Home نقدوتبصرہ سپتک کی شاعری میٹھے پانی کا جھرنا ہے- مظہر اقبال مظہر

سپتک کی شاعری میٹھے پانی کا جھرنا ہے- مظہر اقبال مظہر

by قندیل

کولکاتا کی شاعرہ  فوزیہ اختر رِدا  کی تصنیف "سپتک” ستمبر 2022 میں شائع ہوئی  ہے۔ ان کی  شاعری مشرقی روایات کی امین رومانوی شاعری  ہے۔ فوزیہ رِدا  کی  یہ تخلیق  میٹھے پانی کا جھرنا ہے جس میں  ان کا تخلیقی   ہنر محبت کے نغمے بکھیرتا  محسوس ہوتا ہے ۔ اس میں پریم کہانی بھی ہے ، محبوب کا روایتی کردار  بھی  موجود ہے مگر اس کا قد محب سے بلند نہیں ہے۔ اس  سے قبل  ان کا نعتیہ کلام  ” صاحب  صلی اللہ علیہ و سلم  ” شائع ہو چکا ہے۔ 135 صفحات پر مشتمل  شعری مجموعہ   "سپتک ”     لندن کے اشاعتی  ادارے پریس فار پیس فاؤنڈیشن  نے شائع کیا ہے۔یہ اس ادارے  کے زیر اہتمام انڈیا سے تعلق رکھنے والی کسی بھی ادبی شخصیت کی پہلی  تصنیف  ہے ۔
یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ اس  فلاحی ادارے نے اشاعت کے میدان میں قدم رکھتے ہی بہت ہی قلیل مدت میں درجن بھر معیاری کتب  کی اشاعت کی  ہے۔ پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام شائع ہونے والی ایک   کتاب ” بیتے ہوئے دن کچھ ایسے ہیں” جسے خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والی مایہ ناز  ادبی شخصیت محترمہ نصرت نسیم   نے تخلیق کیا ہے  2021 کا اباسین ادبی ایوارڈ  حاصل کر چکی ہے۔ یہ اعزاز  مصنفہ کے ادبی قد کے ساتھ ساتھ  پبلشر کے معیار کا  بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔
"سپتک” کا  سرورق  اس کے نام کی طرح بے شمار رنگوں سے مزّین ہے۔ اس کتاب کی تزئین و آرائش کہنہ مشق  آرٹ ڈیزائنر سید ابرار گردیزی نے کی ہے ۔بلاشبہ  یہ کمال درجہ کا   آرٹ ورک ہے۔ حسن طباعت ایسا کہ کتاب ہاتھ میں لیتے ہی انگلیاں خود بخود ہی  چمکیلے سرورق پرپھسلنے کے لیے یوں مچلنے لگتی ہیں  گویا اچانک کسی   عاشق نامراد کے سامنے حسن عالم تاب محبوب  کا ریشمی پیرہن آگیا ہو۔
فوزیہ رِدا کی شاعری موضوعاتی اعتبار سے   نازک رومانوی  و جمالیاتی احساسات اور جواں جذبوں  کی ترجمانی کرتی ہے ۔ان کے کلام میں  سماجی ناہمواریوں اور معاشرتی مسائل پر بھی لب کشائی  نظر آتی ہے ۔ شاعری میں  تسلسل کے ساتھ  جن کیفیات کا تذکرہ ملتا ہے  وہ  رومانوی شعرا کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔   مثلاً   محبت، عشق و وفا، کیف و مستی،  چاہت ، بےخودی ، رنج و الم ، بے وفائی، کرب  وغیرہ۔  تاہم وہ ان نازک لمحات کی تصویرکشی کرتے ہوئے ایک لمحے کے لیے بھی اپنی قائم کردہ حدود سے تجاوز نہیں کرتی ہیں۔اور یہی ایک بات ان کے کلام  کو انفرادیت ، سنجیدگی، متانت اور  پاکیزگی عطا کرتی ہے۔
فوزیہ رِدا   رومانوی شاعرہ ہو کر بھی اپنے تہذیبی و ثقافتی  ورثے کو سینے سے لگا کر رکھنے والی تخلیق کار دکھائی دیتی ہیں۔  عشق و محبت ، درد ، وصل ، ہجر اور فراق کی کیفیات پر انہوں  نےبہت ڈوب کے لکھا ہے اور انتہائی شائستہ   لہجے میں بات کی ہے۔ سپتک کی تخلیق کار اپنے تشخّص کی شناخت کے سفر میں خود بینی و خود شناسی کے مرحلوں سے ہوتی ہوئی خودی اور شعور ذات کی منازل اتنی سہولت سے طے کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ قاری دم بہ دم ان دلنواز کیفیات کو  خود بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔
حسن کی آن بان چلتی رہے
بے خودی بے تکان چلتی رہے
آگہی بال و پر کو ملتے ہی
بے تحاشا اڑان چلتی رہے
فوزیہ اپنے تخلص  سے بھی تخلص برت لیتی ہیں  اور  ایک ہی تخلص سے چپک کے رہنے والی شاعرہ نہیں ہیں۔ فوزی ، فوزیہ ، رِدا   تو ان کی شاعری میں جابجا ملتا ہی ہے، کبھی کبھار فوزیہ اختر بھی لکھا  ملتا ہے۔ فوزیہ رِدا ایک حساّس، باشعور، اور رسم و رواج سے آشنا تخلیق کار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ ۔
ان کے پاس ایثار و قربانی جیسے  نسائی  جذبے  تخلیقی ہنر کے ساتھ مل کر کرب و آگہی کی بھٹی میں کندن بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ خاص طور پر ان کی  غنائیہ شاعری میں  سرور آگیں   غنائی وجدان اس اوج خیال کی عکاسی کرتاہےجس تک پہنچنے کے لیے بعض شعرا کو عمر بھی ناکافی ہوتی ہے۔  پُر اعتماد لہجہ ان کی تجزیاتی سوچ کابھی آئینہ دار ہے۔
مختصر بحر میں تو انہیں کمال حاصل ہے۔ چند اشعار اتنے مختصر ہیں کہ محض تین الفاط جوڑکرمصرعہ جڑ لیتی ہیں۔مثال کے طور پر :
قصہ عجیب ٹھہرا
دشمن طبیب ٹھہرا
فوزیہ ردا کے بقول ان کا تخلیقی سفر نثر سے شاعری کی جانب بڑھنے سے قبل تجربے کی سنگلاخ وادیوں سے ہوکر گزرا ہے۔ "زندگی کے نشیب و فراز سے نڈھال” ہونا ایک فطری عمل ہے ۔ تاہم اگر مشاہدہ گہرا، تخّیل آزاد اور جذبے سچے نہ ہوں تو مشق سُخن سعی لاحاصل کے سوا کچھ نہیں ہے۔ فوزیہ کے کلام میں مشاہدے کی گہرائی ، ارفع خیالات اور سچے جذبوں کا سیدھا سادا اظہار ملتا ہے۔ رِدا کی شاعری مترنم ہی نہیں بلکہ خود اپنی ہی مغنیّہ بھی ہے ۔ ان کے پاس بحر اور ترنم کا  خوبصورت میلاپ جابجا دکھائی دیتا ہے۔ ایک مثال یہ ہے کہ :
اشکوں کے سمند ر میں کنارے نہیں ملتے
اب ڈوبنے والے کو سہارے نہیں ملتے
ملنے کے بھی آثار تمہارے نہیں ملتے
سچ ہے کہ محبت میں ستارے نہیں ملتے
ان کی  شاعری میں عشق و محبت کے نغمے ہی نہیں بلکہ معاشی جبر، معاشرتی ناہمواریوں اور سماجی تفاوت کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔
غربت تڑپ اٹھی کھلونوں کو دیکھ کر
بچپن کو آج پھر سے بھلانا پڑا مجھے
اسی طر ح یہ شعر دیکھیئے :
لے کے کپڑوں کی آس پھرتا ہے
بیچتا جو کپاس پھرتا ہے
رِدا کی شاعری تیکنیکی اعتبار سے لفظی توازن و تناسب کی بہترین مثال ہونے کے ساتھ ساتھ معنویت کے اسلوب سے آراستہ ہے۔ ان کے ہاں جذبہ عشق اپنی تمام تر رعنائیوں کے باوجود گمراہی یا بے راہ روی کے بجائے رجائیت ، تہذیب، شائستگی اور خیالات کی پاکیزگی کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔
امید ہے وہ آئے گا اجلی سحر کے ساتھ
تکتی ہوں اس کی راہ سوالی نظر کے ساتھ
اور
مقبول میری کشف و کرامات ہو گئی
دل کے حرم میں نور کی برسات ہو گئی
بے ساختگی ، نغمگی، غنایت ، روانی، تسلسل، دلسوزی ودردمندی، ان کی غنائیہ شاعری کو منفرد مقام پر فائز کرتی ہے۔  ڈاکٹر مقصود جعفری  کی رائے نے فوزیہ رِدا کی شاعری کے جُملہ اوصاف کو انتہائی دیانت داری سے بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ  ” فوزیہ رِدا کی شاعری میں مشرقی نسائیت اور احترام عشق  اور وقار ِ وفا ہے۔ وہ مغرب زدہ شاعرات کی طرح شاعری میں آزادی کے نام پر بے راہروی، ہوس پرستی  اور بےحیائی کا پرچار نہیں کرتیں۔ مشرقی روایات کا انہیں پاس ہے۔ ”
ایک جلتے بدن کی ناؤ پر
آنکھ ٹھہری رہی الاؤپر
اس درج ذیل شعر میں دیکھیئے کی رِدا کس ادا سے نہ صرف محبت کے پُل صراط کا نقشہ کھینچ رہی ہیں بلکہ محبوب اور محب دونوں کی لاج بھی رکھ لیتی ہیں۔
میں "من و تو” سنبھالتی کیسے
آپ اٹکے ہوئے تھے واؤپر
فوزیہ رِدا کی شاعری میں ان کے نام کی مناسبت سے سنجیدگی، متانت، بُردباری، شائستگی اور خیالات کی پُختگی  ملتی ہے۔ اور شاعرانہ مزاج کہیں بھی عامیانہ روش اختیار کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ بلکہ  بقول نیلم بھٹی  ” فوزیہ بہت سادگی اور برجستگی سے نسائی جذبات کا اظہار کرتی ہیں "۔  اور مختار یوسفی نے اپنے تبصرے میں بہت خوب  لکھا ہے کہ ان کی شاعری اردو ادب میں ایک خوشگوار جھونکے کی مانند ہے۔ دعا  ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلم و ہنر میں مزید ترقی عطا فرمائے  اور یہ  علم و  ادب کے چمن کی یونہی آبیاری کرتی رہیں۔  آمین

You may also like

Leave a Comment