روزنامہ سیاسی تقدیر کی جانب سے کل ہند شعری نشست ،شفیق عابدی اور نعیم راشد کو دیا گیا استقبالیہ

نئی دہلی :روزنامہ سیاسی تقدیر کی جانب سے کرناٹک سے تشریف لانے والے عالمی شہرت یافتہ شاعر،صحافی و کالم نگار فیق عابدی اور مدھیہ ردیش کی زرخیز ادبی زمین برہانپور سے دہلی آنے والے عظیم شاعر نعیم راشد برہانپوری کے اعزاز میں ایک کل ہند شعری نشست کا اہتمام کیا گیا ۔’’ ایوان اطہر ‘‘ 2118 چوڑی والان میں انعقاد پذیر کل ہند شعری نشست کی صدارت دہلی اردو اکادمی کے نو منتخب وائس چیئر مین الحاج تاج محمد نے کی۔اپنے صدارتی خطبے میں نئے وائس چیئر مین نے کہا کورونا پابندیوں کے ختم ہوتے ہی دہلی فقید المثال کام کرکے دکھائے گی ۔انہوں نے کہا کہ میں کچھ ایسا کرنے کا جذبہ رکھتا ہوں جو دہلی اردو اکادمی کے مرکزی وقار میں نہ صرف اضافہ کرے گا بلکہ آنے وای نسلوں کے لئے بھی باعث فخر ہوگا۔اکادمی کے ہر پروگرام میں دہلی والوں کی شمولیت زیادہ سے زیادہ ہوگی اور شعرا،ادبااور صحافیوں کی مالی اعانت کا انتظام کیا جائے گا ۔بزرگ و کہنہ مشق استاد شاعر وقار مانوی ،محمد اطہر،ضیاء الدین عرف بھائی پارے،سابق اسسٹنٹ کمشنر آف کمرشیل ٹیکس رئیس اعظم خان خصوصی مہمان رہے جبکہ نظامت کے فرائض مشہور و معروف آرجے،طنزو مزاح کے بے مثال شاعر،نوجوان اداکار اور کثیر الجہات شخصیت محمد انس فیضی نے انجام دیئے ۔روزنامہ سیاسی تقدیر کے گروپ ایڈیٹر محمد مستقیم خان نے الحاج تاج محمد کی گلپوشی کی ،سیاسی تقدیر کلکتہ ایڈیشن کے ایڈیٹر شعیب رضا فاطمی نے شفیق عابدی کا ہارپہناکر استقبال کیا اور ارشد ندیم نے نعیم راشد کو پھولوںکا ہار پہنایا۔مشہور ناظم مشاعرہ ،صحافی ،ٹی وی اینکر اور شاعر معین شاداب نے معزز مہمانوں کا تفصیلی تعارف کرایا ۔ معروف استاد شاعر جاوید مشیری نے کیف انگیز اور عشق رسالت سے پُر نعت پاک سے پروگرام کا آغاز کیا۔کل ہند شعری نشست میں پسند کئے گئے چند اشعار باذوق قائین کی نذر ہیں۔
مزاج پوچھنے والوں کی خیر ہو یارب
مزاج پوچھنے والے بھی کم ہی رہ گئے ہیں
وقار مانوی
میں نے شاید کبھی کہا ہوگا
وہ خدا ہے تو پھر خدا ہوگا
منیر ہمدم
آئینہ خانے میں بس میں ہی نظر آتا ہوں
کوئی دیگر نظر آئے تو خبر کردینا
عرفان اعظمی
جھوٹ کہنے سے پہلے سوچ ذرا
تیری آنکھیں زبان رکھتی ہیں
شفیق عابدی ( بنگلور)
ہر کوئی مصروف ہے محل کی تعمیر میں
بھول گیا آدمی قبر کی گہرائیاں
نعیم راشد برہانپوری
دریا اپنے زور پہ ہے
ٹوٹی پھوٹی نائو ہے
شعیب رضا فاطمی
جنون عشق میں مجھ پر کبھی ایسا مقام آیا
درِمحبوب جب پہنچاصدا آئی غام آیا
رئیس اعظم خان
کھیل زخموں کا ہوا اس بار بھی
اب کے لیکن سر نہیں پتھر کھلا
معین شاداب
آنسوئوں کی سخن سرا میں ہوں
کیا چراغوں کی بددعامیں ہوں
جاوید مشیری
خدا کے سامنے حاضر ہوا ہوں
بڑی مشکل سے میں ظاہر ہوا ہوں
ممتاز طیبہ پوری (ممتاز عالم رضوی)
کبھی حساب کریں گے اے زندگی تجھ سے
لیا ہے تجھ سے بہت کم ،دیا زیادہ ہے
ڈاکٹر ایم آر قاسمی
اک تو زخموں سے مرے میرا مسیحا غافل
اس پہ موسم بھی چلا آیا ہے پروائی کا
امیر امروہوی
روشنی کی جستجو میں زندگی کردی تمام
اور اجالا گھر کی الماری میں تھا رکھا ہوا
دانش ایوبی
پھر اک برپا ہوئی صحرا میں مجلس
تبرک میں بٹے کرتے ہمارے
علی ساجد
علاوہ ازیں ارشد ندیم ،فرید احساس ،تسلیم احمد راجہ ،رامش خان نے بھی اپنے کلام سے نوازا۔مسعود ہاشمی،محمد فیضان ،ضیاء الدین سمیت دہلی کی کئی عظیم ہستیاں کل شعری نشست میں آخر تک شریک رہیں اور شعرا کی حو صلہ افزائی کرتی رہیں۔روزنامہ سیاسی تقدیر کے گروپ ایڈیٹر محمد مستقیم خان نے اعلان کیا کہ ہر ماہ پہلے ہفتے میں اسی طرح کی شعری محفلیں سیاسی تقدیر کی جانب سے آراستہ کی جائیں گی۔آخر میں صاحب خانہ اطہر بیگ نے ایوان اطہر میں تشریف لانے والے تمام شعراو سامعین کا شکریہ ادا کیا۔