آبادی کنٹرول پالیسی پر سلمان خورشیدکا ردِ عمل : پہلے یوگی کے وزرا بتائیں کہ ان کے کتنے قانونی اور غیرقانونی بچے ہیں

لکھنؤ:کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے یوپی میں آبادی کنٹرول بل کے حوالے سے متنازعہ بیان دے ڈالا ہے ۔ سلمان خورشید نے کہا کہ ریاست میں آبادی کنٹرول بل کو نافذ کرنے سے پہلے حکومتی لیڈران اور وزراء کو بتانا چاہیے کہ ان کے کتنے بچے ہیں، یہ بھی بتائیں کہ ان میں سے کتنے بچے’ غیر قانونی‘ ہیں۔ سلمان خورشید یوپی کے فرخ آباد میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔واضح ہوکہ اتوار کو عالمی یوم آبادی کے موقع پر اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے آبادی کنٹرول بل کا مسودہ پیش کیا۔ اِس بل میں ایک ایسی تجویز او رفراہمی کی گئی ہے کہ دو سے زیادہ بچوں والے جوڑے سرکاری ملازمت حاصل نہیں کرسکیں گے، نیزوہ کام کرنے والے افراد جن کے دو سے زیادہ بچے ہیں ، وہ تمام تر سہولیات سے محروم رہیں گے۔ دوسرے افراد جن کے دو سے زیادہ بچے ہیں ، لیکن وہ کام نہیں کررہے ہیں ، ان کیلئے کئی ساری سہولیات بھی بند کردی جائیں گی۔ وہیں سلمان خورشید نے حال ہی میں ختم ہونے والے یوپی پنچایتی انتخابات کے نتائج پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا اسے الیکشن نہیں کہا جاسکتا،بلکہ یہ جمہوریت کی قباچاک کرنا ہے۔ بی جے پی نے یوپی پنچایتی انتخابات میں زبردست جیت کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس دوران ریاست کے مختلف شہروں اور علاقوں میں انتخابات کو لے کر تشدد اور حملہ کے واقعات بھی منظرعام پر آئے ہیں۔