سہ روزہ کثیرلسانی بین الاقوامی ویبینارکا دوسرا دن،مقالہ خوانی،محفلِ افسانہ ومشاعرے کا انعقاد

میرٹھ:’’ناول کے ابتدائی دور کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو تقریباً سبھی ناولوں میں سماج ، معاشرہ اور ماحول کے پیچیدہ مسائل نظر آتے ہیں ۔ مولوی نذیر احمد نے عہد حاضر تک سبھی ناول نگاروں نے اپنے ناولوں میں سماجی تغیرات کو پیش کیا ہے۔مولوی نذیر احمد نے مذہبی مسائل کے نمونے عمدہ انداز میں پیش کئے ‘‘یہ الفاظ تھے پروفیسر شہاب عنایت ملک(کشمیر) کے جوسماجی تغیرات کے اردو زبان و ادب پر اثرات‘‘ عنوان سے منعقدہ سہ روزہ کثیر لسانی عالمی ویبنار (اردو ، ہندی ،انگریزی، سنسکرت اور فارسی) کے دوسرے دن کے پہلے اردو سیشن میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ادا کر رہے تھے۔پروفیسر شہاب عنایت ملک(کشمیر) اور پروفیسر فاروق بخشی(حیدرآباد)نے مشترکہ طور پر اجلاس کی صدارت فرمائی۔پروفیسر فاروق بخشی نے عہد حاضر کے بدلتے حالات و ماحول میںزبان و ادب پر پڑنے والے اثرات کو تفصیل سے واضح کرتے ہوئے سماج و ماحول کے پس منظر پر روشنی ڈالی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاداب علیم نے بحسن و خوبی عطا کئے۔
اس سے قبل پروگرام کا آغازایم ۔اے کے طالب علم محمد اسرار نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں پروفیسر اسلم جمشیدپوری نے مہمانان کا استقبال اور پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی ۔ اس کے بعد ڈاکٹر فوزیہ بانو(میرٹھ) ڈاکٹر محمد کاظم(دہلی)ڈاکٹرعقیلہ غوث(مہاراشٹر)ڈاکٹر درخشاںزریں(کلکتہ) ڈاکٹر رضیہ بیگم(میرٹھ )ڈاکٹر ہما مسعود(میرٹھ) نے اپنے اپنے مقالے پیش کیے۔ڈاکٹر فوزیہ بانو نے بعنوان’’غزل کے سماجی موضوعات‘‘ مقالہ پیش کیا جس میں انہوں نے سماجی معاشی اور سیاسی مسائل کی خوبصورت تصویر پیش کی ہے۔ ڈاکٹر محمد کاظم ( دہلی) نے بعنوان’’ اردو ڈراما اور سماجی تغیرات‘‘ مقالہ پیش کیا جس میںا نہوں نے کہا کہ ڈرامے میں سماج کی تین جہت دکھائی دیتی ہیں۔ ڈرامہ ہمیں سماج کی اصل سچائی کو دکھاتا ہے۔ آج سماج میں دس پندرہ سالوں سے نفرت کا زہر گھولا جا رہا ہے اور اس کی اصل شکل ڈرامے میں پیش کی جاتی ہے۔ دراصل ڈرامے میں کرداروں کے ذریعہ زہر آلود معاشرہ کو پیش کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عقیلہ غوث نے اپنا مقالہ بعنوان’’اردو کے ناولوں میں سماجی مسائل‘‘ پیش کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ایسے نازک حالات میں اتنا کامیاب پروگرام اپنے آپ میں اہمیت کا حامل ہے ناول سے اصلاح کا کام بھی لیا جاتا ہے کیونکہ ناول ہمیشہ معاشرے کے بگاڑ میں کار گر ثابت ہو ا ہے۔ ڈاکٹر درخشاں زریں نے اپنے مقالہ بعنوان’’ اردو نظموں میں سماجی تغیرات‘‘ میں کہا کہ چاہے کورونا وائرس ہو یا مظفر نگر کے حادثات، سبھی سماجی مسائل کو شعراء نے اپنی نظموں میں منفرد انداز میں پیش کیا ہے۔ڈاکٹر رضیہ بیگم نے اپنے مقالے بعنوان’’علی گڑھ تحریک اور سماجی تغیرات ایک مطالعہ‘‘ پڑھا اس مقالے میں انہوں نے کہا کہ علی گڑھ کے ادبی کارناموں میں بھی سماج کی صورت حال صاف طور پر نظر آتی ہے۔ڈاکٹر ہما مسعود نے اپنا مقالہ بعنوان’’اردو نظم میں نئی صدی کا سماج‘‘ پیش کیا جس میں انہوں نے کہا کہ آنے والا ہر دور اپنے ساتھ نئے مسائل لے کر آتا ہے ۔ سماج میں جو بھی اخلاقی بحراون انسانی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں ان کو ایک شاعر اور ادیب اپنی تخلیقات میں پیش کرتا رہتا ہے۔

اردو سیشن کے بعد اردو رسرچ اسکالر سیشن عمل میں آیا اس سیشن کی صدارت کے فرائض پروفیسر شبنم حمید(الہ آباد) ڈاکٹر محمد کاظم(دہلی) نے مشترکہ طور پر ادا کئے۔ پروفیسر شبنم حمید نے صدارتی خطبہ میں کہا کہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ اس سے قبل بھی سماج میں لوگوں کے سامنے مسائل و دشواریاں آئی ہیں اس لئے ہمیں دانشوری ، حوصلہ مندی اور صلہ رحمی سے کام لینا ہوگا۔ ڈاکٹر محمد کاظم نے کہا کہ سماج میں ادیب اور شاعر کے علاوہ عام انسان بھی سماجی تغیرات سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس نازک گھڑی میں افسانہ نگار ،ناول نگار اور ڈراما نگار اپنی اپنی تخلیقات میں سماجی تغیرات کو پیش کر رہے ہیں۔اجلاس میں اردو رسرچ اسکالر نے اپنے اپنے مقالات پیش کئے ۔ جس میں تسلیم جہاں نے اپنا مقالہ بعنوان’’نورالحسنین کے ناولوں میں سماج کی عکاسی‘‘ پڑھا۔ انہوں نے مقالے میں کہا کہ سیاسی ماحول ، سماجی کشمکش اور انسانی مسائل کو نورالحسنین نے اپنے افسانوں میں منفرد انداز میں پیش کیا۔ ان کے افسانے حقیقت کے موضوعات پر مبنی ہیں۔ سید ساجد علی نے ’’بدلتے حالات کے ساتھ ادیبوں کی ذمہ داریاں‘‘ عنوان سے مقالہ پیش کیاجس میں انہوں نے کہا کہ کورونا ، وبائی بیماری کے ماحول کے بعد نئی امیدوں کو جگانے کے لئے ادیبوں کو آگے آنا ہوگا۔فرح ناز نے بعنوان’’ اسد رضا کی طنز یہ شاعری میں سماجی مسائل‘‘ پیش کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اسد رضا نے اپنے کلام میں سماجی برائیوں کو پیش کیا ہے۔ نوید خان نے ’’کورونا اور ادب کا تقاضا‘‘ کے عنوان نے مقالہ پیش کیاانہوں نے اپنے مقالے میں کہا کہ آج ہمارا سماج کورونا جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہے۔ اس سے قبل بھی قدرتی آفات نے دنیا کو نئی نئی بیماریوں سے متاثر کیا ہے مگر ایسے نازک حالات میں ادیبوں اور شعراء کا بھی ادبی تقاضا ہے کہ وہ اپنی تخلیقات کے ذیعہ سماج میں امن چین سکون کا ماحول پیدا کریں۔
اردو رسرچ اسکالر سیشن کے بعد تیسرااجاس محفل افسانہ عمل میں آیا جس میں تین افسانہ نگاروں نے اپنے اپنے افسانے پیش کئے پہلا افسانہ ارشد منیم نے ’’آنسو‘‘دوسرا افسانہ فہیم اختر نے ’’کتے کی موت‘‘ اورتیسرا افسانہ ڈاکٹر فرقان سنبھلی نے’’ سلیب پر لٹکے ہوئے لوگ ‘‘ پڑھے ۔ ڈاکٹر پرویز شہریار(دہلی) اور محترم اشتیاق سعید (ممبئی) نے مشترکہ طور پر صدارت کے فرائض انجام دیے۔ ڈاکٹر پرویز شہر یار نے کہا کہ تینوں افسانوں میں تہداری اور سماج کی عکاسی نظر آتی ہے اور ادیبوں نے بھی سماج میں پھیلے مسائل، بیماریاں اور ان سے پیدا شداہ المیاتی ماحول کو اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے۔ محترم اشتیاق سعید نے افسانہ نگاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اس نازک وقت میں لکھے جانے والے افسانوں میں سماج کی بھر پور عکاسی محسوس ہورہی ہے، نئے نئے افسانہ نگاروں نے عہد حاضر کے مسائل کو خوبصورتی سے اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے۔
محفل افسانہ کے بعد ایک شاندار کوی سمیلن اور مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس کوی سمیلن اور مشاعرہ کی صدارت محترم عارف نقوی (صدر اردو انجمن برلن، جرمنی) نے کی اور قومی وبین الاقوامی سطح کے شاعراور شاعرات نے آن لائن شرکت کی ان شعرء میں محترم جاوید دانش(کناڈا) صدف مرزا(ڈنمارک) عشرت معین سیما(جرمنی) مقصود انور مقصود(قطر) ڈاکٹر ولا جمال(مصر) پروفیسر شہپر رسول(دہلی) پروفیسر فاروق بخشی(حیدرآباد) ڈاکٹر نواز دیوبندی(دیوبند) محترم ذکی طارق(غازی آباد)محترمہ علینا عترت(غازی آباد)فخری میرٹھی (میرٹھ) محترم تُشا شرما (میرٹھ) احمد علوی (دہلی) اظہر اقبال (میرٹھ)ڈاکٹر فرحت حسین خوش دل، ایشور چند گمبھیر(میرٹھ) اور فرقان سر دھنوی وغیرہ نے اپنا کلام پیش کیا۔ اس بین الاقوامی کوی سمیلن اور مشاعرہ کی نظامت ڈاکٹر فرقان سردھنوی نے کی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*