سفرنامۂ افغانستان کے تاریخی پہلو ـ محمد اکرام الحق ندوی

 

اردو زبان میں بھی دیگر زبانوں کی طرح سفر ناموں کی کوئی کمی نہیں ، بہت سے بیش قیمت سفرنامے ارباب کمال واہل قلم کے خامۂ عنبر فشاں سے نکل کر ادبی دنیا میں شہرت کے بام کو چھو چکے ہیں ، جیسے علامہ شبلی نعمانی کا ” سفرنامہ مصر وروم وشام ” مولانا عبد الماجد دریابادی کا "سیاحت ماجدی ” ابن انشا کا ” دنیا گول ہے ، آوارہ گرد کی ڈائری ” ڈاکٹر کلیم عاجز کا سفرنامہ حج ” یہاں سے مدینہ ،مدینہ سے مکہ ”، حضرت مفتی تقی عثمانی کا ” جہان دیدہ اور پروفیسر محسن عثمانی کا ” دنیا کو خوب دیکھا "۔

 

سفرنامہ کی قدر وقیمت اس وقت دو چند ہوجاتی ہے جب وہ کسی صاحب طرز ادیب اور صاحب فکر ونظر عالم کے قلم سے معرض وجود میں آیا ہو ۔

 

انہی سفرناموں کے جھرمٹ میں ایک اہم سفرنامہ ” سفرنامہ افغانستان ” ہے ، جو علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے قلم گوہر بار کا مرہون ہے ، یہ ایک شاہی سفر تھا جو سید صاحب نے ١٩٣٣ء میں نادر شاہ کی دعوت پر کیا تھا ، آپ کے اس شاہی سفر کے رفقا علامہ اقبال اور سر راس مسعود تھے ۔

 

سفرنامہ افغانستان ایک سو چھپن صفحات پر مشتمل ہے ، سید صاحب نے اس میں افغان کی قومی خصوصیات ، عربی مدارس اور علما کی حالت زار ، میوزیم ، مقابر ، اساطین ادبیات فارسی حکیم سنائی ، فرخی ، کشور کشان ہند محمود غزنوی ، بابر ، تیمور کا عمومی تذکرہ کیا ہے اور سابق مؤرخین وتذکرہ نویسوں کی بعض تاریخی غلطیوں پر گرفت بھی کی ہے ، یہی تحقیق وتنقید علامہ کی تحریروں کی خاص پہچان ہے ۔

 

خواجہ حسن نظامی کا بھی ” سفرنامۂ افغانستان” کے نام سے ایک سفرنامہ ہے ، جس میں انہوں نے محمود غزنوی کی تاریخ وفات روز پنچشنبہ 17 ربیع الثانی 421 ھ لکھی ہے ، جو کہ غلط ہے ، سید صاحب نے بھی سلطان محمود غزنوی کے مقبرہ کی زیارت کی اور اس پر لگے ہوئے کتبہ کو پڑھا ، کتبہ میں مرقوم ہے ” نؤمن برحمة الله عليه ونور حفرته وابيض وجهه عشية يوم الخميس لسبع بقين من شهر ربيع الآخر لسنة إحدى وعشرين واربع مأة ”

کتبہ نقل کرنے کے بعد خواجہ حسن نظامی کی غلطی پر گرفت کرتے ہوئے سید صاحب لکھتے ہیں ” جناب خواجہ حسن نظامی صاحب نے اپنے سفر نامۂ افغانستان میں اس کتبہ کو اس طرح پڑھا ہے يوم الخميس سبع عشر من ربيع الآخر سنة إحدى وعشرين واربع مأة (روز پنچ شنبہ 17 ربیع الاخر 421ھ) اور یہ پڑھ کر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ” مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ سلطان کی وفات اس تاریخ کو ہوئی ہے جو حضرت خواجہ نظام الدین اولیا محبوب الہی کی تاریخ وفات ہے ” مگر موصوف کی یہ خوشی بجا نہیں ان سے کتبہ پڑھنے میں سہو ہوا ہے ” اور درست تاریخ وفات (٢٣ربیع الثانی ) کی تائیدمیں سلاطین غزنوی کی قدیم ترین تاریخ "زین الاخبار ” کی عبارت بطور دلیل پیش کی ہے ، جس میں یہی تاریخ مرقوم ہے ” وفات امیر محمود رحمۃ اللہ علیہ روز پنچشنبہ بود ، بست وسوم ماہ ربیع الاخر سنہ احدی وعشرین واربع مأۃ” ۔

 

سفرنامہ افغانستان کی تاریخی وتحقیقی حیثیت پر ایک اور مثال پیش کرتاہوں ۔ سید صاحب کا نظریہ یہ تھا کہ ہندوستان کے راجپوت اور افغانستان کے پٹھان دونوں ایک ہی قوم ہیں -لیکن یہ نظریہ مزید دلائل کا محتاج ہے – ان میں سے جو ہندوستان آکر ہندؤوں میں شامل ہوگیا اس نے راجپوت نام پایا اور جو ادھر رہ گیے اور بعد کو اسلام سے مشرف ہوئے وہ پٹھان کہلائے ۔

 

مؤرخ مسعودی جس نے 304 ھ کے آس پاس اطراف سندھ کا سفر کیا تھا ، وہ قندھار کے ذکر میں لکھتا ہے "والقندهار يعرف ببلاد الرهبوط ” یعنی قندھار رہبوط کا مشہور علاقہ ہے، سید صاحب "رھبوط ” کو راجپوت کا معرب مانتے ہیں ، مؤرخ مسعودی نے غالبا سندھ میں قندھار کے پٹھانوں کا لقب راجپوت سنا ہوگا ۔

 

مذکورہ دونوں مثالوں کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ سفرنامۂ افغانستان کا مطالعہ تاریخ کے طلبہ کے لیے یقینا مفید ہوگا ، وہ اس مختصر سے سفر نامہ کے ذریعے قدیم افغانستان اور بیسویں صدی کے افغانستان کے ان بہت سے واقعات وحالات سے واقفیت حاصل کر لیں گے ، جن کو جاننے کے لیے ہزاروں صفحات کی ورق گردانی کرنی ہوگی ۔