سابق جوان تیج بہادر نے پی ایم مودی کے وارانسی سے الیکشن لڑنے کے خلاف دائرکی تھی درخواست،سپریم کورٹ نے خارج کردی

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے وارانسی سے انتخاب لڑنے کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کردیا۔ سپریم کورٹ نے بی ایس ایف کے سابق جوان تیج بہادر کی جانب سے دائر درخواست کو خارج کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (سی جے آئی) ایس اے بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرمنیم کی بنچ نے دیا۔ اس سے قبل 17 نومبر کو عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ تیج بہادر نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرکے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیاتھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کا ماننا تھا کہ تیج بہادر نہ تو وارانسی کے ووٹر ہیں اور نہ ہی وزیر اعظم مودی کے خلاف امیدوار ہیں۔ اس بنیاد پر ان کے انتخاب کے خلاف درخواست دائر کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ عدالت عظمی نے تیج بہادر کے وکیل کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کردی۔بنچ نے کہا کہ وزیر اعظم آفس ایک انوکھا دفتر ہے اور اس کے خلاف درخواست غیر معینہ مدت تک زیر التوا نہیں رہ سکتی۔ عدالت نے کہا کہ تیج بہادر کا پرچہ نامزدگی مناسب یا غیرمناسب طریقے سے مسترد کیا گیا ، یہ ان کی اہلیت پر منحصر ہے۔ سی جے آئی ایس اے بوبڈے نے تیج بہادر کے وکیل کو بتایا کہ ہم آپ کو التوا کی رعایت کیوں دیں۔ آپ انصاف کے عمل کو غلط استعمال کر رہے ہیں۔ آپ بحث کر رہے ہیں۔ وکیل نے دلیل دی کہ بہادر نے پہلے آزاد امیدوار اور بعد میں سماج وادی پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے اپنی نامزدگی داخل کی تھی۔