سہرسہ میں امارت شرعیہ کے زیراہتمام تعلیمی بیداری و تحفظ اردو پروگرام میں سرکردہ علماء و دانشوران کی شرکت

مسلمان بہتر تعلیم کیلئے معیاری اسکولوں اور مکاتب کے قیام کو یقینی بنائیں: مفتی سعید الرحمن قاسمی

سہرسہ(جعفرامام قاسمی)

مرکزی حکومت کی جانب سے لائی گئی نئی تعلیمی پالیسی کے نقصانات کو بھانپتے ہوئے امیر شریعت مولانا سید ولی رحمانی کے حکم پر امارت شرعیہ کی جانب سے ان دنوں پورے بہار میں دین کی بنیادی تعلیم کے فروغ ، عصری تعلیم کے معیاری اداروں کے قیام اور اردو زبان کے تحفظ کے لیے ” ہفتہ برائے ترغیب تعلیم اور تحفظ اردو” کے عنوان سے مشاورتی اجلاسوں کا انعقاد کیا جارہا ہے،حسب ترتیب آج جامع مسجد میرٹولہ ،سہرسہ میں بھی اس اجلاس کا انعقاد کیا گیا، اجلاس کا آغاز قاری مستقیم کی تلاوت اورصحافی جعفرامام قاسمی کی نعت پاک سے ہوا-

مفتی سعید الرحمن قاسمی مفتی امارت شرعیہ پٹنہ کی صدارت اور مفتی شمیم اکرم رحمانی معاون قاضی امارت شرعیہ کی نظامت میں منعقد اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ پٹنہ نے کہا کہ وطن عزیز کے اندر ہرزمانے میں مسلمانوں کو جسمانی،مالی، ذہنی اورتعلیمی اعتبار سے نقصان پہنچانے کی کوششیں ہوتی رہیں،اوریہ حرکتیں تاہنوزجاری ہیں ،اگرہمارے اکابرآوازیں بلند کر اورتحریکیں چلاکران مذموم حرکتوں پر قدغن لگانے کےلیے حکومت وقت کو مجبورنہیں کرتے تو آج وطن عزیزمیں ہماراوجودبھی باقی نہیں رہتا،آج موجودہ حکومت نئی تعلیمی پالیسی کو نافذ کرہمارے مدارس و مکاتب کو بند کرنے کاتہیہ کرچکی ہے، کیوں کہ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد ہر بچے کو سرکاری اسکول میں تعلیم دلاناضروری ہو جائے گا،اوراب تو سرکاری اسکولوں سے اردو زبان کو بھی نکال باہرکیا جارہاہے،اس لیے وقت کی اس نزاکت کو سمجھتے ہوئے حضرت امیرشریعت نے مسلمانوں کے اندر تعلیمی بیداری لانے کے لیے دین کی بنیادی تعلیم کے فروغ،عصری تعلیم کے معیاری ادارے کے قیام اور اردو زبان کے تحفظ کے لیے پورے بہار میں یہ تحریک چلائی ہے،تاکہ مسلمان اب بھی ہوش کے ناخن لیں اوردین کی بنیادی تعلیم کے لیے جہاں مکاتب ومدارس نہیں ہیں وہاں مکاتب ومدارس قائم کیے جائیں،اور عصری تعلیم حاصل کر رہے بچے ،بچیوں کے لیے مسجدوں میں کم از کم ایک دو گھنٹے کے لیے دینی تعلیم کا نظم کیا جائے،اور اعلی عصری تعلیم کے لئے خود کے پرائیویٹ اسکول کھولے جائیں،وہیں مفتی سعید الرحمن نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ سرکاری اسکولوں میں ہندو ازم کو فروغ دلانے والی اور اسلام سے بیزار کرنے والی کتابیں داخل نصاب کی جارہی ہیں،اس لیے اب ہر مسلمان کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ اپنے بچوں کو مسلم اسکولوں ہی میں تعلیم دلائیں اور جہاں مسلم اسکول نہیں ہیں وہاں کے ذمہ دار حضرات اپنے پرائیویٹ اسکول کے قیام کو یقینی بنائیں،انہوں نے کہا کہ اردو زبان کو ختم کرنے کے لیے حکومت وقت جو سازش رچ رہی ہے اس میں کہیں نہ کہیں ہم بھی شامل ہیں،کیوں کہ ہماری اکثریت تو اردو اخبار کے بجائے ہندی اخبار پڑھتی ہے،گھروں میں اردو کے بجائے گھریلو زبان بولتی ہے،اردو فی الحال سرکاری زبان ہے،اس کے باوجودہم سرکاری دفاتر میں اردو میں درخواست پیش کرنے کی بجائے ہندی میں درخواست پیش کرتے ہیں،یاد رکھیے اگر ہم نے اپنے بچوں کی تعلیم اپنے اداروں میں دلانے کے بجائے غیروں کے ادارے میں دلوائی تو نہ ہمارے گھروں میں ہماری تہذیب بچے گی اور نہ ہماری شریعت، ہمارے بچے شرعی احکام پرخود تنقید کریں گے اوردین سے کوسوں دور ہوجائیں گے،اس لئے آج سے ہم سب تہیہ کر لیں کہ امارت شرعیہ کی جانب سے ابھی جو کتاب تقسیم کی گئی ہے اسے بغور پڑھ کر پوری ذمہ داری کے ساتھ اس میں مذکور ساری باتوں کو عمل میں لائیں،ان کے علاوہ اجلاس کو ضلع تعلیمی کمیٹی سہرسہ کے سرپرست ڈاکٹر ابوالکلام،آرجے ڈی کے ضلع صدرپروفیسر طاہر،ضلع تعلیمی کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر طارق،جمعیت علماء ضلع سہرسہ کے صدر ڈاکٹر معزالدین،قاضی اظہار عالم،قاضی محمد یوسف،قاضی شاداب عالم،مولانا محب اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ پوری ذمہ داری کے ساتھ حضرت امیر شریعت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دینی و عصری تعلیم کے فروغ اور اردو زبان کے تحفظ کے لیے ابھی سے کمربستہ ہوجائیں،اور جہاں اس طرح کی تعلیم کا نظام نہیں ہے وہاں تعلیمی ادارےقائم کریں،جن سرکاری اسکولوں میں مسلم بچے زیر تعلیم ہیں اور وہاں اگر کوئی اردوٹیچر نہیں ہے،تو افسران سے مل کر وہاں اردو ٹیچر کی بحالی کو یقینی بنائیں،ضرورت پڑے تو امارت شرعیہ سے بھی اس بابت مدد لیں۔اس عظیم الشان مشاورتی اجلاس میں اجلاس کے کنوینر مولانا صابر قاسمی کارکن امارت شرعیہ،قاری نور اللہ نعمانی،مولانا مظاہر الحق،حافظ ممتاز رحمانی،مولانا سہراب ندوی، صحافی شاہنوازبدرقاسمی،صحافی ضیاءالدین،مولانا طیب،عمر حیات عرف گڈو ،محبوب عالم عرف جیبو ،محی الدین رائن، ڈاکٹر لطف اللہ،مولانا نعمت اللہ،مفتی نصراللہ،ایڈوکیٹ جاوید عالم،حافظ فیروز،منہاج علم، انعام الحق،حافظ امان اللہ،شمس تبریز،پروفیسر نعمان،جاوید شیخ، مولانا محب اللہ، مولانا عادل ندوی، فیروز عالم،مولانا اختر سمیت سیکڑوں کی تعداد میں ضلع کے علماء ودانشوران موجود تھے۔