سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر کو جھٹکا،عدالت نے پریا رمانی کو ہتک عزک کا مجرم تسلیم نہیں کیا

نئی دہلی:سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر کو ہتک عزت کیس میں راؤج ایونیو عدالت سے جھٹکالگا ہے۔ عدالت نے ان کی مجرمانہ ہتک عزت کی درخواست خارج کردی ہے۔ پریا رمانی کو عدالت نے مجرمانہ بدنامی کے الزام میں سزا نہیں سنائی۔ واضح رہے کہ سال 2018 میں می ٹو مہم کے دوران صحافی پریا رامانی نے سابق مرکزی وزیر مملکت برائے ایم جے اکبر پر استحصال کا الزام عائد کیا تھا۔ اس معاملے میں سابق مرکزی وزیر کی طرف سے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ فیصلے کے دوران عدالت نے کہا کہ اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا عمل اکثر بند دروازوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ عدالت نے اس بات کا جائزہ لیا کہ جنسی استحصال کی شکایات کرنے کے لیے میکانزم کی کمی ہے۔ استحصال کا نشانہ بننے والی زیادہ تر خواتین اکثر بدنامی کے خوف کی وجہ سے آواز اٹھانے سے قاصر رہتی ہیں۔اس سے قبل اکبر اور رامانی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ رویندر کمار نے یکم فروری کو کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ واضح رہے کہ رمانی نے ٹویٹ کیا تھا کہ جب 20 سال قبل اکبر ایک انگریزی اخبار کی ایڈیٹر تھے تو وہ نوکری کے انٹرویو کے لئے ملنے گئی تھی۔ اس دوران اکبر نے اس کا استحصال کیا۔ اس الزام کے بعد اکبر نے 17 اکتوبر 2018 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اکبر نے 15 اکتوبر 2018 کو رمانی کے خلاف شکایت درج کروائی ، جس میں اس نے اپنی شبیہہ کو داغدار کرنے کا الزام لگایا۔ اس واقعے کے بعد اکبر نے 17 اکتوبر 2018 کو مرکزی وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔