سماج وادی پارٹی کارکن نیہا راج نے صدر جمہوریہ کو خون سے خط لکھا،اعظم خان کی رہائی کی اپیل

رامپور:( ذیشان مراد علیگ ) محمد علی جوہر یونیورسٹی کے بانی و چانسلر اور رکن پارلیمنٹ محمد اعظم خان حکومت کی انتقامی کارروائی کا شکار ہو کر گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصہ سے سیتاپور جیل میں قید ہیں۔گزشتہ دنوں ان کی صحت غیر مستحکم ہونے کے سبب 9 مئ کو لکھنؤ کے میدانتا اسپتال میں داخل کرایا گیا۔۔ جہاں ان کی حالت تشویشناک ہے۔ محبان اعظم کے ذریعہ اپنی اپنی طرح سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی ضمن میں آج سابق نامزد رکن میونسپل بورڈ و وکی راج ایڈوکیٹ کی اہلیہ نیہا راج نے صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کوند کو اپنے خون سے خط لکھ کر اعظم خان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ محمد اعظم خان جو غریبوں اور مظلوموں کے مسیحا ہیں یہ بے قصور ہیں اور انہیں سیاسی رنجش کی بنیاد پر پھنسایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی زیر سرپرستی انتہائی سنگین جرائم کے مجرم آزاد گھوم رہےہیں جبکہ ایک ایماندار اور عوام کے خیرخواہ لیڈر کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔ یہ انتہائی شرمناک بات ہے۔ نیہا راج نے مزید کہا کہ محمد اعظم خان نے سماجی اصلاحات اور تعلیم کے میدان میں اہم خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ اترپردیش بالخصوص رامپور کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے خلاف تعصب کی بنیاد پر کاروائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعظم خان جیسا لیڈر ہزاروں سال میں پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کوند سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے محمد اعظم خان کی رہائی کا حکم صادر کریں۔