صالح اورباشعور قیادت کی ضرورت- محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

قوم کی طاقت اس کے اتحادمیں ہے اوریہ اتحاد اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اس قوم میں کوئی ایسا فرد نہ ہو، جواس اتحاد کوقائم کرے، اسی اتحادکو قائم کرنے والے کوبہ الفاظ دیگر’’قائد‘‘ کہاجاتاہے، اقوام وملل کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ جاہل سے جاہل اورتہذیب وتمدن سے کوسوں دوررہنے والی قوموں نے بھی اپنے آپ کوبغیرقائد کے رکھنا گوارانہیں کیا، ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے انتخاب کے طریقۂ کارمیں اختلاف رہاہے؛ لیکن قوم بغیرقائد کے نہیں رہی ہے۔

جوقوم بغیرقائد کے ہوتی ہے، وہ منتشرہوتی ہے، اس کے اندراختلاف کی بھرمارہوتی ہے، اس قوم کی مثال شتربے مہارکی سی ہوتی ہے، ہرایک کا راستہ الگ ہوتاہے، ہرایک کاگھاٹ جداہوتاہے، اس قوم پرطاقت ورقبیلہ کے لوگ ظلم بھی ڈھاتے ہیں، جفابھی کرتے ہیں، بیگاری کاکام بھی لیتے ہیں؛ لیکن جس قوم کاکوئی قائدہوتاہے، رہبرہوتاہے، وہ منتشر قوم نہیں ہوتی ہے، اس قوم پرطاقت ورقبیلہ بھی ظلم کرنے سے ڈرتاہے، اس کی واضح مثال خود ہماری تاریخ میں ملتی ہے،غزوۂ تبوک میں اپنی سستی اورکاہلی کی وجہ سے بعض سچے مسلمان بھی شریک نہیں ہوسکے تھے، انھیں میں ایک حضرت کعب بن مالکؓ بھی تھے، انھیں سماجی بائیکاٹ کی سزاسنائی گئی، جس کی مدت پچاس دن تھی، یہ مقاطعہ اس قدر سخت تھا کہ زمین اپنی کشادگی کے باوجود تنگ معلوم ہونے لگی، رشتہ داروں نے منھ موڑلیا، دوست یاروں نے بات کرناچھوڑدیا، مدینہ کی گلیوں میں کوئی ایک فرد ایسا نہیں تھا، جوحال چال پوچھتا اورنہ وہاں کے بازاروں میں کوئی ایک شخص ایساتھا، جوخیرخیریت دریافت کرتا، اپنے ہی شہرمیں بیگانگی کی حالت میں زندگی گزررہی تھی۔

انسانی فطرت یہ چاہتی ہے کہ کوئی تسلی دینے والاہو، کوئی پرسان حال ہو، اوراس طرح کے نازک وقت میں توبدرجۂ اولیٰ طبیعت اس کا تقاضا کرتی ہے؛ حتی کہ ایسے وقت میں دشمن کی تسلی بھی اس طرح سکون بخش ہوتی ہے، جس طرح موسم گرمامیں روح افزا کی شربت،دشمن بھی اس طرح کے مواقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، یہاں بھی ایساہی ہوا، دشمن کوبھنک لگی اوردشمن بھی ایساویسا نہیں، غسان کابادشاہ، اس نے ایک خط لکھا: أمابعد! فإنہ قد بلغناأن صاحبک قد جفاک، ولم یجعلک اللہ بدارہوان ، ولامضیعۃ، فالحق بنا نواسک۔ ’’ہمیں خبرملی ہے کہ آپ کے سردار نے آپ پرظلم کیاہے، جب کہ اللہ نے آپ کوذلت اٹھانے اورضائع ہونے کے لئے نہیں پیدا کیاہے، لہٰذا ہم سے آکرمل جایئے، ہم آپ کے ساتھ ہم دردی کریں گے‘‘۔

ہم آپ جیسے لوگ ہوتے توشاید بادشاہ غسان کی دعوت قبول کرنے میں دیرنہیں کرتے، آج بھی ہم میں سے کتنے ہیں، جب دشمن انھیں اپنے مطلب کی خاطراستعمال کرلیتا ہے اورہم آسانی کے ساتھ استعمال بھی ہوجاتے ہیں، اسی استعمال ہونے کی وجہ سے ہی آج روئے زمین پرہمیں’’ماء مستعمل‘‘ سمجھ لیاگیاہے، حضرت کعب بن مالکؓ نے ایک جھٹکے میں اس خط کونذرآتش کردیا؛ لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ آخرغسان کے بادشاہ کویہ جراءت کیسے ہوئی کہ ایک ایسے مسلمان کو دعوت شیراز دے ڈالے، جواپنی غلطی کی سزا کے طورپر بائیکاٹ کیا گیا ہو؟ شاید اس وجہ سے کہ اس نے یہ سوچا ہوکہ یہ شخص اتنی سخت سزاکی وجہ سے اپنے قائد سے دوری اختیارکرنے پرمجبورہوجائے اوراس طرح ہم فائدہ اٹھالیں؛ لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ ان کاتعلق اس جماعت سے ہے،جو اپنی ہرسانس کے بدلے ’’احد‘‘ کانعرہ لگاتی ہے، ان کاتعلق اس گروہ سے ، جوتختۂ دار میں بھی جھومتے ہوئے کہتاہے:

فلست أبالی حین أقتل مسلماً

علی أی جنب کان للہ مصرعی

وذلک فی ذات الإلٰہ وإن یشأ

یبارک علی أوصال شلو ممزع

(میں حالت اسلام میں شہید ہوجاؤں تومجھے اس کی کیاپرواہ کہ میں کس پہلوپرگرتاہوں، جب کہ میری موت اللہ کی راہ میں ہے، میری شہادت صرف رضائے الٰہی کے لیے ہے، اگر وہ چاہے گاتومیرے بکھرے ہوئے اعضاء کے جوڑوں میں برکت عطاکرے گا)

یہاں یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم بھی اسی قوم کی اولاد ہیں، جس نے اپنے پاؤں تلے شاہوں کے تاجوں کوروند دیاتھا، جس نے رستم کے دربار کے مخملیں فرش کو تار تار کردیاتھا، ہمارے آباء وہی ہیں، جن کی ایک آواز سے جنگلی جانوروں نے پوراجنگل خالی کردیاتھا، جن کے راستے کودریاکی طغیانی بھی نہیں روک سکی؛ لیکن آج ہماری حالت یتیم کے دسترخوان پرلئیم کی سی ہے،جس کی بنیادی وجہ قیادت کا فقدان ہے، دشمن نے اسی قیادت کے قبا کوترک ناداں کے ذریعہ سے چاک کروایا، کم از کم مسلمان اس کی وجہ سے یک جٹ توتھے اورمسلمانوں کی اس یکجائی کی وجہ سے دشمن آنکھ اٹھاکردیکھنے سے بھی ڈرتاتھا۔

کوئی یہ سوال کرسکتاہے کہ عالمی سطح پراگردیکھاجائے تومسلمانوں کے 56، 57ممالک ہیں، ان میں ان کی حکومت بھی ہے، اورملکی پیمانہ پردیکھاجائے تومسلمانوں کی کئی غیرسیاسی تنظیمیں ہیں،کئی سیاسی تنظیمیں ہیں، کئی امیرالمؤمنین ہیں، کئی قائدہیں، جومسلمانوں کے مسائل میں دلچسپی لیتے ہیں ، انھیں حل کرنے کی کوششیں کرتے ہیں، پارلیامنٹ میں بھی آواز بلند کرتے ہیں، پھرتوقیادت کے فقدان کاشکوہ بے جاہے، تواس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں مطلق قیادت کی شکایت نہیں ہے، وہ توہے، ہمیں شکایت یہ ہے کہ ہمارے پاس صالح قیادت نہیں ہے ، یہ بھی شکوہ ہے کہ ہمارے پاس ایسے باشعورقائدین کافقدان ہے، جوحمیت اسلامی اورغیرت دینی کے بھی حامل ہوں، جوایمانی فراست سے بھی متصف ہوں، جو اللہ کے راستے میں کسی ملامت گرکی ملامت کی پرواہ بھی نہیں کرتے ہوں، جن کے سامنے قومی مفاداصل کی حیثیت رکھتے ہوں، جوبے لوث اوربے غرض ہوں اورذاتی مفاد کے تعلق سے سوچتے بھی نہیں ہوں، جن کے اندراعتدال اورتوازن ہو، جواپنی ہی رائے پر اصرار کرنے والے نہ ہوں،جولوگوں کے مابین انصاف ومساوات سے کام لیتے ہوںاور جو احوال زمانہ سے بھی واقف ہوں۔

کیاآج ایسی قیادت ہے؟ کیاآج ایسے قائدین ہیں؟جوممالک اسلامی کہلاتے ہیں، کیاوہاں کے حکمراں قوم کے تئیں بے لوث ہیں؟ اسلام کی بابت وہ بے غرض ہیں؟ جوسیاسی اورغیرسیاسی تنظیمیں ہمارے ملک میں ہیں، ان کے صدورایسے ہیں؟ ان کے رہنما اورقائدین ایسے ہیں؟ یہاں توقیادت ایسی ملتی ہے، جس کے سامنے قومی مفادات کے مقابلہ میں ذاتی مفادات اہم ہوتے ہیں، قائدین ایسے ہوتے ہیں، جوشعورسے نابلد ہوتے ہیں، کس وقت کون ساکام کرناچاہئے؟ اس کاخیال رکھنے کی بجائے، اس بات پرزوردیتے ہیں کہ بس ہم ہی ہم رہیں، چاہے قوم کی کشتی ڈوب جائے، کوئی حرج کی بات نہیں ہے، ہماری اپنی نیا پارلگنی چاہئے، حقیقت یہ ہے کہ آج ہمیں جس صالح قیادت کی ضرورت ہے، اس سے ہم محروم ہیں اوراسی محرومی کی وجہ سے ہم پرحالات طاری ہیں۔

اس واقعہ پربھی غورکیجئے! جب حضرت امیرمعاویہ ؓ اور حضرت علیؓ کے درمیان مشاجرہ چل رہاتھا، رومیوں کی طرف سے حضرت امیرمعاویہؓ کے نام خط آیاکہ آپ چاہئیں توہم آپ کے ساتھ مل کرعلی سے جنگ کرسکتے ہیں، جس کے نتیجہ میں آپ کی فتح یقینی ہے، ہمارے اورآپ کے جیسے لوگ ہوتے توخوش ہوجاتے اوراس تعاون کومخلص جان کرقبول کرلیتے؛ لیکن قربان جایئے حضرت امیرمعاویہؓ پر! انھوں نے دوٹوک انداز میں جواب دیا کہ ’’اورومی مردود! اگرتم نے علی کی طرف آنکھ اٹھاکردیکھنے کی جراء ت بھی کی توتم مجھے علی کے لشکرکا ادنیٰ سپاہی پاؤگے‘‘۔

آپسی لڑائی، آپسی ناچاقی اورباہم دست وگریباں کودیکھ کرہی رومیوں کویہ جراء ت ہوئی کہ وہ ایک مسلم قائد کودوسرے مسلم قائد کے تعلق سے توڑنے کی کوشش کرے؛ لیکن وہ چراغ مصطفوی سے کسب فیض اٹھائے ہوئے لوگ تھے، ان کے سامنے قومی مفاد عزیزتھا،دشمن ان کوتوڑ نہیں سکا، کاش !ہمارے پاس بھی ایسے قائدین ہوتے، جودشمن کی چال کوسمجھتے، جوآج کے حالات کے مطابق قوم کی رہنمائی کرتے، دنیاوی لحاظ سے بھی اوردینی لحاظ سے بھی، جواپنے بھائی کے خلاف کمپین نہیں کرتے؛ بل کہ اپنے بھائی کے حق میں آواز بلند کرتے، آج بہت سارے میدانوں میں لوگ کام کررہے ہیں؛ لیکن قومی سطح پرقائد نہ ہونے کی وجہ سے تمام لوگ ایک ہی جیسے کام میں لگے ہوئے ہیں، اگرقیادت ہوتی توکام کی تقسیم ہوتی، جس سے قوم کوزیادہ فائدہ پہنچتا۔

آج کسان آندولن کودیکھ کرلگتاہے کہ ہم اتنی بڑی تعدادمیں ہونے کے باوجودخوف وہراس میں کیوں مبتلا ہیں؟ سکھ لوگوں کی تعریف اس تعلق سے کرنی چاہئے کہ پورے ملک کے سکھوں کوجوڑکررکھنے کی کوشش انھوں نے کررکھی ہے اوراس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہیں، اسی جوڑ کانتیجہ آج آپ کے سامنے ہے، سپریم کورٹ نے زرعی قوانین پراسٹے لگا دیا ہے، ایک لحاظ سے یہ بھی کامیابی ہے، اس سے قبل سی اے اے کے سلسلہ میں بھی آندولن ہواتھا، ایک سوایک دن تک چلتارہا، اسی شدومد یا اس سے بھی زیادہ شدومد سے چلتا رہا، حکومت کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگیں، وجہ قیادت کافقدان، طلبہ نے آغاز کیا؛ لیکن قائدین اپنی قیادت کوبچانے کے چکرمیں سینہ سپرنہیں ہوئے، ان طلبہ کااس طرح سپورٹ نہیں کیاگیا، جس طرح کیا جانا چاہیے تھا، نتیجہ آپ کے سامنے ہے، ان سب کے باوجود بھی اگرصالح قیادت کی ضرورت محسوس نہ کی جائے اوراس کے لئے کوششیں نہ ہوں توپھرقوم کومردہ ہی سمجھاجائے گا۔

اس کامطلب ہرگز یہ نہیں کہ قائدین کوہرحال میں قیادت سے محروم کردیاجائے اورہرحال میں ایک نئی قیادت لائی جائے؛ بل کہ یہ بھی ممکن ہے کہ قائدین اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھالیں، زمانہ کے تقاضے کے لحاظ سے اپنی سوچ وفکر میں تبدیلی لائیں، جس وقت جس چیز کی ضرورت ہے، اس وقت وہی چیز قوم کے سامنے پیش کریں، ایک قائد کی مثال ایک ڈاکٹر کی سی ہوتی ہے، صحیح وقت پرعلاج اورصحیح وقت پرصحیح دوا کی تجویز سے ہی مریض کے مرض کوٹھیک کیاجاسکتاہے، ورنہ بعد محرم یاحسین اورThe patient is no more سے کوئی فائدہ نہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)