی وفات کا تذکرہ کیا ہے۔

تصنیفات و تالیفات میں اپنی تیرہ تصنیفات کا تذکرہ کیا ہے جو سب عربی میں ہیں۔ یہ خود نوشت ہی شاید ان کی واحد اردو تصنیف ہے۔ کتابوں میں اکثر فنون حدیث پر ہیں اور فراہم کردہ مختصر تعارف سے دلچسپ اور علم و معرفت سے معمور بھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس کے بعد مولانا نے اپنے تحکیم شدہ 29 مقالات کا نام اور ان کا مختصر تذکرہ کیا ہے جو سب علمی و فکری انداز کے ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ غیر محکم مقالات، بک ریویو اور تعلیقات کا ذکر ہے جو مولانا کے قلم سے انجام پائے ہیں۔ اخیر سے قبل مولانا نے درجہ وائز اپنے ہر جگہ کے اساتذہ کے نام اور اپنے ممتاز شاگردوں کا مختصر تذکرہ کیا ہے۔ مولانا کے ہندوستان کے ممتاز شاگردوں میں سے ایک ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی ہیں جن پر مولانا کو ناز ہے۔ دوسرے رفیق درس مولانا ڈاکٹر شکیب قاسمی ہیں جن کی مولانا کے دل میں بہت قدر ہے۔ اخیر میں مولانا نے خود سے کسی بھی طرح تعلق رکھنے والے اور زیرِ اشراف ایم اور پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کی تھیسیس کے عنوانوں اور طلبہ کے ناموں کی لسٹ دی ہے اور اخیر میں اپنی مدینہ اور مکہ کی سندیں ہم رشتہ کرکے کتاب پر ختم شد کی مہر لگا دی ہے۔

کتاب پڑھتا گیا اور لطف اندوز ہوتا گیا اور معلومات میں پیہم اضافے کرتا گیا۔ دوران مطالعہ کتاب میں کچھ شخصی توجیہات سے اختلاف بھی رہا جسے اس راقم نے اپنی کتاب میں نشان زد کرلیا۔

کتاب سے حاصل ہونے والے چند موٹے موٹے اسباق یہ ہو سکتے ہیں:
1- زندگی ایک جہد مسلسل کا نام ہے۔
2۔ اپنی کوشش کرنے کے بعد اللہ کا دروازہ ضرور کھٹکھٹانا چاہیے۔
3۔ پڑھنے کی کوئی عمر نہیں ہے۔ جب شوق پیدا ہوجائے آدمی حصول علم کے لیے نکل پڑے۔ کئی سال پڑھا لینے کے باوجود بھی!
4۔ مخالفین کا جواب اپنی محنت وعمل سے دے۔
5۔ مرنے سے پہلے کچھ علمی یادگاریں چھوڑنے کی کوشش کرے، شاگردوں کی شکل میں بھی اور بطور خاص کتابوں کی شکل میں۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہ ایک جہد مسلسل اور عمل پیہم کی بہترین روداد ہے جو نسل نو؛ بل کہ ہر نسل کو پڑھنا چاہیے اور اپنے اندر بھی عزیمت کا حوصلہ فراواں کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مرتب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس کا نفع عام فرمائے۔

کتاب 256 صفحات پر مشتمل ہے اور مکتبہ ضیاء الکتب خیرآباد مئو سے چھپی ہے۔ پرنٹنگ قیمت 300 ہے اور رعایتی قیمت 150 ہے۔ کتابت و طباعت دونوں عمدہ اور دیدہ زیب ہیں اور کتاب کی پیشانی پر یہ شعر چسپاں ہے:

یہ سر گزشتِ حیات میری، نہ سمجھے کوئی اسے فسانہ
علوم نبوی کی جستجو کا یہ اک مرقع ہے والہانہ