آر ایس ایس اور مسلمانانِ ہند:باہمی گفتگو سے ہی مفاہمت کی راہ نکلے گی-ارشد غازی

EMAIL:arshadghazi1960@gmail.com
Mob: 97588 10773

ستّر سال میں مسلط کی گئی نا پختہ فکر نے ہندوستانی مسلمانوں کو ایک ایسے موڑ پر لاکر کھڑا کیا ہے، جہاں آگے کی گلی بند ہے۔ ہم نے سر سید احمد خان کے اس سبق کو بھلا دیا کہ حکومت ِوقت سے مفاہمت کے ساتھ چلا جاتا ہے۔ سیاست کے کچھ طے شدہ بنیادی اصول ہیں جو اب ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو چکے ہیں۔
4؍ جولائی کو آر ایس ایس کے صدر ڈاکٹرموہن بھاگوت، ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد کی تین زبانوں میں شائع شدہ کتاب دی میٹنگ آف ماینڈز کی رسم اجرا میں شرکت کے لئے خود اپنی مرضی اور خوشی سے پہنچے ۔ تعریف کے پُل کے نیچے مطلب کی ندیاں بہتی ہیںمگر جب خامیاں بھی بیان کر دی جائیں تو سامنے والا زیادہ متاثر ہوتا ہے۔وہاں انھوں نے مسلمانانِ ہند کے لئے جو کچھ کہا وہ یقینا حیرت انگیز تھا، کیونکہ وہ جو کہہ رہے تھے اس سے حکومت کی پالیسی مرتب ہو رہی تھی، جس کا گواہ انھوں نے بیک وقت کئی کروڑ انسانوں کو بنایا کہ وہ پروگرام تمام چینلز لائیو نشر کر رہے تھے۔ بھاگوت جی کے نپے تُلے جملے کسی اچانک ردّعمل کا نتیجہ نہیں تھے۔ اس میں ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد کی اُن سے ایک سال کی مسلسل گفتگو اور اس تاریخی موقع پر ایک گھنٹے کی تقریر تھی جس کے جواب میں ڈاکٹر موہن بھاگوت کوکچھ نئی باتیں کہنے پر مجبور ہونا پڑا۔خواجہ افتخار احمد نے واضح کیا کہ مسلمانانِ ہند چاہیں تو ایک مؤثر قوت بن سکتے ہیں۔انھوں نے بہت درد مندی سے کہا کہ ہمارے پاس ریاستی سطح پر یا قومی سطح پر اس قیادت کا فقدان ہے جو مسلمانوں کو فکری بکھراؤ سے روکے اور صحیح سمت متعین کر واسکے۔ اس تاریخی موقع پر موجودہ سیاست سے خود کو جوڑنے کے کئی گُر بھی زیر بحث آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے آج تک اپنے قبلہ کا تعین بغیر کسی حکمت کے کیا ہے جس کا خمیازہ ہمیں بار باربھگتنا پڑا ۔آج کی سیاست کا درومدار مفاہمت پرہے۔
انھوں نے آر ایس ایس کے کام کرنے کے طریقے اور سیاسی تدبر کی تعریف کی اور کہا کہ میں گفتگو (ڈائیلاگ) کی آج پہل کر رہا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ ہمارے اور آپ کے بیچ مفاہمت کا کوئی مثبت راستہ ضرور نکلے گا۔ اور کہا کہ مسلمانانِ ہند کو آر ایس ایس جیسے مسلم پلیٹ فارم کی ضرورت ہے اگر وہ اپنے تشخص کی بقا چاہتا ہے۔اسے موجودہ سیاست سے اپنے کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اور رائج الوقت سسٹم آف سیادت، قیادت اورسیاست کا حصہ بننا ہوگا۔ ہمارے تدبر سے خالی ذہنوں کے جذباتی نعرے اس وقت غُل مچا دیتے ہیں جب ماحول پُرسکون ہوتا ہے۔ خواجہ صاحب نے بتایا کہ خلافت تحریک کا ہندوستان کی سر زمین سے کوئی تعلق نہیں تھا، مگر قوم نے بازاروں میں نعرے بھی لگائے اور لاکھوں کے چندے بھی اکٹھا کئے اور ستم یہ کہ گاندھی جی بھی اس سے جڑ گئے ۔ ملفوظات میں ہے کہ جب مولانا شیخ الہند مکہ معظمہ میں گورنر غالب پاشا سے قبائل کے نام خط لینے کے لئے اُن سے ملے اور بتایا کہ ہمارے ملک میں خلافت تحریک زوروں پر ہے توگورنر نے ناگواری کا اظہار کیا کہ خلافت کا آپ کے ملک سے کیا تعلق ہے؟اس عاقبت نا اندیشی نے ہیڈ گوار،گولوالکر اور ساورکر جیسے ذہنوںکو چونکا دیا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ اس ملک میں خلافت کی حمایت چہ معنیٰ ! اور بالاخر 1925 ء میں چند ہندو جیالوں نے آر ایس ایس کی بنیاد رکھ دی، مطلب آر ایس ایس کی تاسیس اُس غیر معقول خلافت تحریک کا ردِ عمل تھا۔
مسلمانان ہند کو اس سچ کو مان لینا چاہئے کہ1947ء میں جب ملک آزاد ہوا اُسی دن ہندوستان ہندواسٹیٹ بن گیا تھا۔ اور وجہ فطری تھی کہ جب مسلمانوں نے اسلام کے نام پر ایک ملک پاکستان بنا لیا تھا تو پھر ہندوستان کو بے سبب سیکولر اسٹیٹ کا راگ الاپنے کی ضرورت نہیں تھی۔مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ وہ حکمرانوں سے اپنے لئے مراعات ایک ہندو اسٹیٹ میں مانگتے اور وہ انھیں مل جاتے۔ لیکن خواجہ صاحب کا کہنا ہے کہ وقت اب بھی نہیں نکلا ،ہمیں اپنے حقوق کے تحفظ کی گارنٹی ہندو اسٹیٹ سے مانگنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔جو اُس سے لڑ کر نہیں ڈائیلاگ سے مل سکتی ہے۔ جس کی پہل انھوں نے یہ کتاب لکھ کر کی ۔ مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب خواجہ افتخار احمد عزت مآب وزیر اعظم مودی سے ملنے پہنچے اور انھوں نے کہا : ہندوستان کی سبھیتا، سنسکرتی، سنسکار اورآدرشوں کی دیکھ بھال اب آپ کے ذمہ ہے۔ تاریخی اداروں کی حفاظت کی جانی چاہئے جو ہمارے اسلاف نے ہمیں تہذیبی وراثت اور اثاثوں کی شکل میں بخشا ہے، جیسے بھارتیہ وودیا پیٹھ،شانتی نکیتن،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور بنارس ہندو یونیورسٹی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی وہ ادارہ ہے جس نے جنگ آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بعد کوانہی جملوں کا عکس وزیر اعظم کی اے ایم یو والی تقریر میں نظر آیا۔
ڈاکٹرخواجہ افتخار نے بہت واضح الفاظ میں کہا کہ مسلمان اپنے عقیدہ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ بعض جگہ ذرا سی لغزش سے بیوی حرام ہو جاتی ہے ،لہذا حکومت مذہب کی ان باریکیوں کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان علماء قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتے۔ 1857ء میںاس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔
یہ ایک دیدہ ور مفّکر کی دور اندیشی ہوتی ہے کہ مستقبل میں ملّت کو ہونے والے نقصانات کو اپنی دانائی سے کم کر سکے، جس کی مثال ہمیں سر سید کی زندگی سے ملتی ہے جب انھوں نے1857 ء کی جنگ آزادی کے موقع پر کتاب لکھی: اسباب سرکشی کا جواب(اسباب بغاوت ہند) اورملّت کو ہونے والے مہیب نقصانات کو کم سے کم تر کرنے کی کوشش کی۔اِس کتاب کے نتیجے میں نہ صرف مسلم یونیورسٹی بچ گئی بلکہ قوم کو بھی سانس لینے کا موقع مل گیا۔ڈاکٹر خواجہ افتخار کی یہ پہل بھی اُسی قبیل کی ایک معتبر کوشش ہے، جو کسی بڑے خطرے کو کم کرنے کی طرف ایک بڑا قدم قرار دی جاسکتی ہے۔ بقول برادرم طارق غازی بھاڑ ایک چنا ہی پھوڑا کرتا ہے۔ہم نے اس کی نظیر چودہ سو برس قبل پیش کردی تھی ۔خواجہ افتخار کی پہل کو خواص و عوام کی تائید حاصل ہونابے حد ضروری ہے۔ اس کے لئے محض چار یار کا ہونا کافی نہیں۔مجھے آج یہ بات بصد اصرار یوں کہنی پڑ رہی ہے کہ ہماری اجتماعی نفسیات ، انفرادی نفسیات کے تابع ہے۔ اور انفرادی نفسیات منتشر خیالات پر مبنی اداروں کی نفسیات کے تابع ہے۔ اِس کے بعد نتیجہ معلوم !ہم عموماً بات کو جب مانتے ہیںجب وقت نکل جاتا ہے، پانی سر سے اونچا ہونے لگتا ہے لیکن یہ نفسیات تو قرآن کریم نے اُن قوموں کی بیان کی ہے جن کی پکڑ کی گئی۔ یاد رکھئے ! مسلمان محکوم بننے کے لئے نہیں پیدا ہوا ہے۔ لیکن ہمارا عمل ہمیں اُسی سمت میںدھکیل رہا ہے ۔ اب بھی معاملات برابری کی سطح پرطے ہو سکتے ہیں۔ آپ منجدھار میں ہیں اورساحل کچھ دور نہیں ! کسی نہ کسی کے ہاتھ پر ہمیں بیعت کرنی ہوگی۔خواجہ افتخار کا یہ جملہ ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ سیاست میں نہ کوئی کسی کا مستقل دوست ہوتا ہے نہ مستقل دشمن ! سارا کھیل مفادات کا ہے۔ مزاجوں کی تبدیلی اب ناگزیر ہے، نوشتہ ٔ دیوار ہم جتنی جلد پڑھ لیں، اتنا ہی ہمارے حق میں وہ بہتری کی نوید بن سکتا ہے۔ غیر اہم ، غیر معقول اور غیر مہذب سمجھے جانے والے لوگ اب سکہ رائج الوقت ہیں۔ مرکز میں حکومت کسی کی بنے، ڈورناگپور کے ہاتھ میںرہے گی۔اس پر ہماری نظر نہیں ہے۔ ہمیں اِن چانکیائی قوتوں کے مہیب ، منظم اور مستحکم ہونے کا ادراک نہیں۔ٹیبل کے اِس طرف اور ٹیبل کے اُس طرف دونوں کو، انسان کی اس نفسیات کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ کوئی بھی اس وقت تک مقابلے پر نہیں آتا، جب تک اُسے یہ نہ لگے کہ سامنے والامیرا نہیں بن کے دے گا۔ اور یہ منفی فکر صرف ٹیبل کے آمنے سامنے بیٹھنے سے ہی بدل سکتی ہے۔
خواجہ افتخار کی ایک گھنٹے کی تقریر کے جواب میںڈاکٹر موہن بھاگوت نے جو باتیں کہیں، اس نے لمحات کو تاریخی بنا دیا۔آر ایس ایس کے صدر کی تقریر سن کر یہ محسوس ہوا کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کو مراعات دینے کو تیار ہیں۔کہ ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں۔
بھاگوت جی نے اپنی تقریر میں کہا: رگ ویدمیں ایسا لکھا ہے کہ آپ کے الگ الگ قبیلے، لباس، زبان، اطواراور مزاج وعادت ہوسکتی ہیں کہ یہ سب آپ کی پہچان بنانے کے لئے ہے۔ لیکن اس بنیاد پر ہمارے درمیان بھید بھاؤ ہو یہ کسی بھی طرح جائز نہیں ۔ اور یہی قرآن کریم کا ارشاد ہے اور یہی پیغام حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ؐ نے دیا تھا۔ آر ایس ایس کایہ عقیدہ مسلمانوں کی فکر سے متصادم نہیں ہے۔
آر ایس ایس کی بنیادی فکر میں ریاست اوّل درجے پر ہے سیاست دوم درجے پر۔مسلمانوں کا اس فکر سے کوئی ٹکراؤ نہیں ۔دیوبند کے بین الاقوامی شہرت یافتہ عالم دین قاری محمد طیب قاسمی علیہ الرحمہ سے پاکستان میں کسی مبصر نے سوال کیا کہ آپ پہلے ہندوستانی ہیں یا پہلے مسلمان ! تو اُن کا جواب تھا: میں پہلے ہندوستانی ہوں بعد میں مسلمان ! کہ اوّل ریاست ہے اگر وہ ہی نہیں تو مذہب کہاں ہوگا۔
بھاگوت جی نے کہا: ہندو دھرم میں آریہ سماجی نرنکاری ہیں اور کچھ طبقے آکاری ہیں مطلب وہ کسی نہ کسی آکار کی پوجا کرتے ہیں۔ ہم اُن سب کا اَدر اور سمّان کرتے ہیں۔ہمیں مسلمانوں کی عبادت کے طریقے سے کیوں پریشانی ہو سکتی ہے۔ وہ جیسے چاہیں عبادت کر سکتے ہیں۔انھوں نے کہا ہم نے کب کسی کا ہاتھ پکڑا ہے کہ ایسے عبادت کرو ایسے نہ کرو۔اس بیان کے بعد ٹکراؤ کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔
انھوں نے کہا:بدقسمتی سے ہندوستان میں اسلام حملہ آوروں کے ذریعے پہنچا۔لیکن اس میں اب نہ آپ کچھ کر سکتے ہیں اور نہ ہم کچھ کر سکتے ہیں ۔ اُس نے ملک کو دو حصوں مسلم اور غیر مسلم میں بانٹ دیا۔ اور ملک میںیہ بحث تب سے جاری ہے۔ دیش پر غیر ملکی مسلمانوں کے حملے برابر ہوتے رہے ہیں۔لیکن جو آگیا وہ جس طرح بھی آیا اسے ہم نے کب باہر نکالا۔ بلکہ راج سنگھاسن پر بٹھا یا۔ اُس نے دیش کو کچھ دیا ہی، سنوارا ہی۔اِن منطقی جملوں میںنفرت کا شائبہ بھی نہیں تھا۔
ٍ انھوں نے خوش ہو کر اظہار کیا کہ ہندوؤں کے استاد مسلمان مہاتما اور ولی ہوئے اور مسلمان طالب علموں نے ہندو مہاتماؤں اورجوگیوںسے تعلیم حاصل کی۔ اس میں کوئی بُرائی مجھے نظر نہیں آتی۔
بھاگوت جی نے اللہ تعالی اور قرآن پاک کا نام بڑے احترام سے لیا۔بھیڑ کے ذریعے مسلمان نوجوانوں کے قتل پر انھوں نے کہا۔ اس پر قانون بننا چاہئے۔ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ ہندو ہی نہیں۔ جو ایسا کرتا ہے اسے سخت سزا ملنی چاہئے۔اس بیان کو دارالعلوم دیوبند نے بھی سراہا۔
بھاگوت جی نے کہا۔ مسلمانوں کو اس ملک میں رہنے کے لئے اپنی شناخت ختم کرنے کی ضرورت نہیں۔ یا یہ کہنا کہ سنگھ اور بی جے پی مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں۔یہ ایک خوش آئند پہل ہے ہمیں من حیث القوم اس بیان کا خیر مقدم کر نا چاہئے۔انھوں نے تاسف سے کہا کہ مسلمانوں کے دلوں میں یہ ڈر بٹھایا گیا ہے کہ اگر سنگھ کی حکومت آئی تو وہ مسلمانوں کو کھا جائیں گے۔ جب کہ یہ بات ہمارے تصورات میںبھی نہیں۔ مسلمان اس ملک کی طاقت ہیں۔ان کے جو حقوق ہیں وہ آج بھی انھیں مل رہے ہیں کل بھی ملتے رہیں گے۔شاید کسی اور دیش میں ایسا انصاف نہ ہو مگر ہماری تہذیب میں ہے۔
بھاگوت جی نے ڈاکٹرخواجہ افتخار کی گفتگو کی اس پہل کو پسندیدہ قرار دیا اور کہا کہ جب آپ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو جو غبار ہے صاف ہو تا ہے، دوریوں کے سبب دلوں میں جو اشکالات پیدا ہو جاتے ہیں وہ ملنے سے ہی ختم کیے جاسکتے ہیں۔انھوں نے اعتراف کیا کہ میرے ذہن میں مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں کچھ سوالات تھے ،جن کے جوابات مجھے ڈاکٹر خواجہ افتخار کے مسلسل ملنے اور گفتگو کرنے سے ملے۔
انھوں نے کہا کہ ہم ہندوستان کو ایک عظیم طاقت کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں جو مسلمانوں کے تعاون اور بل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔سنگھ ملک کے ہندوؤں کو بھی طاقتور دیکھنا چاہتا ہے۔
انھوں نے صاف کردیا کہ جولوگ یہ سمجھتے ہیںمسلمانوں سے یہ ملاقات اور یہ گفتگو محض وقت گزاری کے لئے تو وہ غلطی پر ہیں۔ جو ہماری زبان پر ہے وہی عمل میں ہے۔انھوں نے ٹھیک ہی کہا: ہمیشہ کمزور حیلے بہانوں سے وقت گزاری چاہتا ہے۔ طاقتور کو حیلے بہانوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔
خواجہ افتخار کی اس پہل کو جاری رکھنا یہ اب ہماری آپ کی ذمہ داری ہے کہ:
دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے
مسلمانوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ آر ایس ایس آج وہ پختہ دیوار ہے جس کو مفاہمت سے سر کیا جاسکتا ہے اور مخاصمت سے سر پھوڑا جاسکتا ہے۔