صفورہ سے دیشا تک-جو چپ رہو گے تو اپنی بھی باری آئے گی-ڈاکٹر عابد الرحمن

’’اختلاف رائے، عدم اتفاق اور یہاں تک کہ ناراضگی حکومتی پالیسیوں پر اعتراض کرنے کے جائز طریقے ہیں۔لا تعلق اور تابع دار شہریوں کے مقابلے میں باخبر اور باشعور شہری غیر متنازعہ طور پر صحت مند جمہوریت کی نشانی ہیں، اختلاف کا حق آئین ہند کی شق ۱۹ میں بہت مضبوطی سے داخل ہے ،عالمی سامعین کی تلاش کا حق اظہار رائے کی آزادی میں شامل ہے، مواصلات میں کوئی جغرافیائی رکاوٹ حائل نہیں ،ایک شہری کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے خیال کو لوگوں تک پہنچانے اور دوسروں کے خیالات سے آگاہ ہونے کے لئے مواصلات کے بہترین ذرائع کا استعمال کرے جب تک کہ یہ قانون کی چاردیواری کے اندر ہو ۔‘‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئین ہند میں شہریوں کو دئے گئے اختلاف رائے کے حق کی یہ تشریح دہلی کے ایڈیشنل جج عزت مآب دھرمیندر رانا نے بیان کی ہے ۔ عزت مآب جج نے یہ نکات دراصل ماحولیاتی کارکن دیشا روی کی ضمانت کے فیصلے میں بیان کئے ہیں ۔ دیشا روی بنگلورو کی رہنے والی ہے پچھلے دنوں دہلی پولس نے اسے ٹول کٹ معاملے میں دیش دروہ اور سازش کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے جو ٹول کٹ شیئر کی تھی اس میں کچھ تبدیلیاں کی تھیں بلکہ وہ ٹول کٹ کی تیاری اور اس کو پھیلانے کی کلیدی سازشی تھی اور اس ضمن میں ایک واٹس ایپ گروپ بھی بنایا تھا ۔ اس پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ وہ خالصتان کی حامی تنظیموں کے رابطے میں تھی اور اس کا مقصد کسانوں کے احتجاج کی آڑ میں نفرت پھیلانااور ملک کو بدنام کرنا تھا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ٹول کٹ جس کی بنیاد پر سویڈن کی شہری گریٹا تھنبرگ پر ایف آئی آر کی گئی ، دیشا روی، ممبئی کی ایک وکیل نکیتا جیکب اورپونے کے شانتنو ملک پر ایف آر آئی اور تفتیش ہو رہی ہے وہ درحقیقت کچھ مضامین سوشل میڈیا کے ہینڈلس اور کسان احتجاج کے متعلق معلومات کا مجموعہ ہے۔ یہ بظاہر ان لوگوں کے لئے ہے جو اس اشو کے متعلق جاننا چاہتے ہیں اس کا ایک مقصد لوگوں کو تحریک کی معلومات فراہم کرنا اور انہیں اس میں شامل ہونے کے لئے آمادہ کرنا بھی ہے ۔ پولس کا الزام ہے کہ یوم جمہوریہ کو لال قلعہ پر ہونے والا تشدد بھی اس ٹول کٹ سے جڑا ہے اور کچھ خالصتانی تنظیمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہ رہی ہیں۔ خیر تحقیق اور عدالتی چھان پھٹک کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ اس ٹول کٹ اور اس کی بنیاد پر مذکورہ افراد پر لگائے گئے الزامات کتنے صحیح ہیں ۔ ویسے دیشا روی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے معزز جج صاحب نے کہا ہے کہ اس ضمن میں ثبوت قلیل اور مختصر ہیں ۔ معزز جج صاحب نے جو سب سے اہم بات کہی وہ یہ ہے کہ شہریوں کو صرف اس وجہ سے سلاخوں کے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا کہ وہ حکومت کی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے ، بغاوت یا دیش دروہ کا جرم حکومت کے زخمی وقار کی خدمت کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ دیشا روی کا یہ کیس جہاں اختلاف رائے کی آزادی کے سکڑتے دائرے کو ظاہر کرتا ہے وہیں یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کی مخالفت کرنے والوں یا اس کے فیصلوں سے اتفاق نہ کرنے والوں کو کس طرح انٹی نیشنل قرار دے کر نہ صرف بدنام کیا جارہا ہے بلکہ ملک کی اکثریت کو بھی ان کے خلاف ورغلا کر دراصل جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔

دیشا کے معاملے میں یہ بھی الزامات لگائے گئے ہیں کہ اس کی گرفتاری اور دہلی کورٹ میں پیشی میں قانونی پروسیجر کو پوری طرح فالو نہیں کیا گیا ، اسی طرح یہ الزا م بھی لگایا گیا کہ دہلی کورٹ میں اس کی پہلی سماعت اس کے وکیل کی عدم موجودگی میں ہوئی جبکہ قانون یہ ہے کہ اگر کسی ملزم کی نمائندگی کے وکیل نہیں ہیں تو کورٹ اسے فراہم کرے ۔ یعنی شہریاروں کے جنگل میں کوئی بھی کسی بھی وقت کسی بھی طریقے سے اٹھا یا جاسکتا ہے۔ اور لوگ اس سے خوف زدہ بھی ہوگئے ہیں یا تو خاموش ہیں یا پھر حکومت کی ہاں میں ہاں کرتے نظر آرہے ہیں ۔اچھے اچھے لوگ جو پچھلی سرکاروں کے دور میں مہنگائی پر یا عوامی معاملات میں سرکاروں پر تنقید کیا کرتے تھے اب نہ صرف یہ کہ خاموش ہیں بلکہ شرم کے مارے اپنے پچھلے ٹویٹ ڈلیٹ بھی کئے دے رہے ہیں بلکہ کچھ لوگوں نے دیشا روی کے معاملے میں سوال اٹھانے والوں کو بھی سازشی قرار دیتے ہوئے صدر جمہوریہ ہند کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے ، دیشا روی کی ضمانت اور اس ضمن میں محترم جج صاحب کے ریمارکس پر ان کی کیا کیفیت ہے یہ نہیں معلوم ہوسکا، کہیں وہ جج صاحب کو بھی سازش کا حصہ نہ قرار دے رہے ہوں۔ عوامی حمایت ہی دراصل حکمرانوں کو ڈکٹیٹر بنادیتی ہے اور ڈکٹیٹروں کو من مانی کی طرف لے جاتی ہے اور اسی سے ڈکٹیٹر خود اپنے آپ کو ملک اور عوام کو اپنی جاگیر سمجھ لیتے ہیں ان پر اپنی مرضی کے قوانین تھوپتے ہیں اور اپنی مرضی کی محدود آزادی انہیں دیتے ہیں ، ان کی مرضی کے دائرے سے باہر جانے والا ہر شخص ان حکمرانوں کا مخالف نہیں بلکہ ڈائریکٹ دیش دروہی اور انٹی نیشنل قرار دیا جاتا ہے ۔ وطن عزیز میں بھی یہی کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ، حکومت اپنی مرضی لوگوں پر مسلط کر رہی ہے قوانین تھوپ رہی ہے اور پھر ان کے اختلاف یا احتجاج کو بھی خاطر میں نہیں لا رہی ، ہر اختلاف کو حکومت سے اختلاف نہیں بلکہ ملک سے اختلاف اور دیش دروہ قرار دیا جارہا ہے ، اختلاف کرنے کی آزادی چھینی جارہی ہے اور جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں ان کے خلاف دشنام طرازی بد سلوکی اور بد تمیزی کرنے کی مکمل آزادی عطا کی جارہی ہے ۔

اختلاف کر نے والوں پر بے دریغ دیش دروہ کے مقدمے قائم کئے جارہے ہیں اور انہیں گرفتار کر جیل بھیجا جارہا ہے ۔ مذہبی قوم پرستی اور مسلم مخالفت کی افیون کے نشے میں مست جو لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ اس طرح کے معاملات صرف مسلمانوں کے خلاف ہوں گے ہندوؤں کے خلاف نہیں تو شاید اب انہیں سمجھ آگئی ہوگی کہ ایسا نہیں ہے ۔ہاں ہوسکتا ہے مسلمانوں کے مقابلے انہیں تھوڑی رعایت مل جائے ۔ مسلمانوں پر جو سختی کی جائے گی ہندوؤں کو اس سے نہیں گزارا جائے گا جیسا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے کی پاداش میں ان احتجاجات پر دہلی فسادات کا الزام لگا کر جامعیہ ملیہ اسلامیہ کی ریسرچ اسکالر صفورہ زر گرکو گرفتار کر کے اس پر یو اے پی اے جیسا سخت قانون لگا کر اس کی ضمانت کی راہ مسدود کردی گئی تھی ،خیر سے ویسا دیشا کے معاملے میں نہیں ہوا ۔اتفاق سے صفورہ کی ضمانت کی درخواست کی سنوائی بھی دیشا روی کو ضمانت دینے والے اور اپنے فیصلے میں پولس اور حکومت کو سخت و سست سنانے والے محترم و معزز جج دھرمیندر رانا ہی نے کی تھی۔ حالانکہ وہ معاملہ بھی بنیادی طور پر حکومت سے اختلاف رائے اور عدم اتفاق ہی کا تھا اور دیشا کی طرح صفورہ بھی عورت تھی اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں تھا اور تو اور وہ حاملہ بھی تھی لیکن اسے کوئی رعایت نہیں ملی تھی ۔خیر! اب کسانوں کے احتجاج اور اس پر حکومت کے رویہ کو دیکھ کرملک کے ہر ہر شہری کا جاگ جانا ضروری ہے کہ اگر اب بھی ہم نے قومی اور مذہبی عصبیت کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی جمہوریت کو مضبوط کرنے ، اختلاف رائے کی آزادی کو قائم رکھنے اور حکومت سے عدم اتفاق اور دیش دروہ کو الگ الگ بنائے رکھنے کے لئے اپنے حصہ کا یوگدان نہیں دیاتو کل اگر اسی طرح کے معاملات ہمارے ساتھ پیش آئے تو اس کی مخالفت کی گنجائش بھی باقی نہیں رہے گی۔کل صفورہ زرگر تھی آج دیشا روی ہے کل کسی پر بھی یہی باری آسکتی ہے، بلکہ ملک کا ہر شہری کسی نہ کسی صورت اس کی زد میں ضرور آئے گا پھر چاہے وہ ہندو ہو یا مسلم ،حکومت کا پرزور حامی ہو یا مخالف ۔