سابق سی ایم چندرا بابو نائیڈو کے آندھراپردیش میں خیرمقدم پر تنازعہ

وائی ایس آر کانگریس نے کہاان کووارنٹائن ہونا چاہئے
آندھرا پردیش:آندھرا پردیش کے وزیر اعلی جگن موہن ریڈی کی وائی ایس آر کانگریس نے تیلگودیشم پارٹی کے سربراہ چندرا بابو نائیڈو پر کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔نائیڈو پیر کو سڑک کے ذریعے تلنگانہ سے آندھرا پردیش لوٹے جبکہ ملک میں گھریلو پروازیں دوبارہ شروع کی جا چکی ہیں۔جیسے ہی چندرا دو ماہ کے بعد حیدرآباد سے امراوتی پہنچے، اس دوران حامیوں کی بھاری بھیڑ نے آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلی کا خیر مقدم کیا۔جس طرح سے حامیوں کی بھاری بھیڑ نے ان کا استقبال کیا، اس سے سوشل ڈسٹینسنگ کو لے کر فکر بڑھ گئی ہیں۔70 سال کے ٹی ڈی پی سربراہ نائیڈو پر تنقید کرتے ہوئے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے لیڈر گادی کوٹا سری کانت ریڈی نے کہاکہ پورا ملک 31 مئی تک لاک ڈاؤن پر عمل کر رہا ہے اور سوشل دوری سمیت کورونا سے متعلق تمام ہدایات پر عمل کر رہا ہے۔اس کے باوجود چندرا بابو نائیڈو نے حیدرآباد سے ایک ریلی نکالی، اس دوران بغیر ماسک لگائے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ایک سینئر سیاستدان ہو کر وہ ایسا کیسے کر سکتا ہیں، انہیں معافی مانگنی چاہئے۔ریڈی نے کہاکہ ریڈ زون سے آتے ہوئے انہیں کووارنٹائن کے لیے جانا چاہئے۔حالانکہ نائیڈو صورتحال کی سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ زوم ایپ کے ذریعے سیاست کر رہے تھے جب وہ حیدرآباد میں تھے اور اچانک وہ ایک بڑے قافلے میں آئے۔چونکہ انہوں نے ریاست کی سرحد پار کی، اس لیے انہیں کووارنٹائن ہونا چاہئے۔واضح رہے کہ ٹی ڈی پی سربراہ 22 مارچ کو حیدرآباد گئے تھے۔بعد پی ایم مودی نے 24 مارچ کو کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لئے ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ سیکورٹی ماہرین نے بھی نائیڈو کی جانب سے سیکورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی کئے جانے پر تشویش ظاہر کی ہے۔سی ایم او کے ایک سابق سیکورٹی اہلکار نے کہاکہ ایسے معاملے میں ٹارگیٹ آسانی سے شناخت کیا جا سکتا ہے اور ایسا بالکل بھی نہیں کیا جانا چاہئے۔آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو کو سال 2003 میں ماؤنواز تنظیم پیپلز وار گروپ کی طرف سے علی پیری میں ہوئے حملے میں نشانہ بنائے جانے کے بعد زیڈ پلس سیکورٹی مہیا کی گئی ہے۔