صدقۃ الفطر کتنا ادا کریں؟ ـ عبداللہ ممتاز

جس طرح مذہب اسلام دیگرمذاہب کے مقابل ایک معتدل اور متوازن مذہب ہے ، ایسے اسلام کے شرعی احکامات بھی معتدل ومتوازن ہے اور امت کے مختلف طبقات کی رعایت ملحوظ ہے۔ اسلام لوگوں کے درمیان عدل کا داعی ہے، مساوات کا متقاضی بالکل نہیں۔ یعنی اسلام سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنے اور ہاتھی وچیونٹی کو برابر اور شیر وہرن کو یکساں خوراک دے کر مساوات برتنے کا قائل نہیں ؛ بلکہ ہر شخص پر اس کے احوال کے اعتبار سے احکام لاگو کرتا ہے؛ چناں چہ اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے حج امت کے ایک بڑے طبقہ پر فرض نہیں ہے، زکاۃ ادا کرنے کا بھی ہر شخص مکلف نہیں ہے، بعض حالات میں روزوں کی قضاء یا فدیہ کی اجازت ہے، عورتوں سے ان کے مخصوص ایام میں نماز یں معاف ہوجاتی ہیں۔ جب اسلام کے بنیادی ارکان کا یہ حال ہے تو ظاہر ہے دیگر احکام میں بدرجۂ اولی یہ اصول ملحوظ ہوگا ۔
دیکھیے اسلام نے زکاۃ کی فرضیت کے وقت معیار زکاۃ کو اس طرح متوازن بنایا کہ جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا پانچ اونٹ یا پچیس گائے /بھینس یا چالیس بکری یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت کے برابر مال تجارت ہو تو اس پر زکاۃ فرض کی۔ اشیاء کی قیمتیں مختلف ہوتی ہیں اور رفتار زمانہ کے ساتھ اس میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، اس لیے محض ایک چیز کو معیار زکاۃ نہیں بنایا اور نہ ہی ادائیگی زکاۃ کےلیے کوئی رقم مخصوص کردی کہ ہر شخص کے لیے سالانہ اتنی رقم بطور زکاۃ ادا کرنی ضروری ہے؛ بلکہ مختلف چیزوں کو معیار زکاۃ بناکر اس پر فیصد متعین کردی کہ اپنی بنیادی ضروریات اور استعمالی چیزوں کے علاوہ اموال جس پر ایک سال گزر جائے اس میں سے ڈھائی فیصد مال مخصوص لوگوں (جنھیں قرآن میں بیان کردیا گیا ہے) کو دینا ۔
فرض ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص ایک لاکھ کا مالک ہے تو اس پر ڈھائی ہزار روپے کی زکاۃ ادا کرنا ضروری ہے اور دوسرا شخص جو پانچ لاکھ کا مالک ہے اس کےلیے بارہ ہزار پانچ سو اور جو شخص ایک کروڑ کا مالک ہے اس کےلیے ڈھائی لاکھ روپے بطور زکاۃ مستحقین کو دینا فرض ہے۔
ایسے ہی صدقۃ الفطر کی ادائیگی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایک پیمانہ مقرر نہیں فرمایا کہ ہر شخص اتنے روپے صدقۃ الفطر ادا کرے یا کوئی ایک شئے نہیں مقرر فرمائی کہ ہر شخص چاہے ایک لاکھ کا مالک ہو یا ایک کروڑ کا، اتنا کھجور صدقہ کرے؛ بلکہ حسب مزاج شریعت نے اس میں بھی لچک رکھی اور صدقۃ الفطر کی ادائیگی کے لیےشریعت نے چار چیزوں کو معیار مقرر فرمایا (1)ایک صاع کھجور (2) ایک صاع جو (3)ایک صاع کشمش (4) نصف صاع گندم
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: «كنا نعطيها في زمان النبي صلى الله عليه وسلم صاعا من طعام، أو صاعا من تمر، أو صاعا من شعير، أو صاعا من زبيب» ، فلما جاء معاوية وجاءت السمراء، قال: «أرى مدا من هذا يعدل مدين» صحيح البخاري (2/ 131)
زمانۂ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک کبھی ان چاروں چیزوں کی قیمتیں مساوی نہیں ہوئی ہیں ، چار الگ الگ چیزوں کو صدقۃ الفطر کے لیے معیار قرار دینے کا مقصد یہی تھا کہ الگ الگ احوال کے لوگوں کی رعایت ہو؛ چناں چہ صحابہ کرام الگ چیزیں صدقۂ فطر میں ادا کرتے تھے۔
ہندوستان میں چوں کہ گندم کی فصل عام ہے اور سہولت سے خاص وعام کو مل جایا کرتا تھا، اس کے مقابل دیگر چیزیں نایاب تھیں یا کمیاب ، اس لیے شاید علماء نے نصف صاع یعنی پونے دو کلو گندم کو بطور صدقۃ الفطر ادا کرنے کا حکم دیا اور اور دسری چیزوں کا اپنے فتوے یا رمضان کے موقع پر جو اشتہارات شائع ہوتے ہیں اس میں ذکر نہیں کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ زمانہ بدل گیا، رسل وسائل کی سہولتیں دستیاب ہوگئیں اور دیگر چیزیں یعنی کھجور اور کشمش بھی اسی آسانی کے ساتھ دستیاب ہونے لگیں جیسے گندم دستیاب ہے، یعنی ایک ہی مارکیٹ سے آپ گندم بھی خرید سکتے ہیں اور کھجور وکشمش بھی؛ لیکن تب بھی ہم نہیں بدلے۔ ہم آج بھی اکابر کی اسی روش پر باقی ہیں اور صدقۃ الفطر کے اشتہارات، جمعہ کے اعلانات اورفتووں میں پونے دو کلو گیہوں یا اس کی قیمت کا ذکر کرتے ہیں اور دیگر چیزوں کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں ، جب کہ ہندوستان کی صورت حال میں یہ "کم از کم” (menimum) ہے، یعنی صاحب نصاب لوگوں میں جو سب سے کم درجہ کے لوگ ہیں وہ پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت ادا کریں ، باقی دوسرے درجہ کے لوگ ایک صاع (احتیاطا ساڑھے تین کلو) کھجور یا اس کی قیمت اور تیسرے درجہ کےلوگ ایک صاع کشمش یا اس کی قیمت ادا کریں۔
پاکستان میں کسی حد تک اس حوالے سے بیداری پائی جاتی ہے؛ لیکن ہندوستان کی صورت حال یہ ہے کہ صدقۃ الفطر کا اعلان کرنے والے تما م اداروں کے لیٹر پیڈ ، اخبارات میں شائع ہونے والے علماء کے اعلانات و بیانات میں ہرجگہ پونے دوکلو گندم یا اس کی قیمت شائع ہوتی ہے؛ بلکہ سہولت کے لیے اپنے اپنے علاقے کے حساب سے پونے دو کلو گندم کی قیمت بھی لکھ دیتےہیں جس سے عام مسلمانوں کے لئے صدقۂ فطر میں کھجور یا کشمش کا تصور ہی نہیں ہے۔ ان کو اگر آپ انفرادی یا نجی مجلس میں بتائیں کہ صاحب ثروت لوگوں کو کھجور اور کشمش کے حساب سے صدقۃ فطر ادا کرنا چاہیے تو یہ ان کے لیے بالکل اچنبھے کی بات ہوتی ہے۔
زکاۃ اور صدقۃ الفطر کی ادائیگی کے چلن میں ایک قسم کا تضاد بھی پایا جاتاہے ، یعنی زکاۃ کی ادائیگی میں "انفع للفقراء ” کا بھرپور خیال رکھتے ہیں اس لیے اشیاء ستہ میں سے چاندی کو عام معیار مقرر کرلیا گیا ہے جب کہ صدقۃ الفطر میں اس بات کو بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے۔
صدقۃ الفطر کا مقصد غریب ونادار مسلمانوں کی عید کو بھی خوش وخرم بنانا ہے تاکہ پوری امت مسلمہ اس عید میں شریک ہو اور اس خوشی کے موقع پر کسی کو احساس محرومی نہ ہو۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ الگ الگ حیثیتوں کے لوگ الگ الگ معیار کے اعتبار سے صدقۃ الفطر ادا کریں ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*