روزہ کشائی :میرا پہلا روزہ- رئیس صدیقی

ماہ ِرمضان میں اکثر مجھے لکھنؤ میں گذر ہوا اپنا بچپن یاد آنے لگتا ہے۔آنکھوں کے سامنے سے یادوں کا معصوم ا ور ست رنگی کارواں گزرنے لگتا ہے۔ بچوں سے اپنے بچپن کی باتیں کرنے کا دل چاہتا ہے کیوں کہ ہر بچہ کا بچپن اسکی زندگی کا پیاری پیاری باتوں سے بھرا انمول سرمایہ ہوتا ہے۔
اس وقت میری عمر تقریباً نو یا دس سال کی ہوگی۔ شدت سے گرمی پڑ رہی تھی،جیسے آج کل ُپورے ملک میں گرمی کی تپش کا زور ہے۔میںروزانہ صبح سحری میں اٹھ جاتا ۔یا یوں کہیں کہ دودھ ۔پھینی اور آلو کے دیسی گھی میں تلے پراٹھوں کی خوشبو مجھے اٹھا دیتی تھی۔
اس کے علاوہ ، ان دنوں سحری کے وقت، روز انہ اللہ کے کچھ نیک بندے اپنی ترنم ریز آواز میں سحری نعرہ لگاتے کہ جاگو سونے والو۔ غفلت کی نیند سے اٹھو۔سحری کا وقت ہو گیا ہے۔ نیند کا شیطان بہکائے گا۔ اس کے بہکاوے سے بچو۔ یہ مبارک مہینہ ہے، دوبارہ نصیب ہو نہ ہو۔گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا وغیرہ وغیرہ۔
وہ لوگ ڈفلی بجانے کا اپنا ہنر دکھاتے۔ عقیدت بھری آواز میں سحری نغمے گاتے۔ نعت، منقبت اور حمد پیش کرتے۔ گویا کہ وہ لوگ سحری کے لئے اٹھا کر ہی دم لیتے۔
میں روزانہ سحری کرکے جلدی سے سونے کی کوشش کرتا لیکن امی اپنے ساتھ نماز پڑھواتیں اور تب جاکر سونے کی اجازت ملتی۔
ان دنوں روز شام کو مسجد میں افطاری پہنچانے کا رواج تھا۔یہ میری ڈیوٹی تھی کہ میں روز مسجد میں افطاری پہنچائوں۔میں وہیں رک کر روزہ کھولتا، افطار کرتا اور مغرب کی نماز ادا کرتا۔ ایک دن امی نے کہاکہ جب تم روز سحری کر تے ہو۔ روزہ کھولتے ہو، ا فطار کرتے ہو ، نماز پرھتے ہو، تو تم روز ہ بھی رکھ لیا کرو۔
چاہتا تو میں بھی یہی تھا لیکن اکثر والدین اپنے بچوں کو کم عمر ی میں روزہ رکھنے کے لئے اصرار نہیں کرتے ہیں ، خاص طور سے گرمی میں۔ اس لئے مجھے بھی اپنے والدین کی رضامندی کی ضرورت تھی۔ بہرحال روزہ کشائی کے لیے چودھواں روزہ مقرر ہوا۔
سحری میںمیری پسند کی چیزیںبنائی گئیں۔ اس سحری میں کچھ زیادہ ہی چیزیں تھیں۔ خاص طور پر کئی شربت تھے۔سہ پہر سے ہی افطاری اور کھانا پکانے کا اہتمام ہونے لگا۔رشتے داروں اور محلہ کے بہت سے لوگوں کو افطار کی دعوت دی گئی۔ رشتے داروں کو عشائیہ یعنی ڈنر کی بھی دعوت تھی ۔دعوت دینے کی ذ میداری میں مجھے بھی لگایا گیا۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ میرا بہت سا وقت اس نیک کام میں گذر گیا۔ کچھ وقت نماز اور تلاوت قران میں بیتا۔
جو جو وقت گذر رہا تھا، پیاس اور بھوک شدت اختیار کر رہی تھی ۔امی یہ سب کچھ محسوس کر رہی تھیں۔لہٰذہ وہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد مجھے اپنے پاس بلاتیں اور روزہ رکھنے کی فضیلت بیان کرتیں۔ مجھے یاد ہے کہ انھوں نے مجھے نصیحت کی تھی:
بیٹا، بہت سے غریب لوگ بھوک اور پیاس سے بیمار ہو جاتے ہیں ۔یہاں تک کہ مر جاتے ہیں۔ہمیں انکی مدد کرنی چاہیے۔ہمیشہ پانی اور کچھ کھانے کا سامان اپنے ساتھ رکھنا چاہے اور راستے میں ، اسکول میں یا اپنے در پہ آئے لوگوں کی مدد کرنی چاہئے۔
پھر کہتیں کہ جائو تھوڑی دیر آرام کرلو ۔میں کمرہ میں جاتا ، پلنگ پر تھوڑا آرام کرتا۔کروٹیں بدلتا،اٹھ جاتا، کچھ پڑھتا، لیکن آرام کہاں؟ پھر باہر آجاتا۔امی مسکراتیں اور اپنے پاس بٹھا کر پھر ماہ رمضان کی اہمیت بتانے لگتیں:
بیٹا، یہ مہینہ ہمیں ٹریننگ دیتا ہے کہ ہم اپنی بھوک، پیاس، غصہ، لالچ، غیبت ،وقت کی بربادی اور تمام برائیوں پر کیسے قابو پا ئیں تاکہ ہم آئندہ آنے والوں دنوں میں ایک اچھے انسان کی طرح اپنے گھر، اپنے سماج اور اپنے ملک کا بھلا کر سکیں!
بہرحال، شام کے چھ بج گئے۔ مجھے تیار ہونے کے لئے کہا گیا۔پہننے کے لئے مجھے نیا جوڑا دیا گیا جو میری خالہ میرے لیے لیکر آئیں تھیں۔سفید چوڑیدار پاجامہ، لکھنوی چکن کا سفیدکرتا اور چکن کی جالی دار خوبصورت ٹوپی اور تین عدد رنگ برنگے رومال۔
اس کے بعد مجھے گرمی کے لحاظ سے سوتی کپڑے کی سفید شیروانی پہنائی گئی۔ اممی نے مجھے بہت اچھا سا عطر لگایا۔ والد صاحب کی منھ بولی بہن ،میری پھوپی جان نے پھولوں کا ہار پہنایا۔ اسطرح مجھے کسی دولھے راجہ کی طرح خوب تیار کیا گیا۔
رشتے داروں میں کچھ لوگ پھل، تو کچھ لوگ سوکھا میوہ اور دیگر کھانے کی چھیزیں سینی یعنی بڑی سی تھال میں سجا کر ، سنہرے اور روپہلے گوٹے لگے کنارے والی سرخ ریشمی خوان سے ڈھک کر لائے تھے ۔اسی کے ساتھ مبارکباد اور دعائیں دینے کا سلسلہ بھی جاری تھا۔کو ئی بہت پیار اور محبت سے گلے لگا رہا تھا تو کوئی سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیر رہا تھا گویا کہ مرکز تقریب میں اور صرف میں تھا۔
دفتر سے والد صاحب بھی آگئے۔ بہت پیار سے مجھے اپنے سینے سے کافی دیر تک لگائے رکھا اور بہت سی دعائیں دیں۔
تقریباً ساڑھے چھ بجے ہم سب دسترخوان پر بیٹھ گئے۔افطاری میں کھجور ، تخم ملنگا کا شربت( چھوٹے چھوٹے سفید دانے کے برابر پھول والا شربت)،فالسہ کا شربت، روح افزا، شکنجی،نمکین لسسی، پیاز کے پکوڑے،بیسن میں تلی ہوئی مرچ، کابلی چنے، دہی بڑے ، آلو کے قطلے،تربوز ، خربوزہ اور آم کی قاشیں۔ غرضکہ انواع و اقسام کی نعمتیں دستر خوان کی زینت بنی ہوئی تھیںاور انہیں دیکھ دیکھ کر میرے منھ میں پانی آرہا تھا۔
ابو جان نے میری حالتِ غیر کو بغور دیکھا اور فرمایا۔بیٹا، یہ وقت اپنے نفس،اپنی بھوک پیاس اور اپنے اوپر قابو پانے کی تربیت کا ہے۔اس وقت اللہ سے دعاء کرو کہ وہ ہمارا روزہ قبول فرمائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم پورے مہینے روزہ رکھ سکیں۔پھر ہم سبھی لوگ دعا کرنے لگے کہ اتنے میں ایک گولہ دغہ جو کہ افطار کا وقت ہو نے کا اشارہ تھا اور پھر مسجد سے اذا ن کی آواز آئی۔
میں نے سب سے پہلے کھجور سے روزہ کھولا اور شربت روح افزا پیا۔پیاس اور بھوک کو تھوڑی راحت ملی۔پھر جلدی جلدی بیسن میں تلی پیاز کی پھلکییاں کھانے لگا۔امی نے اشارہ کیا کہ آرام سے کھائوں۔
افطاری کے بعد ، گھر پر ہی نماز باجماعت پڑھی گئی کیونکہ خاندان اور محلہ کے بہت سے افراد میری روزہ کشائی میں شریک ہوئے تھے۔
کچھ دیر دینی اور غیر دینی باتیں ہوئیں۔پھر دستر خوان پر کھانا لگنے لگا۔ڈنر میں بھی مزے مزے کے پکوان تھے۔مجھے یخنی پلاؤ اور سفید زردہ بہت پسند ہے۔ رومالی روٹی ،کباب،قورمہ دوپیازہ اور پسندیدہ کے ساتھ شیر مال بھی کھائی۔شاہی ٹکڑے اور کھیر کا بھی مزہ لیا۔یعنی اتنا کھایا کہ پیٹ پھول گیا۔ پھر میری ڈیوٹی لگی کہ میں مسجد کے امام صاحب کو کھانا دیکر آؤں۔
اُن دنوں مسجد کے امام کو دوپہر اور رات کا کھانا پہنچانا محلہ کے ہر گھر پر اخلاقی طور پر لازمی تھا۔ ہر گھر کا دن اور وقت مقرر تھا۔بہر حال، اس ماہ بقیہ پورے روزے رکھے۔پھر یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن مشاہدہ اور تجربہ یہ بھی ہوا کہ اللہ جسے توفیق دے،وہی شخص روزہ رکھ سکتا ہے !

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*