روشن بیگ اور وسیم رضوی:بھگوابھکت مسلمان کیے گیے ذلیل ـ شکیل رشید

آہیں نہ ایک دو نے بھری تھیں اور نہ ہی آنسو ایک دو آنکھ سے ٹپکے تھے، آہیں بھرنے اور رونے والے سیکڑوں کی تعداد میں تھے ۔ یہ اس لیے رو رہے تھے کہ ان کی عمر بھر کی کمائی، جو اِنہوں نے اسلامی بینکنگ کے طرز پر حلال کاروبار کا دعویٰ کرنے والے ایک ادارے آئی ایم اے یعنی آئی مونیٹری ایڈوائزرز ، میں لگائی تھی وہ ڈوب گیا اور اس ادارے کے ذمےداران منظر سے غائب ہو گئے تھے ۔ غریب جن کی رقمیں اس ادارے میں لگی تھیں ہمیشہ کے لیے محتاج اور جو خوشحال تھے وہ بدحال ہو گیے تھے ۔ چونکہ لوٹ کا یہ کاروبار شریعت، اسلامی بینکنگ اور حلال کے نام پر چلایا جا رہا تھا اس لیے اس میں پیسہ لگانے والوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی، مگر غیر مسلموں نے بھی اپنی رقومات اس کاروبار میں لگا رکھی تھیں ۔ کُل کتنی رقم ڈکاری گئی اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے، لیکن ایک اندازہ کے مطابق 400 کروڑ روپیے کا گھوٹالہ ہے ۔ آئی ایم اے کے ڈوبنے کے بعد یہ خبر آئی تھی کہ اس کی رقم، جو عام لوگوں سے جمع ہوئی تھی، فریب کے کاروبار کو چلانے کے لیے سرکاری افسران اور سیاست دانوں کو رشوت اور قرض کے طور پر دی گئی تھی، رشوت کی رقم تو واپس آنے سے رہی قرض کی رقم بھی ہڑپ کر لی گئی ۔ جن سیاست دانوں کے نام سامنے آئے تھے ان میں ایک نام کرناٹک کے کانگریسی لیڈر روشن بیگ کا بھی تھا، جنہیں آج سی بی آئی نے گرفتار کر لیا ہے، اور کورٹ نے عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے ۔ آئی ایم اے کے ڈائریکٹر منصور خان جو کبھی چھوٹے موٹے کاروباری تھے، اس پونزی اسکیم کے بعد کروڑوں میں کھیلنے لگے تھے، اور آج وہ ایک ملزم ہیں ۔ انہوں نے ہی روشن بیگ کا نام طشت از بام کیا ہے، ان کا یہ دعویٰ ہے کہ روشن بیگ نے 400 کروڑ روپے لیے تھے مگر واپس نہیں کیے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن دوسرے سرکاری افسران اور سیاست دانوں نے رقومات لی ہیں اس کا ابھی کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکا ہے، سی بی آئی کی تحقیقات کے بعد ہی پتہ چل سکے گا کہ گھوٹالہ 400 کروڑ روپے سے کتنا زیادہ ہے ۔ ویسے خبر ہے کہ 4000 کروڑ روپے اس دھوکے کے کاروبار میں چٹ کیے گیے ہیں ۔ یہاں بات اس گھوٹالہ پر تو ہونی ہی ہے روشن بیگ جیسے بے پیندی کے لوٹوں پر بھی کی جانی ہے ۔ روشن بیگ سات بار کرناٹک سے کانگریس کے وزیراعلیٰ رہے، وزیر بنے اور دیکھتے ہی دیکھتے دولت میں کھیلنے لگے ۔ روشن بیگ کی ترقی بے مثال تھی یا بے مثال ہے ۔ یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ کیسے سیاست میں آنے، اسمبلی میں جانے اور وزیر بننے کے بعد وہ دیکھتے ہی دیکھتے کروڑ پتی بن بیٹھے؟ اس سوال کا جواب یقیناً ایک ہی ہے، کرپشن ۔ یہی کہا جا سکتا ہے کہ انہیں اپنے اسمبلی حلقہ اور وزیر کی حیثیت سے مسلمانوں اور عام شہریوں کے لیے سرکاری خزانہ سے جو مال و متاع دیا گیا اسے انہوں نے جی کھول کر اپنی اور اپنے خاندان کی بہبودی کے لیے استعمال کیا ۔ کرپشن اور گھوٹالہ اخلاقی تباہی بھی لاتا ہے، اور روشن بیگ کی اخلاقی تباہی کا سب سے بڑا نمونہ ان کا بی جے پی اور سنگھ پریوار کی گود میں جا بیٹھنا تھا ۔ جس کانگریس نے انہیں لوٹ کے کاروبار کی آزادی دی تھی اسی کی حکومت گرانے اور بی جے پی کی حکومت بنوانے میں روشن بیگ نے بے حیائی اور ڈھٹائی کی ساری حدیں پار کر دی تھیں ۔ کہتے ہیں کہ اگر کوئی کرپٹ سیاست داں بی جے پی کا دامن تھام لے تو وہ دودھ کا دھلا ہو جاتا ہے، شاید روشن بیگ کو اس کہنے پر یقین کامل تھا اسی لیے وہ بی جے پی کا دامن تھامنے کے لیے ساری پرانی وفاداریاں فراموش کرگیے تھے ۔ انہیں یہ یقین تھا کہ اب وہ دودھ کے دھلے ثابت ہو جائیں گے ۔ لیکن وہ پکڑے گیے اور بی جے پی خاموشی سے ان کی ذلت کا تماشہ دیکھتی رہی ۔ یہ ہونا ہی تھا ۔ روشن بیگ یہ بھول چکے تھے کہ وہ ایک مسلم سیاست داں ہیں اور ماضی میں بی جے پی پر بڑی شدید تنقید اور نکتہ چینی کر چکے ہیں ۔ نکتہ چینی نہ بھی کی ہوتی تو بھی فرق نہیں پڑتا، جو ان کے ساتھ ہوا وہ ہونا ہی تھا ۔ بی جے پی کے منصوبے اور ایجنڈے میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ وسیم رضوی کی مثال لے لیں، اس کی حالت دھوبی کا کتّا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا والی ہوئی ہے ۔ وسیم رضوی نے شیعہ وقف بورڈ کے گھپلوں سے خود کو بچانے کے لیے بی جے پی اور یوگی آدتیہ ناتھ کی جس بے شرمی کے ساتھ چاپلوسی کی ہے کسی نے نہ کی ہوگی ۔ اسلام کے خلاف ایمان چھن جانے والی باتیں تک اس کے منھ سے نکلی ہیں ۔ مدارس کو اس نے دہشت گردی کے اڈے ثابت کرنے کی ہرممکن کوشش کی ہے ۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا یہ سب سے بڑا بھومپو رہا ہے ۔ لیکن اسے سی بی آئی کے شکنجے سے اس کی بھگوا نوازی بچا نہیں سکی کیونکہ وہ نام کا سہی مسلمان ہے ۔ روشن بیگ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے ۔ یاد رہے کہ ہر وہ مسلمان جو بی جے پی کے راگ گاتا ہے نشانے پر ہے، کوئی محفوظ نہیں رہنے والا ۔ بی جے پی الیکشن میں مسلمانوں کو ٹکٹ نہیں دیتی اور جس سیاسی جماعت سے اتحاد کرتی ہے اس کے مسلم امیدوار اگر ہیں تو انہیں پروانے کے لیے سب کچھ کر گزرتی ہے ۔ بہار کی مثال لے لیں جہاں متحدہ جنتا دل کے تمام مسلم امیدوار ہارے ہیں ۔ بی جے پی کا ایجنڈہ مسلمانوں کو اقتدار سے ہر طرح محروم رکھنا ہے، بھلا وہ کسی وسیم رضوی اور روشن بیگ کو کیسے برداشت کر سکتی ہے ۔ ویسے بھی ان دونوں کو سزا ملنی ہی تھی، وسیم رضوی کو اسلامی تعلیمات پر نکتہ چینی کے لیے، مدارس اور علماء کو دہشت گردی سے جوڑنے کے لیے اور روشن بیگ کو غریبوں کی محنت کی کمائی بغیر ڈکار لیے ہضم کرنے کے لیے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*