سرحدی علاقوں پر چین کی نظر،فوجی سرگرمیاں بڑھائیں

بیجنگ:چین نے ایل اے سی پر حالیہ جھڑپوں کے بعد لداخ سے متصل سرحد پر فوج کی تعیناتی کو بڑھا دیا ہے۔چینی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ لداخ کے قریب واقع گیلوون وادی میں بڑی پیمانے پر چینی فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔بتا دیں کہ مئی کے پہلے ہفتے میں اسی علاقے میں ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان جدوجہد ہوئی تھی،جس میں دونوں فریق کے کئی فوجی زخمی بھی ہوئے تھے۔چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے دعوی کی ہے کہ گیلوون وادی سے قریب چینی سرحد کی حفاظت کے لئے پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے بڑی تعداد میں فوجیوں کو تعینات کیا ہے۔گلوبل ٹائمز نے چینی فوج کے ایک ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ اس علاقے میں ہندوستانی فوجی گشت کے لئے آتے ہیں،جنہیں روکنے کے لئے یہ تعیناتی کی گئی ہے۔رپورٹ میں چین نے دعوی کیا کہ گیلوون وادی پر اس کا حق ہے۔اس علاقے میں ہندوستان اسٹریٹجک ٹھکانے بناکر کنٹرول لائن پر یکطرفہ تبدیلی لانے کی کوشش کر رہا ہے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ چینی فوج آئے دن ہندوستانی علاقے میں دراندازی کر رہا ہے۔اس علاقے میں چین نے اپنی فوج کی موجودگی کو کافی مضبوط بنا لیا ہے۔اگرچہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین سرحد پر امن برقرار رکھنے کا حامی ہے۔ہند۔چین کی فوج سرحد پر پیدا ہونے والے کسی بھی حالات سے نمٹنے کے لئے میٹنگوں اور ہاٹ لائن سے ایک دوسرے کے رابطے میں ہے۔ہند۔چین سرحد پر ہندوستانی فوجیوں اور چین آرمی کے فوجیوں کے درمیان مئی میں اب تک دو بار تصادم ہو چکا ہے۔9 مئی کو شمال سکم میں ٹکراؤ ہوا تھا جسے مقامی کمانڈر سطح پر بات چیت سے حل کیا گیا۔اس سے پہلے 5 مئی کو دیر رات مشرقی لداخ میں دونوں فریق کے فوجی آپس میں بھڑے تھے۔چین اور ہندوستانی فوجیوں کے درمیان جدوجہد بھی ہوئی اور پتھر بازی بھی۔اس میں دونوں فریق کے کچھ فوجیوں کو ہلکی چوٹیں بھی آئی تھیں۔مقامی کمانڈر سطح پر بات چیت سے اس تصادم کو ختم کیا گیا تھا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*