سماجی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کا اسوہ -ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سورہ احزاب ( آیت نمبر ۲۱)میں کہا گیا ہے : یقینا اللہ کے رسول ﷺ میں تمہارے لیے ایک اچھا نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے۔ ‘‘ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی زندگی کو مسلمانوں کے لیے اسوہ قرار دیا ہے ۔ ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی صرف مسلمانوں کے لیے ہی اسوہ نہیں ہے ، بلکہ پوری انسانیت کے لیے اس میں ایک اچھا نمونہ موجود ہے۔
کوئی شخصیت کن بنیادوں پر اسوہ بن سکتی ہے؟ اس موضوع پر علامہ سید سلیمان ندویؒ کی ایک بڑی قیمتی تحریر ہے۔ سیرت نبوی پر ان کی ایک کتاب ’ خطبات مدراس ‘ کے نام سے ہے۔ یہ ان کے آٹھ موضوعات پر لیکچر کا مجموعہ ہے ۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی شخصیت اگر اسوہ بن سکتی ہے تو اس میں چار شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی نہیں پائی جائے گی تو وہ شخصیت اسوہ نہیں بن سکتی۔ پہلی شرط انہوں نے بیان کی ہے تاریخیت، یعنی اس شخص کا تاریخی ہونا ضروری ہے۔ دوسری شرط ہے کاملیت ، یعنی اس شخص کی پوری زندگی ، پیدائش سے لے کر وفات تک، لوگوں کی نظروں میں ہونی چاہئے اور اس کی تمام تفصیلات سے لوگوں کو باخبر ہونا چاہئے۔ تیسری شرط ہے جامعیت، یعنی اس شخص نے تمام انسانی طبقات کے لیے رہ نمائی پیش کی ہو۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ ہو، اس کی زندگی میں ایسی مثالیں موجود ہوں جن پر وہ عمل کرسکتا ہو اور ان کو اختیار کرسکتا ہو۔ چوتھی چیز ہے عملیت، یعنی وہ شخصیت ایسی ہو جس نے صرف اچھی اچھی باتیں ہی نہ پیش کی ہوں، محض لفاظی نہ کی ہو، فلسفہ ہی نہ پیش کیا ہو، بلکہ جو باتیں کہی ہوں، ان پر خود عمل کرکے دکھایا ہو۔ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے بہت تفصیل سے لکھاہے کہ پوری دنیا میں اور پوری انسانی تاریخ کا اگر ہم جائزہ لیں تو واحد شخصیت اللہ کے رسول ﷺ کی نظر آتی ہے، جس میں یہ چاروں شرائط پائی جاتی ہیں۔
اللہ کے رسول ﷺ کی واحد ذات ایسی ہے جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ لوگوں نے محفوظ کیا ہے۔ آپ کیسے چلتے تھے؟ آپ کیسے کھاتے تھے؟آپ کیسے پیتے تھے؟ آپ کیسا لباس پہنتے تھے؟ آپ کا چہرہ مہرہ کیا تھا؟ لوگوں سے آپ کے معاملات کیسے تھے؟ آپ کی تمام حرکات و سکنات اور آپ کی تمام سرگرمیوں کو لوگوں نے محفوظ رکھا ہے اور آپ کی پوری شخصیت ہمارے سامنے موجود ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی میں انسانوں کے تمام طبقات کے لیے واضح رہ نمائی موجود ہے۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ ہو، اس کو یہ معلوم کرنا ہو کہ میں کیسے زندگی گزاروں تو اللہ کے رسول ﷺ کی ذات گرامی میں اس کے لیے واضح رہ نمائی ہے۔ آپ ؐ نے صرف تعلیمات ہی نہیں پیش کی ہیں، بلکہ جو باتیں آپ نے کہی ہیں، ان پر خود عمل کرکے دکھایا ہے ۔ چنانچہ سماجی زندگی کے ایک ایک پہلو پر اگر آپ ؐ کے ارشادات اور اقوال ہیں تو خود آپ نے ان پر عمل کرکے بھی دکھایا ہے۔
ہم سماجی زندگی کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ کی تعلیمات کو دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں : اول یہ کہ سماج کے مختلف افراد کے بارے میں آپؐ نے کیا تعلیمات دی ہیں؟ اور ان کے معاملے میں آپؐ کا کیا اسوہ ہے؟ دوم یہ کہ سماجی زندگی کی جو بنیادی قدریں ہیں، ان کا آپ کی تعلیمات میں کیا تذکرہ ملتا ہے؟ ۔ سماج کی تشکیل خاندان سے ہوتی ہے اور خاندان نکاح کے ذریعہ مرد وعورت کی یکجائی سے وجود میں آتا ہے۔ گویا خاندان کے بنیادی اجزاء ہیں میاں بیوی ، والدین اور اولاد۔ پھر یہ دائرہ اور زیادہ وسیع ہوتا ہے تو اس میں رشتہ دار ، پڑوسی ، مہمان ، عام مسلمان ،پھر عام انسان شامل ہوجاتے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے سماج کے ان تمام اجزاء کے بارے میں واضح تعلیمات دی ہیں اور آپؐ کا عملی نمونہ بھی ہماری رہ نمائی کرتا ہے۔ والدین کے حقوق ادا کرنے کے معاملے میں ہمارے یہاں بڑی کوتاہی پائی جاتی ہے۔ مغربی معاشروں کو جانے دیجئے ،جہاں یہ رشتہ کم زور ہوگیا ہے، تمام ممالک میں اولڈ ایج ہوم قایم ہوگئے ہیں۔ خود ہمارے ملک ہندوستان میں کئی ہزار اولڈ ایج ہوم ہیں۔ بہت سے لوگوں کی اولاد موجود ہوتی ہے، لیکن وہ ان کے حقوق سے اتنی غافل ہوتی ہے کہ انہیں اپنے بڑھاپے میں اولڈ ایج ہوم میں ہی عافیت محسوس ہوتی ہے۔ افسوس ہوتا ہے کہ اولڈ ایج ہوم میں جانے والے صرف غیر مسلم ہی نہیں ہیں۔ بلکہ مسلمانوں کی تعداد بھی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے ۔ ازدواجی تعلقات میں بھی ہمارے درمیان بہت زیادہ بے اعتدالی پائی جاتی ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کی اس سلسلے میں بھی غیر معمولی تعلیمات ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا’’ تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اپنی بیویوں سے تعلقات بہترہیں اور میں تم میں سب سے بہتر ہوں اہل خانہ سے تعلقات کے معاملہ میں ‘‘( ترمذی ۳۸۹۵)۔
خطبہ حجۃ الوداع کو حقوق انسانی کا چارٹر کہا جاتا ہے، اس لیے کہ اس میں اللہ کے رسولﷺ نے انسانی سماج کے بارے میں بہت تفصیل سے ہدایات دی ہیں۔ خاص طور سے اس میں آپ ؐنے عورتوں کا تذکرہ کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’ عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا زیردست بنایا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم ان کو ستائو، انہیں تکلیف پہنچائو، بلکہ اللہ تعالیٰ کی تاکید یہ ہے کہ تم ان کے تمام حقوق ادا کرو( ابن ماجہ: ۱۸۵۱)۔ سماجی زندگی کا ایک مظہر اولاد سے محبت ہے۔ بچوں سے محبت کی بڑی دل کش مثالیں اللہ کے رسولﷺ کی زندگی میں ملتی ہیں۔ حضرت حسن ؓ اورحضرت حسین ؓ آپ ؐ کے نواسے تھے۔ نواسوں سے تو آدمی محبت کرتا ہی ہے۔حضرت زیدؓ آپ ؐ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ان کے بیٹے اسامہؓ تھے۔ آپ ان سے بھی اتنی ہی محبت کرتے تھے، جتنی حضرت حسن ؓ اور حضرت حسینؓ سے کرتے تھے۔ متعدد صحابہ نے بیان کیاہے کہ آپ ؐ ایک زانو پر حسنؓ یا حسینؓ کو تو دوسرے زانو پر اسامہ ؓ کو بٹھاتے تھے۔ حضرت اسامہ کا لقب ہی یہ ہوگیا تھا’’ الحب ابن الحب‘‘ یعنی محبوب کا بیٹا محبوب۔ یہ وہ شخص ہے جو اللہ کے رسول کو محبوب ہے اور اس کا باپ بھی آپ ؐ کو محبوب تھا۔
ایک صحابی اللہ کے رسولﷺ کی خدمت میں آئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ آپ ؐ ایک بچے کو گود میں لیے ہوئے ہیں اور اس کا بوسہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ میرے دس بچے ہیں۔ میں نے تو کبھی ان کا بوسہ نہیں لیا ۔ اللہ کے رسولؑ نے فرمایا :’’ اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کرسکتا ہوں‘‘۔ ایک عورت مانگنے آئی۔ اس کے ساتھ دو بچیاں تھیں۔ حضرت عائشہؓ نے اس کو ایک کھجور دی ۔ روایت میں ہے کہ اس عورت نے کھجور کے دو ٹکڑے کیے اور دونوں بچیوں کو دے دیا اور خود کچھ نہیں کھایا ۔ اللہ کے رسولﷺ تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے اس کا تذکرہ کیا ۔آپ ؐ بڑے متاثر ہوئے اور فرمایاــ کسی شخص کو ان لڑکیوں کی وجہ سے آزمایا جائے اور وہ ان کی صحیح پرورش و پرداخت کرے تو یہ لڑکیاں اس کے لیے جہنم کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی ‘‘( بخاری و مسلم )۔خاندان سے آگے کادائرہ رشتہ داروں کا ہوتا ہے۔ عام طور سے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے میں بڑی کوتاہی ہوتی ہے۔ اجنبی لوگوں کے ساتھ تو ہم بہت اچھا معاملہ کرتے ہیں، ان کو کچھ ڈھیل دیتے ہیں، ا ن کے ساتھ نرمی کرتے ہیں، ہنسی خوشی ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں لیکن رشتہ داروں کے ساتھ مختلف اسباب سے اتنی خوش گواری نہیں پائی جاتی ۔ اللہ کے رسولﷺ نے اس تعلق سے بھی بہت اہم ہدایات دی ہیں۔ کوئی رشتہ دار ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کرے تو ہم بھی اس کے ساتھ اچھائی کا معاملہ کریں، یہ تو برابری کا معاملہ ہوگیا۔ حضورﷺ نے فرمایا ’’ صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو بدلے میں کرے، بلکہ صلہ رحمی یہ ہے کہ رشتہ دار اگر کسی کے ساتھ برا سلوک کریں تو بھی وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے‘‘( بخاری: ۵۹۹۱)۔ایک صحابی نے اللہ کے رسولﷺ سے شکایت کی کہ اے اللہ کے رسولﷺ ! میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتائو کرتا ہوں، وقت ضرورت ان کے کام آتا ہوں، جب ان کو مال کی ضرورت ہوتی ہے تو مال دیتا ہوں، لیکن ان لوگوں کا رویہ میرے ساتھ اس کے برعکس ہے ۔ وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں، وقت ضرورت میرے کام نہیں آتے، جب مجھے مال کی ضرورت ہوتی ہے تو مجھے مال نہیں دیتے ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا ’’ اگر تمہاری بات صحیح ہے تو تم گویا ان کے چہروں پر گرم ریت مل رہے ہو اور جب تک تم اس حال میں رہوگے ، اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میں تمہاری مدد فرمائے گا‘‘ ( مسلم : ۲۵۵۸)۔ایک سماجی تعلیم ہے دوسروں کے کام آنا۔ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہماری ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچے۔ کام آنا کسی طرح کا بھی ہوسکتا ہے۔ چھوٹے سے چھوٹا کام کرکے بھی ہمیں خوشی محسوس ہونی چاہئے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*