سنّاٹے بول اٹھے (افسانوی مجموعہ)

مصنف: ڈاکٹر بی۔ محمد داؤد محسن
ضخامت: 291
صفحات۔ قیمت 220 روپے
ناشر: ادبستان پبلی کیشنز، دہلی

تبصرہ : نوشاد منظر، ،نئی دہلی

ڈاکٹر بی۔ محمد داؤد محسن کی شناخت نقاد، شاعر اور افسانہ نگار کی ہے۔تنقید کے حوالے سے ان کی دو کتابیں ’نقد و نظریات‘ اور’نقد و بصیرت‘ کے علاوہ شعری مجموعہ ’سواد شب‘ کے ساتھ افسانوں کا مجموعہ ’سنّاٹے بول اٹھے‘ منظر عام پر آچکی ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب”سنّاٹے بول اٹھے“ڈاکٹر بی۔ محمد داؤد محسن کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ اس مجموعے کی اشاعت ۲۱۰۲ میں ہوئی ہے، اس کتاب میں پندرہ افسانوں کے علاوہ افسانہ نگار کا پیش لفظ بعنوان ”افسانے کے جواز میں“ بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر بی۔ داؤد محمد محسن کی افسانہ نگاری کے متعلق چار تنقیدی مضامین ”صالح قدروں کا نقیب: ڈاکٹر داؤد محسن“(پروفیسر م۔ن سعید)، ”وقائع رنگ افسانے“ (آفاق عالم صدیقی)، ”حقیقت پسند افسانہ نگار: داؤد محسن“(سر قاضی سید قمر الدین قمر) اور ڈاکٹر غضنفر اقبال کا مضمون ”ڈاکٹر داؤد محسن کے افسانے“ اس کتاب میں شامل ہیں۔
زیر نگاہ کتاب ”سنّاٹے بول اٹھے“میں شامل پہلا افسانہ ”اڑواڑ“ ہے۔افسانے کا موضوع بہت اہم ہے۔ افسانہ نگار نے ایک ایسے موضوع پر خامہ فرسائی کی ہے جس کی طرف عموماََ بہت کم لوگوں کا دھیان جاتا ہے۔ اس کی کہانی ایک غریب متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے سری کانت کے ارد گرد گھومتی ہے۔غربت کے باوجود بی اے کی تعلیم حاصل کرنے والا سری کانت اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ وہ اپنی تعلیم جاری رکھنا تو چاہتا ہے مگر والدین کی مالی تنگی سے مجبور ہوکر فوج میں بھرتی ہوجاتا ہے، حالانکہ سری کانت کے والدین کو گرچہ یہ نوکری پسند نہیں تھی مگر مجبوری نے انھیں بھی خاموش کردیا۔سری کانت پہلی چھٹی میں گھر واپس آتا ہے تو اس کی شادی نرملا نام کی خوش اخلاق،خوش مزاج اور امیر باپ کی بیٹی سے کردی جاتی ہے۔ نرملا اپنے شوہر،ساس اور سسر سب کا بڑا خیال رکھتی ہے۔چند دنوں بعد ایک طرف نرملا حاملہ ہوتی ہے تو اس کے چند ہی دنوں بعد سری کانت سرحد پر دشمنوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوجاتا ہے۔سری کانت کی اچانک موت سے گھر بلکہ پورے گاؤں پر ماتم کا ماحول چھا گیا۔نرملا کی تو جیسے دنیا ہی اجڑ گئی۔خیر حکومت کے لوگ آتے ہیں نرملا کو معاوضہ دیا جاتا ہے۔کہانی آگے کا سفر جاری رکھتی ہے،آہستہ آہستہ نرملا کے مزاج میں عجیب سی تبدیلی نظر آتی ہے۔یہ تبدیلی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ ایک دن وہ نہ صرف اپنا حمل ضائع کردیتی ہے بلکہ اپنے متعلقین کی فکر کیے بغیر وہ تمام روپے پیسے اور زیورات لے کر گھر سے فرار ہوجاتی ہے۔کسی کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ نرملا کہاں ہے کیسی ہے کہ اچانک ایک دن سری کات کے باپ کو یہ خبر ملتی ہے کہ نرملا نے شہر کے اُس امیر آدمی سے شادی کرلی ہے جس نے سری کانت کی موت پر بطور مدددو لاکھ روپے اسے دیے تھے۔اس خبر کے سنتے ہی سری کانت کا باپ مرجاتا ہے اور کہانی ختم ہوجاتی ہے۔افسانہ نگار نے کہیں بھی اپنا نقطہ نظر واضح نہیں ہونے دیا ہے۔ انھوں نے نرملا کی شکل میں ایک ایسے کردار کو پیش کیا ہے جو ہر لحاظ سے مہذب اور شریف ہے مگر وقت سے پہلے بیوہ ہوگئی ہے۔ایک جوان عورت جس کی چند دنوں پہلے شادی ہوئی تھی اس کی حالت شوہر کے موت کے بعد کیسی ہوجاتی ہے؟افسانہ نگار عورت کی اس کربناک اور تکلیف دہ زندگی کی طرف اشارہ کیا ہے جو عموماََ بیوہ عورتیں محسوس کرتی ہیں۔یہ کہا نی سماج کی بدلتی ہوئی تصویر کو بھی پیش کرتا ہے۔مرد کو اپنی بیوی کی موت کے بعد دوسری شادی کرنے کی اجازت ہے مگر عورتوں کو نہیں۔مذکورہ کہانی اسی سماجی جبر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
زیر تبصرہ افسانوی مجموعے کا ایک افسانہ”عکس در عکس“ہے۔ اس افسانے کا محور و مرکز بے روز گاری ہے۔افسانے کا مرکزی کردار ایک غریب شیخ احمد عرف شیخو ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے۔شیخ احمد نے بڑی مشکلوں کے بعد اچھی تعلیم حاصل کی تھی، سب کے ساتھ اسے بھی امید تھی کہ تعلیم کے بعد اسے اچھی نوکری مل جائے گی اور اس کی پریشانیاں ختم ہوجائیں گی۔مگر اس کے برعکس جب وہ نوکری کے لیے جاتا ہے تو اسے ہر طرف ناامیدی ہی ملتی ہے، نوکری دینے کے لیے رشوت مانگی جاتی ہے،سفارش کے متعلق سوال کیے جاتے ہیں۔شیخ احمد کے پاس نہ تو اتنے پیسے تھے کہ وہ رشوت دے سکے اور نہ ہی کسی بڑے آدمی کی سفارش، لہذاہر جگہ وہ ناکام ہوجاتا ہے۔لگاتار ناکامی اور غربت کی وجہ سے شیخ احمد اپنا توازن کھو دیتا ہے۔لوگ اسے پاگل خانے میں داخل کردیتے ہیں۔پاگل خانے میں کئی دوسرے لوگ بھی ہیں جو سماجی جبر کی وجہ سے پاگل ہوگئے ہیں۔اس افسانے کو پڑھ کر منٹو کا شہرۂ آفاق افسانہ ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“کے کردار کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔محمد داؤد محسن نے اپنے افسانے میں ’ٹوبی ٹیک سنگھ کی کہانی کو ایک نئے پیرائے میں پیش کیا ہے۔

زیر تبصرہ کتاب میں شامل ایک افسانہ ”سنّاٹے بول اٹھے“ ہے، جو اس مجموعے کا عنوان بھی ہے۔اس کہانی کا محور و مرکز مختلف موقعوں پر رونما ہونے والے فسادات ہیں۔ یہ فسادات ہمارے ملک کے لیے کس قدر خطرناک ہیں اس کا احساس ہر حساس آدمی کو ہے۔آزادی کے بعد مسلسل رونما ہورہے فسادات نے اس ملک کی ترقی میں جو رکاوٹ پیدا کرنے کا کام کیا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ان فسادات کی پاداش میں کڑوڑوں روپے کا نقصان اور ہزاروں جانیں ضائع ہوچکی ہیں،مذہب کے نام پر جس قدر منافرت پھیلائی جارہی ہے اس سے دونوں مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان بھروسہ اور اعتماد کی کمی آئی ہے۔ان فسادات کے پیچھے ایک گندی سیاست کار فرما رہی ہے۔ڈاکٹربی۔محمد داؤد محسن نے اپنے مذکورہ افسانے کے ذریعے اس نکتے کو پیش کیا ہے کہ آخر ان بلوائیوں کی ہمت افزائی کیسے اور کون کررہا ہے کہ وہ بآسانی لوگوں کا خون بہاتے ہیں؟ دراصل اس نفرت کے پیچھے ہمارا سیاسی نظام اور قانون کو نافذ کرنے والے لوگ ہیں۔سیاست دان نفرت پھیلا کر حکومت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور پولیس والے ان مجمرموں کو سزا دلوانے کے بجائے ان کا ساتھ دیتی ہے۔ افسانہ ”سنّاٹے بول اٹھے“ کے ذریعے ڈاکٹر محسن نے فسادات کے پیچھے کی حقیقت کو پیش کیا ہے،افسانہ نگار نے اس امید کو بھی پیش کیا ہے کہ عوام کا بڑا طبقہ آج بھی میل جول اور اتحاد کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔

زیر نظر افسانوی مجموعہ”سنّاٹے بول اٹھے“ میں کئی اور افسانے شامل ہیں۔بیشتر کہانیوں کا تعلق ہماری روز مرہ کی زندگی اور فرسودہ سماجی نظام سے ہے، سسکتی تہذیب،بھوک،آوارہ کتے، مراجعت اور نصیب اپنا اپنا چند ایسے افسانے ہیں جن پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر بی۔ داؤد محسن نے جس خوش اسلوبی اور ایمانداری کے ساتھ یہاں کی گندی سیاست، فسادات، بھوک، نفرت وغیرہ کو افسانوں میں پیش کیا ہے وہ لائق تحسین ہےـ کتاب کی طباعت اچھی اور دیدہ زیب ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*