صدیوں تک یاد رہ جانے والی عید-پروفیسر اسلم جمشید پوری

کورونا جیسے مہلک مرض نے سب کچھ تبدیل کر دیا ہے۔ رہن سہن ، سفر، حضر ، تعلیم ،عبادت ، ملنا جلنا، سونا جاگنا، جیسے معمول کے اعمال بھی بدل چکے ہیں۔ اجتماعی زندگی تو اس قدر متاثر ہوئی ہے کہ سب کچھ غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی ہو گیا ہے۔ شادی بیاہ ، پارٹیاں، ریستوراں، کیفے، جلسے، جلوس، سیمینار، مشاعرے، نمازیں، حج، دینی جلسے، مدرسے، اسکول، کالج، رکشہ، ٹیمپو، بس ، ریل، ہوائی جہازوغیرہ نہ صرف بند ہیں بلکہ اب تو یہ اُمید بھی نہیں کہ یہ سب کے سب بہت جلد معمول پر آ جائیں گے۔
دنیا نے ایک سے ایک پُر خطر زمانے دیکھے۔ 1857ء سے 1947ء تک کا زمانہ دیکھا۔ ایک طویل المدت جدو جہد آزادی، لاکھوں لوگوں کی شہادت، بھوک پیاس، ظلم و ستم سب کچھ دیکھا۔ 1914ء سے 1918ء تک پہلی جنگ عظیم کا زمانہ بھی دیکھا۔ بھیانک جنگ ،اس کے خطرناک نتائج اوردنیا کو دو خطوںمیں منقسم ہوتے دیکھا۔ مظلوم اورشکست خوردہ ممالک کے ساتھ ، فاتحین کا سلوک بھی دیکھا۔ فاتحین نے جس طرح مفتوح ممالک کی آزادی سلب کر کے ان کے معدنیات ، زرخیز خطے اور دیگر معاشی معاملات کو اپنے قبضے میںلیا،جوبعد میںکشید گی کا سبب بھی بنا۔
1919ء کا جلیان والا باغ کا قتل ِ عام کسے یاد نہیں۔ جنرل ڈائر کو کیا کوئی ہندوستانی بھول سکتا ہے ، جس کے حکم پر نہتے ہندوستانیوں پر بےدریغ گولیاں برسائی گئیں۔
دنیا کے حالات میں ایک بار پھر کشید گی اورسرد جنگ کا آغاز ، پھر 1939ء سے 1945ء تک چلنے والی طویل دوسری عالمی جنگ بھی دینا نے دیکھی۔ اس دوران کیا کیا ظلم نہیں ہوا۔ دینا میں پہلی بار ایٹم بم کا امریکہ نے استعمال کیا۔6 اگست 1945ء کا دن یوں تو پوری دنیا کبھی نہیں بھول سکتی مگر جاپان کے بچے بچے کے دل دماغ میں اس دن کا جو گہرا زخم ہے، وہ کبھی نہیں بھر سکتا۔
1947ء میں ہندوستان کی تقسیم ، ہجرت ، ملک گیر سطح کے فسادات اوردم توڑتی انسانیت، سات دہائیوں بعد بھی آج تک ہمارے ذہن اوردل پر نقش ہے۔ دونوں طرف کے عوام اپنے خونی رشتوں سے ہمیشہ کے لیے الگ ہو گئے۔ ہندوستان کے پس منظر میں یہ سب سے بڑی ہجرت تھی اور اس موقع پر ملک گیر سطح پر ہونے والے قرقہ وارانہ فسادات بھی آج تک کے سب سے بڑے فساد کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
درج بالا تمام واقعات کے وقت بھی عبادتگاہیں،نماز ،جمعہ،تراویح،جمعۃالوداع،عیدین وغیرہ کبھی اس طور متاثرنہیں ہوئے کہ مہینوں عالمی سطح پر تعطل کاشکار رہے ہوں۔
2020ء بھی یاد گار ہے۔ ابھی تو سال کا نصف بھی دور ہے، تین چار مہینے کی ہی مدت میں ہندوستانی عوام نے کئی یادگار واقعات و حادثات دیکھ لیے۔ ابھی این آرسی، این پی آر، سی اے اے کے قانون اور اس کی مخالفت کے تاریخ ساز دور کے شعلے ٹھنڈے بھی نہیں ہوئے تھے کہ دہلی کا ایک علاقہ ہولی سے قبل فرقہ پرستی کی ہولی کا گواہ بن گیا۔ دونوں معاملات میں ہندوستان کی آبادی کا ایک بڑا حصّہ بُری طرح متاثر ہوا ۔ یہ معاملات ٹھنڈے بھی نہیں پڑے تھے، زخموں سے ابھی خون رس ہی رہا تھا کہ کورونا جسیی مہلک وبا نے ہمیں ایسا جکڑ ا کہ ساری زندگی اور تمام حرکات و سکنات قید ہو کر رہ گئیں۔ زندگی میں پہلی بار یہ بھی دیکھا کہ نمازیں منسوخ ہوئیں۔ جمعہ سے محروم ہوگئے۔ رمضان کی آمد کی کوئی خوشی نہ جشن ۔ گھروں میںقیدمسلمانوں نے اپنی یاد میں شاید پہلی باررمضان کی نماز یں ، جمعہ ، تراویح وغیرہ کا گھروں میں اہتمام کیا ہو۔ بس رسم ادائیگی ہی کی گئی۔
پے درپے ، لاک ڈاؤن کے تین دور کے بعد اُمید کے چراغ روشن ہو رہے تھے کہ عید سے قبل کچھ رعایتیں مل جائیں گی۔ اور مساجداور عید گاہیںپھر سے سجدوں سے آباد ہو سکیں گی۔ لیکن چوتھے لاک ڈاؤن نے جو 31؍ مئی تک کے لیے نافذ کیا گیا، کئی طرفہ وار کیے۔ رہی سہی اُمید وں نے بھی دم توڑ دیا۔ عید کی خوشیاں تو دور کی بات ، عید کی واجب نمازوں (معمول کے مطابق مساجد اورعیدگاہوں میں) کے بھی لالے پڑگئے۔ جمعتہ الوداع ، اُف ! کتنی رونق ہوتی تھی۔ ہر شہر کی تمام مساجد نمازیوں سے اس طرح بھری ہوتی تھیں کہ جگہ کم پڑ جاتی تھی۔ نماز مساجد کے باہر عام شاہرا ہوں تک پر ہوا کرتی تھی۔ دہلی جامع مسجد کا نظارہ تو سبحان اللہ! دیکھنے لائق ہوتا تھا۔ ڈیڑھ ، دو لاکھ مسلمان جمعۃ الوداع میں سجدہ ریز ہوا کرتے تھے۔ دور دراز کے لوگ دو، تین دن قبل سے آکر جامع مسجد میں جگہ گھیر لیا کرتے تھے۔ اس بار سب کچھ خواب سا ہو کر رہ گیا ہے۔ مسجدوں کی ویرانی دیکھ کر کلیجہ منھ کو آتا ہے۔ دل روتا ہے، آنکھ آب دیدہ ہو جاتی ہے۔ یہ سب ہمارے اعمال بد کا انجام ہی ہے۔ قدرت یعنی خدا ہم سے ناراض ہے۔
لاک ڈاؤن چار سے ایک اور بہت بڑی مصیبت جو سامنے آئی ہے وہ تاریخ ساز ہے۔ ملک کے مختلف بڑے شہروں میں روزی روٹی کھانے کمانے والے یومیہ مزدوروں کو اچانک لاگو ہونے والے پہلے لاک ڈاؤن اورپھر لاک ڈاؤن مکمل ہونے پر گھر واپسی کے روشن ہوتے امید کے چراغوں کی روشنی جب ہر بار بجھتی نظر آنے لگی تو طویل مایوسی ان کے دل و دماغ کا حصّہ بن گئی۔ چوتھے لاک ڈاؤن کے اعلان کے ساتھ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ بے روز گاری ، غریب الوطنی ، کھانے کے لیے بھکاری کی طرح قطار وں میں کھڑے ہونے کے بعد بھی جب اُمید وں کے سارے چراغ بجھ گئے، تو غریبوں ، مزدوروں ، دبے کچلے اور پسماندہ طبقات نے زندگی کے تنگ ہوتے شکنجے کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے سوچا کہ جب بھوکوں مرنا ہے یا بیماری سے مرنا ہے تو اپنوں کے پاس کیوں نہ مریں۔ اپنوں کی محبت ، اپنوں کی جدائی اور بے روزگاری نے ہجرت پر مجبور کر دیا۔بس پھر کیا تھا، لاکھوں نہیں کروڑوں غریب مزدور شہروں سے گاؤں اورقصبات کی طرف نکل پڑے۔ چھوٹی، بڑی سڑکیں، شاہرا ہیں، ریل پٹریوں کے راستے انسانوں کا یہ سمندر پیدل، چھوٹی بڑی گاڑیوں، رکشوں، بیل گاڑیوں سے ایک ایسے طویل سفر پر نکل پڑا جس کی مدت کا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ صحیح سلامت اپنے گاؤں پہنچ جائیں، یہ اُمید لیے ، بھوکے پیاسے پیدل سفر پر نکلے ہزاروں لوگوںکے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب ہم نے دیکھا۔ سینکڑوں لوگوں کو ریل گاڑیوں ، بسوں اورسڑکوں نے نگل لیا۔ گذشتہ آٹھ دس دن سے جاری یہ تاریخی ہجرت ، دینا کی کسی بھی بڑی سے بڑی ہجرت سے کم نہیں۔ جن لوگوں نے 1947ء کی ہجرت نہیں دیکھی تھی صرف سنا تھا یا سعادت حسن منٹو ، کرشن چندر، قدرت اللہ شہاب، عبداللہ حسین ، انتظار حسین ، قرۃالعین حیدر کی تخلیقات میں پڑھا تھا یا تمس جیسے سیریلس اورغدر جیسی فلموںمیں دیکھ کر دل کانپ کر رہ گئے تھے۔موجودہ ہجرت کے نظارے دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہندوستان کی سب سے بڑی ہجرت ہے ۔آج سے 30-40 سال بعد اس ہجرت کو عبرتناک داستان کی شکل میں ہمارے بچے سنیں گے، جیسے ہم نے 47ء کی ہجرت کے بارے میں سنا تھا۔
آگ کے ایسے دریا میں ڈوب کر عید آئی ہے۔ عید کے معنی خوشی،اورلوٹ کر آنے کے ہیں ساتھ ہی اسے رمضان کا انعام بھی کہتے ہیں۔ کیسا زمانہ آیا ہے نہ خوشی ہے ،نہ وہ دن( عام زندگی) لوٹ کر آئے ہیں ، نہ کوئی انعام۔ مسجدیں ویران ہیں ۔ عید گاہوں کے وسیع وعریض کھلے صحن ، اپنی ویرانی پر ماتم کدہ ہیں ۔ صفیں نمازیوں کے لمس کوترس رہی ہیں۔کورونا نے لوگوں کو پہلے گھروں میںقید کیا۔ ہزاروں بیماری کا نوالہ۔ بنے، لاکھوںقرنطینہ میں ہیں۔ اور اب لاکھوں اورکروڑوں بے بس، بے روزگار ، غریب الوطن لوگ سڑکو ں پراس طرح آباد ہو رہے ہیںکہ سڑکوں کی ویرانی کم تو ہوئی ہے لیکن یہ کیسی زندگی ہے۔ زندگی موت بن گئی ہے۔حادثوں میں مارے جانے والوں سے سڑکیں آباد نہیں ، مزید خوفناک ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ وہمناظر ہیں جوآنکھوں میں آنسو،مایوسی،بے بسی اورلال رنگ عطا کر رہے ہیں۔نجانے کب کوئی مسیحا آئے گا اور ان مزدوروں کے پرانے دن لوٹائے گا۔
ایسے ماحول میں عید آئی ہے۔ کیسی یہ عید ہے؟ ۔ صدیوں یاد رہنے والی یہ عید۔ 2020ء کی عید انسانی تاریخ کی ایک یادگار عید ۔کم از کم اتنا کر لیں اپنی ضرورتیں اور خرچیکم کرکے اپنے ااس پاس سے گذرنے والے یا واپس آجانے والے مزدوروں کی ہر ممکن مدد کریں۔یہ ہی ہماری عید ہو گی۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

  • اقبال.مسعود
    27 مئی, 2020 at 07:24

    بہت عمدہ.مضمون ہے
    اس طرح کے مضامین تاریخ کا حصہ بن جائیں گے اور حوالے میں ادیب کے نام کے ساتھ قندیلکا نام بھی شامل.ہوگا.

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*