سادھوی کا باسکٹ بال کھیلنا اور اسٹان سوامی کا تڑپتے ہوئے جان سے جانا ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
بات دو تصویروں کی ہے ۔ ایک تصویر دیکھ کر ہنسی بھی آئی اور افسوس بھی ہوا ،اور دوسری تصویر دیکھ کر دل تڑپ گیا ۔ پہلی تصویر سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی تھی ، وہی سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر جو مالیگاؤں بم دھماکے کی ملزمہ ہے۔اور دوسری تصویر حقوقِ انسانی کے کارکن فادر اسٹان سوامی کی تھی ،جن کی آج ایک اسپتال میں اس حالت میں موت ہوگئی کہ وہ پولس کی حراست میں تھے ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی موت ایک حراستی موت تھی ۔ سادھوی ایک بم دھماکے کی ،یعنی ایک دہشت گردانہ حملے کی ملزمہ ہے ،ایک ایسا دہشت گردانہ حملہ جس نے کئی جانیں بھی لی تھیں اور ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک لہر بھی دوڑائی تھی ،یہی نہیں اُس دھماکے نے بڑے پیمانے پر مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ بھی شروع کرایا تھا،اور ایک بہت ہی ایماندار پولیس افسر ہیمنت کرکرے کی جان بھی اسی دھماکے کی چھان بین کی بھینٹ چڑھی تھی ۔ سادھوی پر مقدمہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے ،ہاں یہ پوری کوشش ہے کہ مقدمہ ختم ہو جائے ۔بہر کیف اس پر مقدمہ چل رہا ہے لیکن سادھوی کی کوشش رہتی ہے کہ وہ ’بیماری ‘کا رونا رو کر ’جسمانی طور پر‘ مقدمہ کی کارروائی میں شرکت سے بچی رہے ۔ اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی رہی ہے ۔اور کیوں نہ ہو اپنے مقصد میں کامیاب،اسے تو اس ملک کے لوگوں نے ،اور بی جے پی نے ،یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ دہشت گردانہ حملے کی ملزمہ ہے ، ممبرِ پارلیمنٹ جوبنا دیا ہے!تو سادھوی کو تصویر میں باسکٹ بال کھیلتے دیکھا ،اور ہنسی آگئی ،لیکن اس ہنسی میں ایک طرح کا غم بھی تھا ،مایوسی بھی کہ ،یہ وہ سادھوی ہے جو مقدمہ کی تاریخوں میں وہیل چیئر پر بیٹھی نظر آتی ہے ،اور باقی کے دنوں میں دوڑ دوڑ کر باسکٹ بال کھیلتی ہے! کیا یہ انصاف کے منھ پر ایک زناٹے دار طمانچہ نہیں ہے؟ کیایہ ان افراد کو ، جن کے اعزاء اور اقربا دھماکے میں جان سے گئے تھے ، چڑانا نہیں ہے؟ کیاہمارا نظامِ انصاف واقعی اس قدر نابینا ہو گیا ہے کہ اسے یہ تک نظر نہیں آ رہا ہے کہ اس کے ساتھ چھل کیا جا رہا ہے؟ شاید ان سوالوں کے جواب ’ہاں‘ میںہیں۔ اب اس دوسری تصویر کو دیکھ لیں ،اسٹان سوامی ،جن کی عمر ۸۴ سال تھی ،دلتوں اورپچھڑوںکے حق میں آواز اٹھانے کے لیے قید کئے گیے ،بیمارتھے مگر سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیے گیے ،اور جیسا کہ سوامی کے وکیل ایڈوکیٹ مہر دیسائی کا کہنا ہے ،ان کے علاج معالجہ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ،یہ تو بامبے ہائی کورٹ میں جب اس تعلق سے درخواست کی گئی تو ان کا علاج شروع ہوا ،لیکن اتنی دیر ہو چکی تھی کہ ضعیف العمر سوامی کا دل جواب دے گیا اور ان کی موت ہوگئی۔ سوامی جیل میں تھے ،کورونا ہوا ،ضمانت کی عرضی دی گئی جسے رد کر دیا گیا ،اور اپنی آخری سانس تک وہ ضمانت پانے کے لیے جدوجہد کرتے رہے ،ضمانت نہ ملنا تھی نہ ملی۔ بات تصویر کی کرتے ہیں،سوامی کا علاج ہو رہا ہے ، انہیں نسوں کے ذریعے دوا یا غذا دی جا رہی ہے اور ان کے پیر ایک زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں ،زنجیر ان کے بیڈ سے باندھ دی گئی ہے ۔ کیا ایک ضعیف العمر قیدی کے ساتھ اس طرح کی حرکت کی اجازت قانون دیتا ہے؟ کیا جس طرح سادھوی کے علاج اور معالجہ پر حکام نے توجہ دی اور آج بھی دے رہے ہیں ،سوامی کے علاج معالجہ پر توجہ نہیں دی جا سکتی تھی؟ کیا کورونا کے مریض کو ضمانت پر اپنا علاج کرانے کی اجازت دینا قانوناً منع ہے؟یا پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ ’ہندوتوادیوں‘ پر نرمی ،اور حکومت پر تنقیدیں کرنے والوں پر سختی برتنے کا کوئی’ غیر لکھا ہوا ‘ قانون موجود ہے ، جس سے عام لوگ ناواقف ہیں؟ مہر دیسائی نے این آئی اے اور تلوجہ سینٹرل جیل کے عملے کو سوامی کی موت کا ذمےدار قرار دیا ہے اور باقاعدہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔اس مطالبے پر غور کیا جانا چاہیے ،کیونکہ جیلوں اور حراست میں قیدیوں سے بھید بھاؤ اور مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر ان کے حقوق کی پامالیوں کے ایک دو نہیں بہت سے واقعات سامنے آئے اور آ رہے ہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)