سال بھر بعد رہا ہونے والے آصف اقبال نے کہا : انصاف کےلیے ہماری جنگ جاری رہے گی

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء آصف اقبال جن پر دہلی فسادات کے معاملہ میں یو اے پی اے کے تحت الزام لگائے گئے تھے، گزشتہ دنوں عدالت ِ عالیہ کے حکم پر رہا ہوئے اور اسی طرح ’’پنجڑا توڑ‘کے دیگر کارکن طلباء دیوانگنا کلیتااور نتاشا ضمانت ملنے کے بعدجیل سے رہا کیے گئے،ضمانت ملنے کے بعدان تینوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ، جس کے ایماء پر سیاسی انتقام کے تحت یواے پی ایے کے تحت ملزم بنائے گئے تھے۔جامعہ نگر پہنچنے پر آصف اقبال کے استقبال میں نعرے لگائے گئے ۔اس دوران آصف اقبال نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ انہیں جامعہ تشدد کیس میں بلاکر گرفتار کرلیا گیا اور پھربعد میں دہلی فسادات سے بھی میرا لنک جوڑ دیا گیا، میں شمال مشرق (سیلم پور، بھجن پورہ ، جہاں سال گزشتہ مسلم کش فسادات ہوئے تھے)میں کبھی نہیں گیا تھا،میں صرف واٹس ایپ گروپ میں شامل تھا ،یہی وجہ ہے کہ دہلی پولیس میرے خلاف فسادات کی سازش میں ملوث ہونے کے لیے کوئی ثبوت پیش نہ کر سکی۔آصف اقبال نے کہا کہ یو اے پی اے کا غلط استعمال ہورہا ہے، جو فیصلہ دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ آیا ہے اور ضمانت منظور ہوئی ہے ، اس سے دوسرے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے گا ، جنہیں غلط طریقہ سے یواے پی اے کے تحت ملزم بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ہمت ابھی ختم نہیں ہوئی ہے،اور وہ حق اور انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔اسی دوران دیونگنا کالیتا نے کہا کہ یہ حکومت مایوس ہے، ہم ایسی خواتین ہیں جو کسی طرح سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بچ گئے کیونکہ ہمیں دوستوں اور خیر خواہوں کی طرف سے زبردست حمایت ملی ۔ اسی طرح نتاشا نروال نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں ، کیوں کہ معاملہ ابھی عدالت میں ہے، تاہم ہم دہلی ہائی کورٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے ، جس پر ہمیں اعتماد تھا۔ نروال نے کہا کہ وہ ہمیں جیل سے ڈرا نہیں سکتے،اگر وہ ہمیں جیل میں ڈالنے کی دھمکی دیتے ہیں، تو اس سے جدوجہد جاری رکھنے کے ہمارے عزم کو مزید تقویت ملے گی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*