سارے امکان برملا رکھو ـ زہرا شاہ

سارے امکان برملا رکھو
چھوڑ جانے کا حوصلہ رکھو

اس کو پیچیدگی سے نفرت ہے
حل طلب کوئی مسلہ رکھو

حسب اوقات جو بھی مل جائے
کم میسر سے مت گلہ رکھو

یہ نہ ہو ہجر گھٹ کے مر جائے
آنکھ سے کوئی راستہ رکھو

سوچ کا انقلاب آئے گا
شہر میں ایک سرپھرا رکھو

خواب اوروں میں بانٹ آئے ہو
میری آنکھوں میں رتجگا رکھو

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*