آر ایس ایس ہیڈکوارٹر میں CAA پر بھاگوت کا بیان ـ سمیع اللہ خان

وجے دشمی کے موقع پر آر۔ایس۔ایس ہیڈکوارٹر ناگپور میں سَنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے خطاب کیا، آر ایس ایس چیف نے اس دفعہ کھل کر NRC سے متعلقہ شہریت ترمیمی قانون CAA پر بات کی، اس کے علاوہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کے آغاز اور کشمیر سے خصوصی حیثیت چھینے جانے پر بھی موہن بھاگوت نے بات کی ـ
موہن بھاگوت نے کہا کہ:
” کشمیر سے آرٹیکل ۳۷۰ ختم ہوا اور ہندوستان کی عوام نے رام مندر پر فیصلے کو صبر اور سمجھداری سے تسلیم کیا، شہریت ترمیمی قانون CAA کےخلاف غلط پروپیگنڈہ کیاگیا اسے ایک خاص طبقے کے خلاف بتایا گیا مسلمانوں کو اس قانون کے بارےمیں غلط پروپیگنڈے میں مبتلاء کیاگیا اور اس کے خلاف احتجاج کے ذریعے ملک میں تناو پیدا کیاگیا، جبکہ یہ قانون کسی کی شہریت نہیں چھینتا ہے، ہندوستان میں متحرک ہیں ” بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے ” کا نعرہ دینے والے لوگ، ہمارے دیش میں کئی سارے ایسے لوگ ہیں جو ڈرامہ کرتے رہتےہیں یہ لوگ ” بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے ” کے نعرے لگاتے ہیں، آئینِ ہند کی غلط تعبیر کر کے خود کو آئین / سمودھان کا بھکت بتاتے ہیں ایسے لوگ سماج میں بھرم پھیلانے میں لگے رہتےہیں، اور ہندو یہ لفظ سب کو جوڑنے اور بسانے والا لفظ ہے اسلیے جب ہم کہتےہیں کہ بھارت ایک ہندوراشٹر ہے تو اس میں کوئی سیاسی لالچ نہیں ہوتا "ـ

موہن بھاگوت کا یہ بیان ملک کی صورتحال کے بہت سارے پہلوﺅں کو بالکل واضح کر رہا ہے اور آئندہ کا منظرنامہ بیان کر رہا ہےـ
آر۔ایس۔ایس ہیڈکوارٹر سے ” بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے ” اس خاص ٹرمنالوجی کے ساتھ آج موہن بھاگوت غیر ہندوتوائی نظریات والوں کو ٹارگٹ کررہاہے یہ کوئی سرسری بات نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک منصوبہ بند کرونولوجی ہے کیا آپ جانتے ہیں یہی ٹرم یہی اصطلاح مودی سرکار کے جبروتشدد کے خلاف آواز اٹھانے والے جے این یو اسٹوڈنٹس کے خلاف سن 2016 میں دہلی پولیس استعمال کرچکی ہےـ
موہن بھاگوت مسلمانوں کو نامزد کرکے CAA کے خلاف آندولن کرنے والوں کو فسادی، دنگائی اور ملک سے بغاوت کرنے والا ثابت کر رہےہیں کیا دہلی پولیس نے دہلی فسادات کے نام پر جن مسلمانوں اور دیگر سوشل ایکٹوسٹ حضرات کو گرفتار کیا ہے ان لوگوں پر یہی الزام نہیں ہیں؟
آپ کرونولوجی سمجھیے، ہم آج سے نہیں کہہ رہے عرصے سے یہ کہتےہیں، اور ہم سے بہت پہلے سے اور اب تک بیشمار سچ لکھنے اور بولنے والے اسے بیان کرچکے ہیں،ہندوستان کی مرکزی ایجنسیاں، پولیس سسٹم اور سرکاری دفاتر کو ہدایات ناگپور سے موصول ہوتی ہیں، اگر کوئی یہ کہتاہے کہ بھارتی پولیس کی اکثریت آر۔ایس۔ایس کی ریزرو سیکورٹی فورس ہے تو وہ کیا غلط کہتاہے؟ آپ غور کیجیے مسلم نوجوانوں ابھرتے مسلم لیڈروں اور ان کے علاوہ تمام ہی غیر سَنگھی اور آر ایس ایس مخالف نظریات رکھنے والے مؤثر افراد کے خلاف جو بھی پولیس کارروائیاں مودی سرکار میں ہوتی رہیں کیا ان میں اور آج کے موہن بھاگوت والے بیانیے میں کوئی بھی فرق ہے؟
آر ایس ایس پہلے پس پردہ رہ کر کھیلتا تھا اب فرنٹ پر آکر علانیہ اقدامات کررہاہے، لیکن آپ کہاں ہیں؟ آپ بالکل مدہوش اور خطرات سے بے خبر غیرضروری اور عارضی چیزوں میں الجھے ہوئے ہیں، ادھر اب آر ایس ایس اپنے فسطائی ایجنڈے کو عوامی پلیٹ فارم پر لے کر آرہا ہے اور ہندوراشٹر والے نظریات پر سَنگھ میڈیا کا سامنا کررہاہے ـ
ابھی کچھ روز پہلے بھاگوت نے بیان دےکر مسلمانوں کو بھارت میں باہری غیرملکی عنصر ثابت کرنے کی کوشش کی، پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نے ظالمانہ شہریت ترمیمی قانون کے کھلے بندوں نفاذ کا عزم ظاہر کیا اور اب آر ایس ایس کا ہیڈکوارٹر این آر سی اور CAA کے خلاف اٹھنے والی آواز کو بغاوت اور دنگا قرار دے رہا ہے ساتھ ہی بھارت کی آئین میں درج تعریف کےخلاف ایک الگ تعریف بنام ” ہندوراشٹر ” کررہاہے، جوکہ آنے والے فسطائی ہندوستان کی دستک ہےـ

ہٹلر اور نازیوں کے ہمنوا یہودیوں کے ہم مزاج برہمنوں نے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں برہمنی سامراج ہندوراشٹر کے نام سے اپنا منہ کھولے کھڑا ہے، اس کے خلاف لکھنے بولنے، زمینی احتجاج کرنے والے اور عوامی بیداری لانے کی جدوجہد کرنے والے افراد گرفتار ہورہےہیں جیلوں میں ٹھونسے جارہےہیں، لیکن اہلِ ہند کی اکثریت غفلت کی چادر تانیں منو وادی فاشسزم کا لقمۂ تر بننے کے لیے تیار نظر آتےہیں، آر۔ایس۔ایس ۱۰۰ سال میں بارہا اپنی اسٹریٹجی تبدیل کرتے ہوئے بالآخر منو وادی ہندو احیا پرستی کے نفاذ کے قریب پہنچ چکا ہے، سَنگھ کی کامیابی ہیکہ وہ قدیم ہندووانہ پجاری سامراج کے ستم زدہ شودروں ہی کے کندھوں پر انہی کے حقوق سلب کرنے والا بت پرستی کا نیا استحصالی نظام نافذ کر رہی ہے مسلمانوں کی ناکامی ہیکہ وہ اس پوری صدی میں اپنی مطلوبہ نمائندگی اور اختیارات کے حصول کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے اور ہر دو فریق کے لیے حاشیے کا کام کرتے رہے، یہ مسلمانوں کی غلط فہمی ہے کہ وہ صرف کانگریس کے لیے ہی استعمال ہوتے رہے، وہ نفسیاتی اور برعکس نتائج کے زاویوں سے منقسم ہندوستان میں بی جے پی،دلت اور علاقائی سیاست کے لیے بھی استعمال ہوتے آئے ہیں ـ تاریخ کے صفحات تبدیل ہورہےہیں اور وہ اب بھی مدہوش ہیں ـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*