آر ایس ایس کی تجارتی تنظیم نے کہا،وزیر خزانہ نے ملک کو مایوس کیا

نئی دہلی:راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے تعلق رکھنے والی ٹریڈ یونین بھارتیہ مزدور سنگھ نے وزیر خزانہ نرملا سیتارامن کے ذریعہ کیے گئے اعلانات پر تنقید کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت نجی کاری کواس طرح فروغ دے رہی ہے جس سے ملازمتوں کونقصان پہنچے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے وقت عوامی شعبہ ایک بہت اہم کردار ادا کررہا ہے۔ پبلک سیکٹر کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب لاک ڈاؤن کی وجہ سے مارکیٹیں اور نجی ادارے بندہوجاتے ہیں۔ لیبر یونین کے جنرل سکریٹری برجیش اپادھیائے نے کہاہے کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے ہفتے کے روز کیے گئے اعلانات مایوس کن تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ نرملا سیتارامن نے پالیسی میں تبدیلیوں کے بڑے بڑے اعلانات کیے تھے۔ جس میں 8 اہم شعبے شامل ہیں۔ ان شعبوں میں کوئلہ،معدنیات ، دفاعی مینوفیکچرنگ ، ایر اسپیس مینجمنٹ ، ہوائی اڈے ، توانائی کی تقسیم اور جوہری توانائی شامل ہیں۔اپادھیائے نے کہا ہے کہ حکومت ٹریڈ یونین ، سماجی نمائندوں سے بات کرنے اور تجاویزلینے سے گریزاں ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اپنی سوچ پر اتنا اعتمادہے۔ جو قابل مذمت ہے۔ بیشتر علاقوں میں ، بھارتیہ مزدور سنگھ پہلے ہی کارپوریٹائزیشن اور نجکاری کے بارے میں ناراض ہے۔انہوں نے کہاہے کہ ہمارے پالیسی سازوں کے لیے اصلاح اورمقابلہ کا مطلب نجی کاری ہے لیکن ہم نے حال ہی میں یہ تجربہ کیا ہے کہ بحران کے وقت پبلک سیکٹر نجی شعبے کے مقابلے میں زیادہ اہم کردار اداکررہے ہیں۔