سنجے راوت نے یوپی،بہار میں آبادی کنٹرول کی حمایت کی،کہا-یہاں کی آبادی کا اثر دوسری ریاستوں پر پڑتا ہے

ممبئی: یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کچھ دن پہلے ہی اتر پردیش پاپولیشن پالیسی 2021-2030 جاری کی تھی۔ اس دوران انہوں نے کہا تھا کہ بڑھتی آبادی معاشرے میں پائے جانے والے عدم مساوات اور دیگر مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔ آبادی پر قابو پانا معاشرہ کی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔ اسی کڑی میں اب شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت نے یوپی سرکار کی اس آبادی پالیسی کی مشروط حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی یوپی میں نافذ ہونے والی آبادی پالیسی کے اثرات کا تجزیہ کرے گی ،اور پھر اس پر قومی سطح پر بحث کے لئے غور کرے گی۔ شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے کہا کہ اسے اس لئے پیش نہیں کیا جانا چاہئے کہ انتخابات قریب ہیں۔ان کے دعویٰ کے مطابق یوپی اور بہار کی بڑھتی آبادی کا اثر دیگر ریاستوں پر بھی پڑتا ہے۔ گذشتہ اتوار کو یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے آبادی پالیسی پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ریاست میں آبادی کے اضافہ پر روک لگنے میں مدد ملے گی، ساتھ ہی زچگی اور بچوں کی اموات میں بھی کمی واقع ہوگی۔آبادی پالیسی کے مطابق جو بھی شخص یوپی میں دو بچوں کی پالیسی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا ، اسے بلدیاتی انتخابات لڑنے ، سرکاری ملازمتوں کے لئے درخواست دینے ، فلاحی اسکیموں اور کسی بھی طرح کی سرکاری سبسڈی سے محرو م کیا جاسکتا ہے ۔