سحرالبیان فن مثنوی نگاری کا نقطۂ عروج:پروفیسربیگ احساس

میرحسن کی مثنوی ’’سحرالبیان ‘‘ پر بازگشت کا پروگرام
حیدرآباد:’’سحرالبیان ‘‘فن مثنوی نگاری کا نقطۂ عروج ہے اوراس کے مصنف میر حسن اردو مثنوی نگاری کی آبرو ہیں۔میر حسن نے فنِ مثنوی کو درجۂ کمال پر پہنچادیا۔یہ عشقیہ مثنوی اپنے دامن میں تہذیبی نقوش بھی رکھتی ہے۔ جاگیردارانہ عہد میں فنون لطیفہ کی قدر افزائی کی بہترین تصویریں اس میں ملتی ہیں۔اس میں ڈرامے کے اجزائے ترکیبی مثلاً آغاز، تصادم ،کش مکش وغیرہ بھی موجود ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعد میں اسے ڈرامائی شکل بھی دی گئی۔ موثرکردار نگاری، بہترین مکالمہ نگاری اور سادہ و بے تکلف زبان و ببان کی وجہ سے ’’سحرالبیان‘‘ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ‘‘ ان خیالات کا اظہاربازگشت آن لائن ادبی فورم کے سرپرست اور معروف افسانہ نگار پروفیسر بیگ احساس نے ’’بازگشت‘‘ کی جانب سے میر حسن کی شاہکار مثنوی ’’سحرالبیان‘‘کے منتخب حصوں کی پیش کش اور گفتگو پر مبنی گوگل میٹ پر منعقدہ پروگرام میں کیا۔جلسے کے مہمانِ خصوصی ممتازشاعر و نقادپروفیسر فاروق بخشی استاد شعبۂ اردو،مولانا آزاد نیشنل اردو یو نی ورسٹی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سحرالبیان میں مہاکاویہ کی تمام خصوصیات ملتی ہیں۔ بحر متقارب کو عام طور سے رزمیہ مثنویوں کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے لیکن میر حسن نے اس بحر میں بزمیہ مثنوی لکھ کر اپنی قادرالکلامی کا ثبوت دیا۔اس مثنوی میں غزل کی لوچ،قصیدے کا طنطنہ اور مرثیے کا سوز باہم آمیز ہوگئے ہیں۔وزیر زادی نجم النسا کا کردار عزم و حوصلہ اور ہمت و بہادری کی وجہ سے یادگار ہوگیاہے۔اس مثنوی میں میر حسن نے اپنے عہد کی تہذیب و ثقافت کی زندہ تصویریں پیش کی ہیں۔ پروفیسر بخشی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اردو میں صنف مثنوی سے اس طرح کام نہیں لیا گیا جتنی ضرورت تھی۔حالی نے اپنے عہد کی بیشتر اصناف کو دریا برد کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن مثنوی کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ روشنی کے فرشتے سے تاریکی کاکام لیا گیاہے۔پروفیسرمحمد نسیم الدین فریس، ڈین اسکول براے السنہ ، لسانیات و ہندوستانیات اور صدر شعبۂ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی نے کہا کہ میر حسن اردو مثنوی نگاری کے عناصر خمسہ میں سر فہرست ہیں۔انھوںنے ’’سحرالبیان‘‘ 1784-85میں لکھی اور نواب آصف الدولہ کو پیش کی لیکن افسوس کہ انھیں زیادہ قدرومنزلت حاصل نہ ہوسکی۔ یہ مثنوی پہلی بار فورٹ ولیم کالج کولکاتہ نے 1805میں شائع کی۔ اس میں منشی شیر علی افسوس کا دیباچہ بھی شامل تھا۔یہ عجیب اتفاق ہے کہ میر بہادر علی حسینی کا تحریر کردہ اس کا نثری خلاصہ’’نثر بے نظیر‘‘ اصل مثنوی سے پہلے 1802میں شائع ہوا۔داکٹر جاوید رحمانی استاد شعبۂ اردو، آسام یونی ورسٹی، سلچر نے کہا کہ فارسی کے مقابلے اردو میں مثنوی کا زیادہ فروغ نہ ہوسکا۔اس صنف اور اس کی شعریات پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔محمد ارشدالقادری متعلم ایم اے، شعبۂ اردو، مانو نے نہایت موثر انداز میں مثنوی کے ابتدائی دو ابواب پیش کیے۔ حاضرین نے ان کے اندازِ پیش کش کو خوب سراہا۔ابتدا میںپروگرام کے کنوینر ڈاکٹرفیروز عالم ،استاد شعبۂ اردو، مانو نے بتایا کہ میر حسن کا اصل نام میر غلام حسن تھا۔ان کے والدمیر ضاحک ایک قادرالکلام شاعر تھے۔میر حسن غالباً 1728-29میںدہلی میں پیدا ہوئے۔ بارہ برس کی عمر میں دہلی سے فیض آباد پہنچے۔ 1775میں لکھنٔو گئے اوروہیں 1786میں ان کا انتقال ہوا۔ ’’سحرالبیان‘‘ کے علاوہ’’ گلزار ارم‘‘، ’’تہنیت عید‘‘،’’ قصر جواہر‘‘، ’’خوان نعمت‘‘اور ’’ہجو حویلی ‘‘وغیرہ ان کی دیگر مثنویاں ہیں۔’’تذکرہ شعرائے اردو‘‘ اور’’یازدہ مجلس‘‘ ان کے نثری کارنامے ہیں۔