ثناء خان،توبہ،نکاح اور مولوی-ثناءاللہ صادق تیمی

برصغیر کی سطح پر تین میدانوں سے منسلک افراد جلد شہرت کی بلندی کو چھولیتے ہیں ۔ فلم ، کرکٹ اور سیاست ۔فلم براہ راست ماس میڈیا سے جڑی ہوئی ہے اس لیے اس سے منسلک لوگوں کو شہرت تو بہت ملتی ہے لیکن ساتھ ہی کئی سطحوں پر انہیں ناپسند بھی کیا جاتا ہے ۔ فلمیں تفریح کے ساتھ ساتھ جہاں بہت سے قومی اور بین الاقوامی معاملات پر روشنی ڈالتی ہیں وہیں زیادہ تر فلموں سے ایسی چيزیں سامنے آتی ہیں جنہیں بہر حال آسانی سے مثبت نہيں کہا جاسکتا ۔ بطور خاص بے حیائی اور عریانیت کو عام کرنے میں فلموں کا اپنا کردار رہا ہے ۔دینی تفریق سے قطع نظر آج بھی مہذب گھرانوں میں فلموں کو لے کر احساس تحفظ ہی پایا جاتا ہے ۔ لوگ فلم بینی کو نادرست سمجھتے ہيں اور ان میں کام کرنےوالوں کو بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھتے ۔ پہلے کے مقابلے میں ایسی لوگوں کی تعداد گھٹی ضرور ہے لیکن آج بھی یہ کیفیت سماجی سطح پر برقرار ہے ۔
مردوں کے بارے میں تو پھر بھی ایک قسم کی لچک پائی جاتی ہے لیکن خواتین کے بارےمیں سماج تھوڑا زیادہ ہی حساس واقع ہوا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی خاتون فلمی دنیا سے الگ ہوتی ہے اور اپنی الگ دنیا بسانے کا اعلان کرتی ہے تو اس کا خیر مقدم ہی کیا جاتا ہے بطور خاص اگر اس نے اس فیصلے کے پیچھے کوئی مذہبی وجہ بھی بیان کی ہو تو دیکھتے دیکھتے ایک منظر خلق ہوجاتا ہے ۔پچھلے دنوں زئرہ وسیم کے بعد ثناءخان کے اسی قسم کے فیصلے نے اچھا خاصا میڈیائی ہنگامہ برپا کیا تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں خاتون اداکار نے مذہبی اسباب کے پیش نظر یہ فیصلہ لیا اور الحمد للہ دونوں کے فیصلے نہ صرف یہ کہ سوچے سمجھے اور پائیدار ثابت ہوئے بلکہ بہت سے لوگوں کے لیے مشعل راہ بھی رہے ۔ زائرہ وسیم داعیانہ اسپرٹ کے ساتھ لگاتار متحرک نظر آرہی ہیں تو ادھر ثناءخان کا رویہ بھی کچھ ایسا ہی رہا ہے بلکہ ایک عالم دین مفتی صاحب سے نکاح کرکے انہوں نے اپنے فیصلے کو اور بھی مستحکم کرلیا ہے ۔ اللہ پاک انہیں ثابت قدم رکھے اور بہت سی دوسری بہنوں کو اس چکاچوند کی دنیاکے فریب سے بچنے کا انہیں ذریعہ بنادے آمین۔
لیکن بہت سے مولویوں سے ایک مولوی کی یہ” خوش قسمتی ” دیکھی نہیں جارہی ۔ جس ثناءخان کی توبہ سے یہ بہت خوش تھے اسی ثناء خان کی شادی سے خاصے پریشان نظر آرہے ہیں ۔ ایسی ایسی باتیں سوشل میڈیا پر لکھ رہے ہیں کہ مت پوچھیے ۔ بعض ویڈیوز پیغام اپلوڈ کرنے سے بھی باز نہيں آرہے ۔رویہ ایسا ہے کہ یا تو ان کا حسد سامنے آرہا ہے یا پھر عجیب وغریب قسم کی بدتہذیبی ۔ یہ بے چارے اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اگر آپ مذاق اڑارہے ہیں تو ایسے مواقع سے مذاق نہیں اڑایا جاتا دعائیں دی جاتی ہیں اور اگر آپ کو جلن ہے تو جاکر اپنا سرپھوڑیے اپنی ناقص تربیت کا اظہار کیوں کررہے ہیں ۔توبہ کرنے والوں کو اللہ بخش دیتا ہے لیکن مذاق اڑانے والوں کا انجام کیا ہونے ہونے والا ہے ، اس پر بھی غور کرنا چاہیے ۔
علماء کے جس طبقے سے عوام کوروشنی کی طلب ہے ، جن کا کام دنیا تک اسلام کے عظیم پیغام کو پہنچانا ہے ، جو انبیاء کے وارث ہیں اور جن سے خیر کے سوتے پھوٹنے چاہیے ۔اگر ان کے رویے ایسے ہیں تو سمجھا جاسکتا ہے کہ اندھیرا کیسا پھیلا ہوا ہے ۔ چوں کفر از کعبہ بر خيزد کجا ماند مسلمانی ؟
سوشل میڈیا نے واقعی بہت سے پردے اٹھا دیے ہیں ۔ لکھا ہوا لفظ اندرون کا اظہاریہ ہے ۔ یہ چغلی ہی نہیں کھاتا مکمل فوٹو کھینچ کرسامنے رکھ دیتا ہے ۔یہ مذاق ، ٹھٹھا ، لطیفے ، مستی اور طنز وتعریض کے تیر بتارہے ہیں کہ خود ارباب اصلاح و دعوت کو کس قدر اصلاح و دعوت کی ضرورت ہے ۔ ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفر لنا و ترحمنا لنکونن من الخاسرین ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*