صحافت کاشجرِسایہ دار عادل صدیقی مرحوم ـ ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

رام لکھن سنگھ یادو کالج ، بتیا ، مغربی چمپارن۔بہار

15جنوری 2021کو بوقت ساڑھے گیارہ بجے دن عادل صدیقی بھی اپنے مالک ِ حقیقی سے جا ملے ۔ دیوبند ان کا گھر تھا وہیں انھوں نے آخری سانس لی اور پیوند خاک ہوئے۔عادل صدیقی اردو صحافت کا ایک معروف و معتبر نام ہے اور ان کا صحافتی سفر تقریبا پون صدی کو محیط ہے ۔ گزشتہ ساٹھ برسوں سے ہند و بیرون ہند کے موقر اخبارات میں اپنے قلم کا جادو جگاتے رہے اور اپنے مخصوص و منفرد اسلوبِ نگارش سے اہل ذوق کی تسکین کا سامان فراہم کر تے رہے ۔اپنے آخری ایام میں روزنامہ”قومی آواز“دہلی اور ہفتہ وار”الجمعیة“دہلی میں پابندی سے کالم تحریر کرتے رہے ۔
عادل صدیقی کا صحافتی رشتہ محض اردو زبان یا پرنٹ میڈیا ہی سے نہیں رہابلکہ اردو صحافت کے ساتھ ساتھ انگریزی صحافت سے بھی ان کا تعلق انتہائی مضبوط رہاہے۔اسی طرح پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک میڈیا سے بھی ان کی مضبوط وابستگی رہی ہے۔
ان کا اصل نام محمد عادل صدیقی تھا اور انھوں نے 6مارچ1930کو مولانا مشفع حسین کے گھر ،دیوبند میںآنکھیں کھولیں ۔چوں کہ ان کے والد مرحوم کو فارسی زبان میں بڑی مہارت تھی اور وہ اس زبان میں استاذ کی حیثیت رکھتے تھے اور کاندھلہ(مظفرنگر )کے ایچ ۔اے۔ایس (H.A.S)کالج کے شعبہ فارسی کے عہدہ صدارت پربھی فائز تھے اس لیے ان کی تعلیم کا ابتدائی مرحلہ کاندھلہ ہی میں طے ہوا ۔1945میں اول درجے سے ہائی اسکول پاس کیا اور ریاضی و فارسی میں امتیازی نمبرات حاصل کیے۔
قدرت نے بچپن سے ہی لکھنے پڑھنے کا شوق ودیعت کیا تھا اور گھر کا ماحول بھی علمی تھااس لیے ان کی عمدہ نشو نما ہوتی رہی۔عمر کے ساتھ ساتھ شعور میں بھی بالیدگی آتی رہی ۔وہ اپنے عظیم خوابوںکو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے پوری طرح بیدار ہو کر یقیں محکم،عمل پیہم کے ذریعے منزل کی تلاش میں لگے رہے ۔میٹرک کے بعد 1947میں اسلامیہ انٹر کالج، سہارن پورسے انٹر میڈیٹ کیا۔اس کے بعد حالات نے ملازمت اختیار کر نے پر مجبور کیا لیکن اس کے باوجودمزید حصولِ تعلیم کا جذبہ دل میںانگڑائی لیتا رہا۔ چنانچہ ملازمت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سے بی۔اے بھی کیا اور ایم۔اے بھی۔ایم ۔اے کے بعد سپلائی آفس سہارن پورمیں کلرک کی نوکری مل گئی لیکن مستقبل میں صحافت کے ذریعے قدرت کو جس شخص کے ذریعے ملک و قوم کی خاطرکوئی عظیم کام لینا ہو ،اس کا دل کلرکی میں بھلا کیسے لگتا۔یہی وجہ ہے کہ تقدیر نے وہاں سے انھیں جاٹ مسلم کالج،اسارہ(میرٹھ)پہنچادیا اور وہ وہاں ریاضی کے استاذ مقرر ہوئے۔اسی ملازمت کے دوران میں پہلے درجے سے منشی (الہ آباد)کا امتحان پاس کیا۔کچھ دنوں بعد میرٹھ زون سے گورنمنٹ ٹیچرز ٹریننگ کالج،بریلی کے لیے صدیقی صاحب کو منتخب کر لیا گیا۔اسی کے ساتھ ساتھ ایک سالہ نصاب میں داخلہ لے کر ہاسٹل لائف گزاری اور سی ،ٹی کا امتحان پاس کیا۔پھر فیصلہ الٰہی سے اسلامیہ کالج مظفر نگر میں بحیثیت استاذ ان کا تقرر ہو گیالیکن کچھ عرصے بعد ہی مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کے حکم سے مسلم قدرت انٹر کالج سیوہارہ(بجنور)منتقل ہو گئے اور وہاں تدریسی خدمات انجام دینے لگے۔
والد صاحب کے سفر حج کے بعد عادل صدیقی اپنے وطن دیوبند کے اسلامیہ کالج کے لیے منتخب کر لیے گئے۔اس وقت کا لج کے صدر خان بہادر شیخ ضیاءالحق مرحوم تھے۔ابھی یہیں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے کہ دہلی میں پریس انفارمیشن بیو رو،وزارت اطلاعات و نشریات حکومت ہند میںان کی سروس ہو گئی۔ابتدا میںکیلی گرافسٹ کی جگہ تقرر ہوا ۔اب صدیقی صاحب زندگی کی مختلف پگڈنڈیوں سے گزر کر کافی تجربات حاصل کر چکے تھے اور کامیابیوں کی شاہراہوں کو تیز رفتاری سے طے کررہے تھے ۔رڑکی ہائی اسکول میں بھی ملازمت کا موقع ہاتھ آیا لیکن انھوں نے اس کے مقابلے میں غالب و داغ کی سرزمین ’دہلی‘ کوترجیح دی۔ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد ،پرو فیسر علی جواد زیدی،گُربچن داس چند ن،لکشمی چندر یاس اور شہر یار پرواز جیسے ممتاز ادبا و محققین اور معروف شخصیات کے ساتھ رہ کر صدیقی صاحب کو علمی،ادبی اور تحقیقی کام کر نے کے مواقع ملے۔کچھ ہی عرصے بعد ترقی پاکر اسسٹنٹ جرنلسٹ، پھر محنت و لگن اور قابلیت کے پیش نظر 1979میں اسسٹنٹ انفارمیشن آفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔اس کے بعد پریس انفارمیشن بیورو سے ماہنامہ”آج کل“میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی جگہ تبادلہ ہو گیا اور یہ سلسلہ جون 1979سے ستمبر 1981تک پوری خوش اسلوبی سے جاری رہا۔
عادل صدیقی صاحب نے 1981میں’ آج کل‘ کے طرز پر ماہنامہ”یوجنا“نکالنے کی تجویز پیش کی،جو منظور ہوئی۔یہ ایک سماجی،معاشی و تعلیمی رسالہ ہے جو صدیقی صاحب کی ادارت میں نکلنے لگا۔وقفے وقفے سے صدیقی صاحب پر ناموافق حالات بھی آئے،لیکن ان کی قوت ارادی اور مستقل مزاجی نے کبھی قدم ڈگمگانے نہ دیا۔وہ مکمل ذمے داری کے ساتھ”یوجنا“نکالتے رہے اور ان کا ادارتی سلسلہ1981سے لے کر 1988تک مکمل سات سال تک جاری رہا۔1988میں سبکدوشی کے بعد بھی ”یوجنا“ہنوز جاری ہے جس کو صدیقی صاحب کے جہد مسلسل اور اردودوستی، اس سے بے پناہ تعلق و رشتہ ہی کا نتیجہ کہا جاسکتا ہے۔ یوں تو عادل صدیقی صاحب کی صحافتی زندگی نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے ،لیکن ان کے قلمی سفر کا آغاز بجنور(یوپی) سے شائع ہونے والے بچوں کے رسالے’غنچے‘سے ہو تا ہے۔اس کے بعد بتدریج ہفتہ وار ”الجمعیة“ دہلی،روزنامہ ”قومی آواز“دہلی،روزنامہ ”سیاست“حیدرآباد،روزنامہ ”آزادہند“کلکتہ،روزنامہ ”انقلاب“بمبئی،”آفتاب“سری نگراورروزنامہ ”راشٹریہ سہارا“دہلی ان کی صحافت کی جولان گاہ رہے ہیں۔انھوں نے اپنے قلم سے ہرطرح کے علمی و تحقیقی پھول کھلائے ہیں ۔تحریر میں ادب کی چاشنی ہے تو تہذیبی اقدار بھی،تاریخی حقائق ہیں تو سیاسی نوک جھونک بھی اور ساتھ ہی معاشرتی و سماجی زندگی سے گہری وابستگی بھی۔آپ کے گلشن تحریر میں رنگ برنگے پھول دکھائی دیتے ہیں جو اپنی رنگینیوں اور خوشبوﺅں سے قاری کا ذہن و دماغ تازہ کرتے ہیں اور دلوں کوموہنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
چوں کہ عادل صدیقی خود دیوبند سے وطنی تعلق رکھتے تھے اور دارالعلوم کے زیر ِسایہ ان کی تربیت ہوئی تھی اس لیے انھوںنے اپنے طویل سفر کو طے کرنے کے لیے علمائے دیوبند جیسے اصحاب فکر و نظر اور ارباب علم و دانش کے افکار کے مطالعے کو زادِ راہ بنایا۔ان کے خیالات کی پاکیزگی و شفافیت کے ذریعے اپنے فکرو نظر کو منور کیا اور ان بزرگوں کو اپنے اچھوتے قلم کا خراج بھی پیش کیا۔ان کی فہرست میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ،شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ،حکیم الاسلام قاری محمد طیب قاسمیؒ،مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ،امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ جیسی عبقری شخصیات موجودہیںجن کی علمی،سیاسی،سماجی،ملی خدمات کی ایک دنیا معترف ہے،لیکن ان کے قلم کی سیاہی یہیں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ ہندوستان کے ان فرزندوں کو بھی اپنے قلم کی سلامی دیتے ہیں جنھیں دنیا آج شاعر مشرق علامہ اقبالؒ،مولانا حسرت موہانیؒ،ڈاکٹر بر کت اللہ بھوپالیؒ،ڈاکٹر مختاراحمدانصاری ؒ،مولانا محمد علی جوہر ؒوبیگم مولانا محمد علی جوہر ؒ،مولانا ازہر شاہ قیصر ؒ،مولانا محمد عثمان دیوبندی ؒ،مولانا محمدمیاں دیوبندی ؒکے ناموں سے جانتی ہے۔اگر صدیقی صاحب نے ایک طرف اپنی صحافت میں اِن موتیوں کو پرویا ہے تو دوسری طرف اس کی تزئین میں پنڈت جواہر لعل نہرو،مسزاندرا گاندھی،راجیو گاندھی اور لال بہادر شاستری کو بھی شامل کیا ہے۔
ویسے توصدیقی صاحب کی تحریروں کا ایک انبار ہے ،لیکن افسوس کہ ان کو اب تک کتابی شکل نہ دی جاسکی۔المیہ تو یہ ہے جنھیں انھوں نے انگلی پکڑ کرقلم چلانا سکھایا،آج وہ درجنوں کتابوں کے مصنف بن چکے ہیںلیکن ان کی تحریر کی ترتیب وتدوین کی طرف کسی نے دھیان نہیںدیا۔کاش!کوئی اٹھے اورراس خواب کو شرمندہ¿ تعبیر کردے۔
صدیقی صاحب کی مستقل تصنیف کی شکل میں کہانیوں کا ایک مجموعہ’آج کل کی کہانی‘نام سے ہے جو کئی سال پہلے منظر عام پر آئی تھی۔اسی طرح ان کے قلم نے ترجمہ نگاری میں بھی اہم رول ادا کیاہے۔انھوں نے متعدد انگریزی کتابوں کے اردو ترجمے بھی کیے ہیں۔ان میں سب سے اہم عوام الناس کے لیے گائڈ ہے جس کا اشتہار پابندی سے”یوجنا“اردو کے سرورق پر آتا رہا ہے۔
اس سے پہلے ذکر آچکا ہے کہ صدیقی صاحب کا تعلق میڈیا سے بھی بڑا گہرا رہا ہے اور ان کی زندگی کا یہ شعبہ بڑا ہمہ جہت ہے۔انھوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ریڈیو پروگراموں میں گزارا،اردو کے مختلف پروگرام:اردو سروس،اردو مجلس اور اردو نیوزمیں ایک مدت تک اپنے فکر و نظر اور زبان و بیان کے جلوے بکھیرتے رہے اور اہل ذوق کو تازگی بھی بخشتے رہے۔
اردو سروس میں متنوع عنوانات:”شمع فروزاں“،”حرف غزل“،’دلّی ڈائری“اور ”آج کی بات“کے تحت عادل صاحب نے سینکڑوں پروگرام پیش کیے۔اردو مجلس میں حالات حاضرہ پر انتہائی چشم کشا تبصرے مدتوںنشر ہوتے رہے اور ان کی سترپچھتر سال کی عمر کے باوجود یہ سنہری سلسلہ جاری رہا۔ان پروگراموں میں ہر ماہ کے اخیر میں پورے مہینے کی خبروں کا خلاصہ اور سال کے اختتام پر عالمی منظر نامے کے جائزے کو نمایاں حیثیت حاصل رہی ۔جب تک وہ چلتے پھرتے رہے پابندی سے رات سوا نو بجے کی اردو خبروں کے بعد حالات حاضرہ پر ان کے تبصرے نشر ہوتے رہے۔یہ تھی ہندوستان کے ایک بلند پایہ صحافی کی طویل اور روشن صحافتی خدمات کی مختصر جھلک اور اردو کے ایک عظیم سپوت کے چنداہم سوانحی نقوش۔امید ہے کہ ان کی طویل و عظیم اردو خدمات کے پیش نظر اردو اکیڈمیاںاور اردو انجمنیں ان کی طرف توجہ کر یں گی اور نسلِ نو عادل صدیقی مرحوم کے نام و کام سے واقف ہوسکے گی ۔ اللہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے ۔