صحافی مولانا رحمت اللہ فاروقی کا انتقال

 

نئی دہلی :(معصوم مرادآبادی) اردو حلقوں میں یہ خبر انتہائی رنج وغم کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ روزنامہ ’قومی آواز‘ کے سابق سب ایڈیٹر اور ‘مجاہداردو‘مولانا رحمت اللہ فاروقی کا رات اچانک حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوگیا۔ان کی عمر71 سال تھی۔ دوماہ قبل ان کی اہلیہ اپنے مالک حقیقی سے جاملی تھیں۔ پسماندگان میں دوبیٹے اور تین بیٹیوں کے علاوہ سینکڑوں شاگرد ہیں، جنھیں انھوں نے اردو، عربی اور فارسی کی مفت تعلیم سے آراستہ کیا۔ان کی پیدائش 23 اپریل 1953کو بہار کے سمستی پور ضلع میں ہوئی تھی، لیکن ان کی تعلیم وتربیت اترپردیش کی مختلف درس گاہوں میں ہوئی۔1968ں دہلی آکر انھوں نے مدرسہ عالیہ فتح پوری میں داخلہ لیا۔1970میں پنجاب یونیورسٹی سے ادیب عالم اور ادیب فاضل کے علاوہ فارسی کے اعلیٰ ترین امتحان منشی فاضل میں کامیاب ہوئے اور کئی دیگر طلباء کو بھی اردو اور فارسی کے امتحانات میں کامیابی دلائی۔دہلی کے مدرسہ امینیہ سے فراغت کے بعد 1978میں وہ روزنامہ ’الجمعیۃ‘ کے ادارتی عملہ میں شامل ہوگئے، جہاں انھیں ممتاز صحافی نازانصاری کی سرپرستی میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ نازانصاری مرحوم کہا کرتے تھے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں مولانا فاروقی جیسا شریف النفس اور باریک بین انسان نہیں دیکھا۔
انھوں نے 1982میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی میں گریجویشن کیااور انگریزی سے بہترین اردو ترجمہ کرنے کی صلاحیت پیدا کی۔1987میں انھوں نے دہلی یونیورسٹی سے فارسی میں ایم اے کیا اور قاضی سجاد حسین کے معاون رہے۔ اسی سال انھوں نے روزنامہ’قومی آواز‘ میں بطورسینئر سب ایڈیٹر کام شروع کیا اور2008 میں قومی آواز‘ بند ہونے تک اس کے نہایت دیانتدار کارکنوں میں شامل رہے۔مولانا فاروقی نے 2010میں میری ادارت میں شائع ہونے والے روزنامہ’جدیدخبر‘ میں شمولیت اختیار کی اور کئی برس نیوزایڈیٹر کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔اس رفاقت کے دوران میں نے ان سے صحافت کے کئی اسرار و رموز سیکھے ۔ ان کا مطالعہ اور مشاہدہ دونوں وسیع تھے۔ان کی زندگی حصول تعلیم اور درس وتدریس سے عبارت تھی۔ وہ نہایت بذلہ سنج بھی تھے۔
ان کا انتقال اردو دنیا کے لیے ایک بڑے سانحہ سے کم نہیں ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں اردوزبان اور تہذیب کا ان سے بڑا خدمت گزار نہیں دیکھا۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اردوزبان اور تہذیب کے تسلسل اور بقاء میں صرف کی۔ وہ صحیح معنوں میں ’مجاہداردو‘کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔وہ اپنی جیب سے اردو کتابیں خرید کر بچوں کو پڑھنے کے لیے دیتے تھے۔ان کی زندگی کا سب سے بڑا مشن یہی تھا۔ لاتعداد غیرمسلموں کو بھی انھوں نے اردو پڑھائی اور کبھی کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا۔
ان کی نماز جنازہ جوشی کالونی کی مسجد میں بعدنمازجمعہ ڈیڑھ بجے ہوگی اور تدفین میور وہارقبرستان میں عمل میں آئے گی۔