سماج کو مذہبی بنیاد پر تفریق سے بچانے کی منصوبہ بندی کی جائے:امیر جماعت اسلامی ہند

نئی دہلی:جماعت اسلامی ہندکے امیر سید سعادت اللہ حسینی کی صدارت میں ایک ویبنار بعنوان ’’ 2020 انٹروسپکشن اینڈ دی وے اہیڈ‘‘ منعقد ہوا۔جس میں نائب امیر جماعت پروفیسر محمد سلیم انجینئر اور جماعت کے نیشنل سکریٹری ملک معتصم خان کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں دانشوران، صحافی، تجزیہ کاراور تاریخ کے ماہرین نے حصہ لیا۔ اس موقع پر امیر جماعت نے اپنے صدارتی بیان میں کہاہے کہ سال 2020 کئی وجوہات سے یاد رکھا جائے گا۔اس پورے سال کو جہاں ایک طرف کورونا نے ہنگامی بنائے رکھا ،وہیں سماج کو اس سے بھی زیادہ خطرناک تحفہ پولرائزنگ اور سماجی تفریق کی شکل میں ملا۔ کورونا تو ختم ہوجائے گا مگر سماج میں پولرائزنگ کی جو بنیاد رکھ دی گئی ہے ،وہ برسوں تک تکلیف پہنچاتی رہے گی۔حالانکہ پولرائزنگ کا تصور دنیا کے بہت سے ملکوں میں ہے مگر ہمارے ملک میں عروج پر ہے ،کئی ریاستوں میں لوجہاد کے نام پر آرڈیننس منظور کرنا، تبلیغ جماعت کو نفرت کا نشانہ بنانا اس کی واضح مثال ہے جس میں کسی ایک طبقے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔آنے والے سال میں ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہوگی اس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے مشترکہ جدو جہد کرنا۔گزرا ہوا یہ سال ہمارے لئے مصیبتوں اور پریشانیوں کا سال رہا۔ اس میں لاک ڈائون اورحکومت کی کمزور منصوبہ بندی نے قومی اقتصادیات کو بہت کمزور کیا۔ ہم نے اس سال کا آغاز سی اے اے کے خلاف تحریک سے کیا اور انتہا کسان آندولن سے کررہے ہیں ۔اس کا صاف مطلب ہے کہ یہ سال ہماری زندگی میں شورو ہنگامے اور بے چینیوں کا سال ثابت ہوا۔ پروفیسرمحمد سلیم انجینئر نے اپنے بیان میں سال ٹوینٹی ٹوینٹی اور نئے سال کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مل بیٹھ کر گزرنے والے سال کا سیاسی، سماجی اور اقتصادی جائزہ لینا چاہئے۔ جو سرگرمیاں ملک و قوم کی ترقی میں معاون بنی ہیں ان کو مزید بہتر بنانے اور جن سرگرمیوں سے نقصان پہنچا ہے ان سے بچنے کا لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے ۔سال 2020 میں ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی پر منفی اثرات کا غلبہ رہا اور سماجی منافرت کے ساتھ معاشی سطح پر بھی سخت چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سال مین اسٹریم میڈیا خاص طور پر الکٹرانک میڈیا کا بڑا حصہ سرکاری ترجمانی کا کام انجام دیتا رہا جبکہ میڈیا عوام اور حکومت کے درمیان سیڑھی کا کام کرتی ہے اور عوامی آواز کو حکومت تک پہنچاتی ہے مگر یہ حصہ سرکاری ترجمان بن کر رہ گیا۔البتہ سوشل میڈیا متبادل کے طور پر ابھری اور قومی صورت حال کی صحیح ترجمانی کی ۔حالانکہ یہاں بھی کچھ ذرائع نے منفی پروپیگنڈہ کا رویہ اختیار کیا مگر مجموعی طور پراس کا رویہ مثبت رہا۔ ویبنار کو خطاب کرتے ہوئے جناب جان دیال نے کہا کہ سال 2020 اقتصادی اعتبار سے تکلیف دہ رہا۔افسوسناک یہ ہے کہ حکومت نے اس کو دور کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ڈاکٹر ظفر الاسلام نے کہا کہ سال ٹوینٹی ٹوینٹی کئی معنی میں بے چین کرنے والا رہا۔ساڑھے تین ماہ تک اینٹی این آر سی تحریک چلی ، کورونا کے دوران مزدوروں کی نقل مکانی کا درد ملا،لاکھوں افراد کی اموات، چین کا ہماری زمین پر قبضہ جیسے تکلیفوں سے گزرنا پڑا۔ ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور کرکے آئندہ ان سے بچنے کی راہ تلاش کرنیہوگی۔جناب او پی شاہ نے کہا کہ مذکورہ سال میں جمہوریت کو سخت نقصان پہنچایا گیا ہے ۔عوامی رائے کے برخلاف جس طرح سے مدھیہ پردیش ، کرناٹک وغیرہ میں منتخب سرکار میں سیندھ لگائی گئی ،یہ جمہوریتپر چوٹہے۔جموں و کشمیر معاملے میں وہاں کے عوام کو اندھیرے میں رکھ کر 370 جیسے ایشو پر یکطرفہ فیصلہ لیا گیا ۔اس فیصلے سے پہلے انہیں اعتمادمیں لیناچاہیے تھا۔اس کے علاوہ متعدد شرکاء نے اپنی آراء آن لائن پیش کیں۔