Home ستاروں کےدرمیاں سلامت علی مہدی – معصوم مرادآبادی

سلامت علی مہدی – معصوم مرادآبادی

by قندیل

سلامت علی مہدی (متوفی 1988)کے قصے تو بہت سن رکھے تھے، لیکن انہیں دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب انھوں نے ہفتہ وار ”بنیاد“ کی اشاعت شروع کی ۔ ”بنیاد“کا دفتر تراہا بہرام خاں کے قریب محلہ جٹواڑہ میں واقع تھا۔انھوں نے اپنی زندگی میں بے شمار تجربات کئے۔ ہر فن مولا قسم کے انسان تھے۔ صحافی، ادیب، شاعر، افسانہ نگار اور ناول نویس سبھی کچھ تھے۔ قلم ان کے آگے ہاتھ باندھے کھڑا رہتا تھا۔ انھوں نے رات بھر میں ناول لکھنے کا ریکارڈ قایم کیا تھا۔بہت دولت بھی کمائی، لیکن سب شراب و شباب کے قدموں میں ڈال دی۔آخری وقت بڑی بے کسی اور لاچاری کا تھا، جس کے گواہ ان کے وہ دوخط ہیں جو انھوں نے آخری وقت میں لکھنؤ سے مجھے لکھے تھے۔انھوں نے اخبار، میگزین، ڈائجسٹ سبھی کچھ نکالے اور کئی اچھی بری کتابیں یادگار چھوڑیں۔
ایک خا ص بات یہ تھی کہ دہلی میں ان کے اخبار کی کتابت اور تزئین کاری عبدالباسط کاتب کیا کرتے تھے، سیدھے سادھے اور بے ضرر قسم کے انسان تھے۔ گالیاں بھی خوب کھاتے تھے، لیکن سلامت صاحب سے ان کا تعلق ایسا تھا کہ چھوٹتا ہی نہیں تھا۔ عبدالباسط کی زندگی بھی عجیب وغریب تھی۔وہ کئی بچوں کے باپ تھے اور گھر میں اکلوتے کمانے والے۔ اکثر اردو بازار میں بیٹھ کر پوسٹروں اور ہینڈبلوں کی کتابت کرتے اور جب اخبار کی تیاری کا وقت ہوتا تو سلامت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوجاتے۔ ایک بڑی کمزوری یہ تھی کہ صبح سے شام تک جو کام کرتے تھے، اس کا معاوضہ پسینہ خشک ہونے سے پہلے چاہتے تھے کہ اس کے بغیر گھر میں ان کا داخلہ مشکل ہوتا تھا۔بیوی بڑی سخت مزاج اور ضدی قسم کی تھیں، جبکہ سلامت صاحب کا مزاج یہ تھا کہ وہ اپنے کارکنوں کو ان کا محنتانہ دینے کی بجائے اپنی رقم ناؤنوش میں صرف کردیا کرتے تھے۔باسط جب ”بنیاد“ میں کام کرتے تو سلامت صاحب شام کو انھیں چاندنی چوک میں واقع ’انگور کی بیٹی‘لانے بھیج دیتے تھے۔ داڑھی اور ٹوپی والے باسط کو جب لوگ وائن شاپ کی لائن میں کھڑا دیکھتے تو افسوس بھی کرتے تھے کہ ایک باشرع ’مسلمان‘ کس عیب میں مبتلا ہے۔ حقیقت سب کو کہاں معلوم تھی۔باسط کی مجبوری یہ تھی کہ سلامت صاحب کی اس ’خدمت‘کے بغیر انھیں دن بھر کی مزدوری نہیں ملتی تھی۔سلامت صاحب کے پاس کوئی اور آدمی ایسا نہیں تھا، جو یہ کام کر سکے۔
ایک دن عبدالباسط ”بنیاد“ کے صفحات کی تیار کررہے تھے۔ صفحے کے چاروں طرف جب لائن کھینچی تو وہ بگڑ گئی۔ ان کا اسکیچ پین خراب تھا، جو اس زمانے میں ایک روپے کا ملتا تھا، مگر ان کے پاس ایک روپیہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ اخبار کے صفحات تیار کرکے سلامت صاحب کو دکھائے تو انھوں نے بہت موٹی گالی سے نوازا۔”باسط تم نے ایک روپے کے اسکیچ پین کی خاطر میرے سو روپے کے صفحے کی ماں۔۔۔ دی۔“ باسط کا سرجھکا ہوا تھا۔ یہ واقعہ میرے سامنے کا ہے۔ سلامت صاحب باسط کو کتنی ہی گالیاں کیوں نہ دے لیں،وہ اگلی صبح ویسے ہی صحیح سالم دفتر آجایا کرتے تھے۔
سلامت علی مہدی کو زیادہ قریب سے دیکھنے کا موقع اس وقت ملا، جب میں حاجی انیس دہلوی کے ماہنامہ ”فلمی ستارے“کی تزئین کے کام پر مامور ہوا۔ سلامت صاحب سے حاجی جی کے قریبی مراسم تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سلامت صاحب بہت بیمار رہنے لگے تھے۔ ان کامستقل قیام لکھنؤ میں تھا، مگر وہ جب بھی دہلی آتے تو ”فلمی ستارے“کے دفتر میں ہی قیام کرتے تھے جو حاجی جی کا گھر بھی تھا۔ ”فلمی ستارے“ کا یہ دفتر ترکمان گیٹ کے اندرونی علاقہ میں واقع کلاں مسجد کے پہلو میں تھا۔ پہلے یہ دفتر ترکمان گیٹ سے چتلی قبر جانے والی سڑک پر درگاہ شاہ ابوالخیر کے پاس ہوا کرتا تھا اور اس پر ’رہبر کارنر‘کابورڈ آویزاں تھا۔
مسلم سیاست دانوں سے سلامت صاحب کے قریبی مراسم تھے۔ وہ جب بہت بیمار ہوئے تو جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ شیخ عبداللہ نے انھیں علاج کے لیے سرینگر بلالیا۔کئی ہفتہ وہاں علاج کراکے دہلی آئے تو حاجی جی کے گھر آگئے۔ ایک دن میری موجودگی میں حاجی جی نے سلامت صاحب سے کشمیر کے قیام کا حال پوچھا تو کہنے لگے ”کیابتاؤں،جس وقت وہیل چیئر پر بٹھاکر نرس مجھے اسپتال کے لان میں سیر کراتی تھی تو یوں لگتا تھا کہ میں جنت میں ہوں اور ایک حور میرے ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔“ سلامت صاحب چونکہ بہت اچھے ناول نگار اور افسانہ نویس بھی تھے، لہٰذا جب وہ واقعات بیان کرتے تواس میں ہزار داستان جیسا لطف آتا تھا۔ایک دن کہنے لگے کہ وہ رامپور میں ایک شادی میں شریک ہوئے۔ مردوخواتین کے درمیان ایک چلمن پڑی ہوئی تھی۔اچانک تیز ہوا چلی تو وہ چلمن گرگئی۔ یہ کہتے کہتے کمزوری کی حالت میں سلامت صاحب کرسی سے کھڑے ہوگئے اور کہا کہ ”حاجی جی میں نے اپنی زندگی میں اتنی حسین عورتوں کا مجمع نہیں دیکھا۔ واقعی رامپور کا حسن لاجواب ہے۔“
سلامت صاحب اپنی بیماری کی وجہ سے لکھنؤ منتقل ہوگئے تھے جہاں ان کی بیٹی رہتی تھی۔ان کے داماد اقبال ناطق کو بمبئی میں گینگ وارمیں بڑی بے دردی سے قتل کردیا گیاتھا۔ وہ پریس رپورٹر تھے۔ اقبال ناطق کی لاش کئی ٹکڑوں میں برآمد ہوئی تھی۔ بہرحال آخری زمانے میں سلامت صاحب لکھنؤ میں بستر مرگ پر تھے تو انھیں اپنے علاج کے لیے امداد کی ضرورت تھی۔ اس پریشانی میں انھوں نے مجھے لکھنؤ سے دوتفصیلی خط لکھے۔ جولائی 1988 میں لکھے گئے ان خطوط کو پڑھ کر ان کے حالات کا اندازہ ہوتا ہے۔سلامت علی مہدی کو صحافت اور ادب میں بڑا ملکہ حاصل تھا۔ انھوں نے ادارہ ’شمع‘ سے شائع ہونے والے ”شبستاں“ڈائجسٹ کی ادارت کے فرائض بھی انجام دئیے تھے۔ وہ سرمایہ داروں سے رقوم اینٹھنے میں ملکہ رکھتے تھے۔انھوں نے ہفتہ وار”عوام“اور ماہنامہ ڈائجسٹ”مہراب“ بھی نکالے۔کئی کتابیں بھی تصنیف کیں۔ 1988کے اواخر میں 65 برس کی عمر میں لکھنؤ میں انتقال فرمایا اور وہیں مدفون ہیں۔سنا ہے کہ فلم ”مغل اعظم“ کی شوٹنگ کے لیے انھوں نے کے۔آصف کو ہاتھی فراہم کرنے کا کام بھی اپنے ذمہ لیا تھا اور کچھ ایڈوانس بھی لے لیا تھا، مگر وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کرسکے اور ایڈوانس سمیت غائب ہوگئے۔
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

You may also like