رومی کی بازیافت یا انٹرنیشنل فراڈ؟نایاب حسن

(دوسری وآخری قسط)
اب ذرا ایوانکا ٹرمپ والے اقتباس کی بھی بات کرلیتے ہیں ، دیکھیں تو کہ رومی کیا کہتے ہیں اور بارکس صاحب نے ان کی ترجمانی کس طرح کی ہے۔اصل اشعار یوں ہیں:
ازکفر و زاسلام برون صحرا ئیست
مارا بہ میانِ آں فضا سودائیست
عارف چوبدان رسید سر رابنہد
نہ کفر و نہ اسلام و نہ آنجا جائیست
یہ اشعار ’’دیوانِ شمس تبریز ‘‘کے ہیں ،اردو ترجمہ ان اشعار کا یوں ہوگا:
کفر و اسلام سے پرے ایک صحرا ہے،اس درمیانی جگہ کے بارے میں ہم سب کے اپنے اپنے خیالات ہیں،جب ایک عارف وہاں پہنچتا ہے تو وہ سربسجود ہوجاتا ہے،نہ وہاں کفر ہے، نہ اسلام ہے اورنہ کوئی اور جگہ ہے۔
ان اشعار کا انگریزی ترجمہ،جو صحیح بھی ہے،پرشین پوئٹکس ٹوئٹر ہینڈل پر یہ کیاگیا ہے:
Beyond kufr and islam
there is a desert plain
in that middle space
our passion reign.
When the gnostic arrives there
he will prostrate himself,
not kufr not islam nor is there
any space in that domain.
اب آپ اس ترجمے اور اوپر مذکور کولمین بارکس کے ترجمے کے درمیان موازنہ کرکے دیکھ لیجیے،دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے؛بلکہ وہ تو سرے سے ان اشعار کا ترجمہ ہے ہی نہیں،ان کے اپنے دل میں جو بات تھی،اسے رومی کی طرف منسوب کردیا اور اشعار میں مذکور مخصوص علامات و اصطلاحات کولفظIdeasکے غلاف میں لپیٹ دیاہے ۔
ایک مثال اور لے لیجیے:
بازآ بازآ ہر آنچہ ہستی بازآ
ٓ گر کافر و گبر و بت‌پرستی بازآ
این درگه ما درگه نومیدی نیست
صد بار اگر توبه شکستی بازآ
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس رباعی کی نسبت مولانا کی طرف درست نہیں ہے،یہ چوں کہ مولانا کے مقبرے پر کندہ ہے ؛اس لیے بہت سے لوگوں کو یہ دھوکہ ہوگیا کہ یہ مولانا کی رباعی ہے۔یہ اصل میں پانچویں صدی کے ایک دوسرے صوفی شاعر ابوسعید ابوالخیر کی رباعی ہے۔اوریجنل فارسی رباعی انٹرنیٹ پر عموماً اصل شاعر کے نام سے ہی ملتی ہے،مگر انگریزی ترجمہ ہر جگہ مولانا رومی سے منسوب ملتا ہے اور یہ کارنامہ بارکس کا ہے۔ ریختہ کی ذیلی سائٹsufinama.orgپر اس رباعی کا انگریزی ترجمہ تو مولانا رومی سے منسوب کرکے نشر کیاگیا ہے،مگر فارسی رباعی ،اصل شاعر یعنی ابوسعید ابوالخیر کے نام اور ان کی کتاب کے حوالے کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔
اردوترجمہ ان اشعار کا یوں ہوگا:لوٹ آؤ،لوٹ آؤ تم جو کوئی بھی ہو لوٹ آؤ۔اگر کافر و آتش پرست اور بت پرست ہو تو بھی لوٹ آؤٔ۔ہماری درگاہ مقامِ ناامیدی نہیں ہے۔اگر تم نے سیکڑوں بار توبہ شکنی کی ہے، تو بھی لوٹ آؤ۔اس کا ترجمہ کولمین بارکس یوں کرتے ہیں:
Come,come
whoever you are.
wanderer,worshiper,lover of
leaving.It dosen’t matter.
Ours is not a carvan of despair
Come,even if you have broken
your vows a thousand times come,
yet again,come,come.
اس ترجمے کا اصل متن سے موازنہ کیجیے اور ایک دوسرا ترجمہ ملا حظہ فرمائیے:
Come again come again
whatever you are come again,
if you’re a kafir or idol-worshiper come again.
This home of ours is not
a home of hopelessness,
even if your’ve repented one
hundred times,come again.
ترجمہ کے بنیادی اصولوں میں دو چیزیں بہت اہم سمجھی جاتی ہیں،ایک تو یہ کہ مترجِم ،مترجَم الیہ اور مترجَم منہ دونوں زبانوں سے پوری طرح باخبر ہو،دونوں زبانوں کے لسانی و تہذیبی مزاج و مذاق سے کم ازکم اس حد تک تو واقف ہو کہ متن میں مذکور لفظوں کا درست متبادل پیش کرسکے اور دوسری اہم چیز ہے دیانت؛بلکہ کئی دفعہ ایک مترجم کے لیے دیانت داری زیادہ ضروری ہوجاتی ہے؛کیوں کہ ممکن ہے کہ بعض دفعہ آپ کسی متن کا ترجمہ کرتے ہوئے صاحبِ متن کے کسی فکر و خیال سے متفق نہ ہوں،مگر اس کے باوجود آپ کے لیے یہ درست نہ ہوگا کہ آپ ان کے خیال کو ترجمے میں بدل دیں یا اس میں تحریف کردیں،اسی طرح یہ بھی ناجائز ہے کہ آپ ترجمےمیں صاحبِ متن کی باتوں کے علاوہ اپنی طرف سے کچھ باتیں داخل کردیں،چاہے وہ باتیں لسانی،ادبی یا فکری اعتبار سے درست اور کتنی ہی خوب صورت کیوں نہ ہوں۔معروف عراقی فکشن نگار اور ادبی مترجم اسنان انطون کہتے ہیں کہ’’زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں ہوتی ؛بلکہ یہ یادوں کے ایک پورے خزانے،ایک تہذیب اور ایک ورثے کے تحفظ کا وسیلہ ہوتی ہے‘‘۔(روزینہ علی،دی نیویارکر میگزین)دوثقافتوں کے درمیان رابطہ کار کے طورپر مترجم ایک اہم اور اہم سیاسی منصوبے پر کام کرتا ہے۔پس اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ترجمے میں ایسا طریقہ اختیار کرے کہ تیرہویں صدی کی فارسی شاعری آج کے امریکی معاشرے کے لیے قابلِ فہم ہو سکے،مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کا متن کے تئیں دیانت دار ہونا اور اس دیانت کا عملی اظہار بھی ضروری ہے،مگر افسوس کہ کولمین بارکس نے رومی کا جتنا کچھ ترجمہ پیش کیا ہے،اس میں عموماً وہ ترجمہ کے بنیادی اصول سے منحرف نظر آتے ہیں۔اول تو وہ فارسی زبان سے ہی نابلد ہیں اور ثانی یہ کہ انھوں نے ترجمہ کرتے ہوئے رومی کے متون کے تئیں دیانت داری کا بھی مظاہرہ نہیں کیا ہے۔
دی نیویارکر میگزین کے5؍ جنوری2017کے شمارے میں روزینہ علی(رکن مجلسِ ادارت دی نیو یارکر میگزین) کا ایک مضمونThe Erasure of Islam from the Poetry of Rumiکے عنوان سے شائع ہوا تھا(جس سے میں نے اپنے اِس مضمون میں کئی جگہ استفادہ کیا ہے)اس میں انھوں نے رومی کے انگریزی تراجم کی پوری تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کولمین بارکس کے تراجم کے مکمل اور چھوراورپس پردہ حقیقت پرمدلل گفتگو کی تھی۔یہ مضمون میگزین کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ وہاں بارکس کی لفظی و معنوی تحریفات کی مزید مثالیں بھی ملیں گی۔ موقع ملا تو ان شاء اللہ اس کا ترجمہ بھی کروں گا۔
ویسے انگریزی میں مولانا رومی کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے روٹگیرز یونیورسٹی ،نیوجرسی کے شعبۂ مذہبی مطالعات کے چیئرمین جاوید مجددی کے تراجم قابل اعتماد ہیں۔انھوں نے چار جلدوں میں مکمل مثنوی کا ترجمہ کیا ہے۔اس کے علاوہ ان کی ایک کتاب اور ہےBeyond Dogma: Rumi’s Teachings on Friendship with God and Early Sufi Theoriesجس میں عشقِ حقیقی اور اس سلسلے میں صوفیا کے نظریات کا جائزہ لیا ہے۔اس سلسلے میں امید صافی اور اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی میں فارسی کے پروفیسر ڈِک ڈیوس(Dick Davis)کے تراجم بھی قابلِ اعتماد ہیں۔نادر خلیلی (1936-2008)نے بھی رومی کے فلسفہ و شاعری کا اچھا ترجمہ کیا ہے۔یہ ساری کتابیں آن لائن حاصل کی جاسکتی ہیں ،امیزون وغیرہ پر دستیاب ہیں۔اردو میں رومی کے تراجم و سوانح پر ایک مضمون میں اشارہ کرچکا ہوں۔انگریزی میں ڈاکٹر امید صافی lluminatedcourses.comنامی ویب سائٹ پر تفہیمِ رومی کا کورس کرواتے ہیں۔اردو میں ان کی شاعری کو کتاب کی جگہ ویڈیو؍آڈیو کے ذریعے سمجھنا چاہیں،تواحمد جاوید صاحب کے آفشیل یوٹیوب چینل پر جائیں،وہاں وہ اپنے مخصوص اسٹائل میں رومی کو سمجھاتے نظر آئیں گے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*