روحانی سفر- م . ع . اسعد سلفی

 

9758623411

سفر خواہ کتنا بھی آسائش و آرام سے پر کیوں نا ہو ، بہرحال ہوتا وہ سفر ہی ہے ، اس سے ہونے والی واجبی تھکان سے کسی بھی مسافر کو چھٹکارا نہیں ہوتا ، اگر نفسِ سفر کی تھکان سے کچھ نجات مل بھی جائے تو اس کے مقدمات و مؤخرات بچی ہوئی کسر عموماً پوری کر ہی دیتے ہیں ، اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عذاب سے تشبیہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:”السفر قطعة من العذاب“. یعنی : سفر درحقیقت عذاب کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے۔

یہ تو خیر جسمانی سفر کی بات تھی ، لیکن یہی سفر اگر روحانی طور ہو تو مزید تکلیف دہ اور اذیت ناک ہوتا ہے ، جسمانی سفر میں انسان تھکتا ہے تو کسی شجر کے سایہ میں کچھ پل ٹہر کر آرام کر لیتا ہے ، سو کر اپنی تھکان مٹا لیتا ہے ، بھوک و پیاس لگتی ہے تو کھا پی لیتا ہے اور اس طرح پوری چستی و نشاط کے ساتھ دوبارہ آمادۂ سفر ہو جاتا ہے۔ الغرض یہ کہ جسمانی سفر میں زیادہ سے زیادہ انسان کا جسم مجروح ہوتا ہے،جبکہ اس کے بالمقابل روحانی سفر کا معاملہ اس سے قدرے مختلف ہے۔

1 : یہاں انسان کا جسم سفر نہیں کرتا بلکہ اس کی روح سفر کرتی ہے۔

2 : اسی طرح اس سفر کی منزل ہر ایک شیئ نہیں ہوا کرتی بلکہ فقط خود خالق الارواح اور ذی روح مخلوقات ہی اس کی منزل ہوا کرتی ہے۔

3 : نیز (مخلوقات کی طرف) روحانی سفر میں زادِ راہ بھی جسمانی سفر کی طرح کھانا پانی نہیں ہوتی ، کہ جسے قبل از سفر ہی وافر مقدار میں باندھ لیا جائے یا ختم ہو جانے پر راستے سے ہی خرید لیا جائے ، بلکہ اس میں زادِ راہ کا غالب انحصار صاحبِ منزل پر ہوتا ہے۔

4 : اسی طرح جسمانی سفر میں عموماً انسان کا کوئی ہمسفر ضرور ہوتا ہے جبکہ (مخلوقات کی طرف) روحانی سفر میں ہمسفر کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

5 : جسمانی سفر میں بالفرض اگر کوئی رفیقِ سفر نہ بھی ہو تو بھی دیگر مسافرین سے دورانِ سفر کچھ نہ کچھ شناسائی اور آشنائی ہو ہی جاتی ہے جبکہ روحانی سفر انسان کو اول تا آخر تنہا ہی طے کرنا پڑتا ہے۔

6 : جسمانی سفر میں دورانِ سفر گاہے بگاہے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو مسافر کے دل کو فرحت و سرور بخشتے ہیں جبکہ یہاں (مخلوق کی طرف) کئے جانے والے روحانی سفر میں مناظر تو دور کی بات ، کوئی نظر بھی نہیں آتا۔

7 : جسمانی سفر میں مدتِ سفر تقریباً معلوم ہوا کرتی ہے جبکہ روحانی سفر میں علم تو دور کی بات ، اندازہ تک نہیں ہوتا ، کبھی لمحوں کا سفر طے کرنے میں صدیاں بیت جاتی ہیں تو کبھی صدیوں کا سفر چند لمحات میں طے ہو جاتا ہے۔

کبھی اک بات کہنے میں ،کئی گھڑیاں لگاتے ہیں

کبھی صدیوں کی باتیں ایک پل میں بول جاتے ہیں (عطاء اللہ حیدر سلفی)

8 : جسمانی زخم جلدی بھر جایا کرتے ہیں ، جبکہ روحانی زخم بھرنے میں بسا اوقات صدیاں بیت جاتی ہیں۔

9 : جسمانی زخم ایک بار بھر جائیں تو عموماً دوبارہ ہرے نہیں ہوتے جبکہ روحانی زخم بھر جانے کے بعد بھی ذرا ذرا سی بات پر دوبارہ ہرے ہو جایا کرتے ہیں۔

10 : جسمانی زخموں کی دوا عموماً بآسانی دستیاب ہو جاتی ہے ، جبکہ روحانی زخموں کی دوا بآسانی نہیں ملا کرتی۔

11 : جسمانی زخموں کو دیکھ کر لوگوں کی طرف سے ملنے والی ہمدردی اور شفقت و عنایت ، آبِ حیات کے مانند ہوتی ہے ، جبکہ روحانی سفر میں اگر چہ وہ لہو لہان ہی کیوں نہ ہو جائے ، بغل والے کو بھنک تک نہیں لگتی ، بلکہ بسا اوقات ، مسافر حالات سے شکست خوردہ ہو کر جب بیچ راہ میں ہی دم توڑ دیتا ہے تو خود ہی تنِ تنہا اپنی لاش کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر لاتا ہے اور بغیر کسی کو خبر لگے اپنے دل کے مخصوص قبرستان میں سپردِ خاک کر دیتا ہے۔

ان تمام مصائب و آلام کو بصد شوق و فراخ دلی سے قبول کرتے ہوئے اگر کوئی مردِ مجاہد منزل تک پہنچ بھی جائے بلکہ وہاں کی قومیت کے کر اس کے یہاں رہنے بھی کیوں نہ لگے مگر پھر بھی وہ رہتا تو کرایہ دار ہی ہے ، کہ جو ”جی حضوری“ کی شکل میں ہر لمحہ مکان کا کرایہ ادا کرتا ہے ، اور اس پر مستزاد یہ کہ وہاں مدتِ سکونت کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں ہوتا ، کوئی بھروسہ نہیں کہ کب اس کی قومیت منسوخ کر دی جائے ، مکان کا دروازہ بند کر دیا جائے ، اور دھکے مار کر نکال دیا جائے۔

"واضح رہے کہ یہاں روحانی سفر سے مراد ، صوفیوں والا روحانی سفر نہیں بلکہ دو لوگوں کے مابین محبت کے وہ ارتقائی مراحل ہیں جنہیں وہ آپس کی شناسائی سے لیکر ایک دوسرے کے لئے کچھ بھی کر گزرنے تک طے کرتے ہیں”۔

مگر اسی کے برعکس اگر یہی جستجو اور سچی تڑپ اولوا الارواح کے بجائے خالق الارواح کے تئیں ہو تو پھر بات ہی اور ہوتی ہے ، پھر نہ تو وہ سفر ، مذکورہ سفر جیسا ہوتا ہے اور نہ ہی مندرجہ بالا خدشات میں سے کوئی خدشہ بندہ کو لاحق ہوتا ہے ، بلکہ وہ سفر تو وہ ہوتا ہے کہ آسمان میں رحم و کرم کے بادل اس پر اپنا سایہ کرتے ہیں ، زمین میں فرشتے بطورِ اکرام اس کی راہ میں اپنے پر بچھا دیتے ہیں کہ یہ بندہ اپنے رب کی جانب عازمِ سفر ہے ، کہیں اس کو کوئی تکلیف نہ ہونے پائے ، پانی میں مچھلیاں اور بلوں میں چینٹیاں اس کی سلامتی کی دعائیں مانگتی ہیں ، عنایتِ رب اس کی ہمسفر بن جاتی ہے اور سفر میں آنے والی تمام تر مشکلات ، آسانی کے ہاتھ پر بیعت کرکے اس کے تابع فرمان ہو جاتی ہیں اور واجبی مصائب و آلام ، زحمت کی بجائے رحمت بن جاتے ہیں ، پھر تھکان اس کو تھکانے کی بجائے اس میں مزید نشاط پیدا کرتی ہے ، رب کی حمد و ثناء ، صوم و صلات اور ذکر و اذکار اس کی بہترین زادِ راہ ہوتی ہے ، جس کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ خرچ کرنے سے مزید بڑھتی ہے اور مسافر کو بڑی تیزی سے جانبِ منزل بڑھاتی ہے ،

نیز دورانِ سفر اگر کوئی ناگہانی بلا آ بھی جائے اور موت بیچ راہ میں ہی اسے اچک لے تب بھی وہ سفر ضائع نہیں جاتا بلکہ اللہ رب العزت اس کو شرفِ قبولیت سے نوازتا ہے اور اس پر انعام و اکرام کی بارشیں برساتا ہے۔

مگر قصہ ابھی یہیں تمام نہیں ہوتا بلکہ اصل چیز تو اس کے بعد ہے اور وہ یہ کہ اس منزل کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ انسان جس قدر اور جتنی تیزی اس کی جانب بڑھتا ہے اس سے کئی گنا تیزی سے منزل خود اس مسافر کی جانب بڑھتی ہے ، اگر بندہ ایک بالشت بڑھتا ہے تو وہ ایک ہاتھ ، اگر وہ ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو وہ دو ہاتھ ، اور اگر وہ چل کر جاتا ہے اور وہ منزل دوڑ کر اس کے پاس آتی ہے۔

سبحان اللہ! یہ ایک ایسی چیز ہے کہ دنیا میں شاید ہی اس کی کوئی نظیر ملے۔

یہ تو خیر دورانِ سفر کا خوش کن و دلکش عالم ہے مگر منزل پر پہنچنے کے بعد جو عالم ہوتا ہے وہ اس سے بھی کہیں زیادہ حسین ، پرکشش اور جاذب نظر بلکہ حیرت انگیز ہوتا ہے ، کہ جب عرشِ بریں پر جلوہ افروز رب العالمین فرشتوں سے اس آنے والے مسافر کا تذکرہ کر رہا ہوتا ہے ، اور پھر جیسے ہی وہ منزل تک پہنچتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اللہ رب العالمین خود دوڑتا ہوا (اس کا پر تپاک استقبال کرنے کے لئے) اس بندہ کے جانب آ رہا ہے ، یقیناً اس وقت ایک عجیب ہی سماں ہوتا ہے کہ جس کا بیان کرنا الفاظ میں ممکن ہی نہیں:

مرے جذبات لفظوں میں بیاں ہو ہی نہیں سکتے

سو لفظوں کے سہارے سے معانی لکھ رہا ہوں میں

فرشتے محوِ حیرت میں خالق و مخلوق کی اس بے نظیر محبت کا رلا دینے والا حسین منظر دیکھ رہے ہوتے ہیں ، پھر رب العزت جبریل سے ہمکلام ہوتا اور کہتا ہے کہ اے جبریل! یہ میرا بندہ ہے ، میں اسے اپنی محبت کا پروانہ دے چکا ہوں لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو ، پس جبریل بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، پھر اللہ رب العزت کی محبت جوش مارتی ہے اور جبریل کو حکم ہوتا ہے (کہ میرے بندے کے اعزاز کے لئے یہ کافی نہیں) جاؤ آسمانوں میں بھی یہی اعلان عام کر دو ، پس جبریل بحکمِ رب العالمین آسمانوں میں فرشتوں کو ندا لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے آسمان والو! سنو! اللہ تعالیٰ کا حکم آیا ہے ، وہ اس آنے والے مہمان کو اپنی محبت کا پروانہ دے چکا ہے لہٰذا تمہیں بھی چاہئے کہ تم اس مہمان سے محبت کرو ، پس تمام کے تمام فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، اور پھر یہی عمل بحکمِ خالقِ عرش ، اہل فرش میں بھی انجام پاتا ہے ، پس جب بندہ زمین پر پہنچتا ہے تو سب کچھ بدل چکا ہوتا ہے ، فرش والے اسے دیکھ کر فوراً پہچان جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو وہی محبوب ذوالجلال ہے جس کی محبت کا عرش والے نے ہمیں حکم دیا ہے اور پھر تمام فرش والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔

سبحان اللہ! کیا حسیں منظر ہوتا ہوگا اس وقت کہ جب یہ سب کچھ انجام پاتا ہوگا ، اور وہ کیا سماں ہوتا ہوگا کہ جب اس شخص کا نام لیکر جبریل علیہ السلام آسمانوں میں ندا لگاتے ہوں گے اور فرشتوں کو عرش والے کا فرمان سنا کر اس کی محبت کا حکم دیتے ہوں گے۔

اللہ اکبر! کس قدر پذیرائی اور انعام و اکرام ہے اس شخص کے لئے کہ جو اس روحانی سفر میں مخلوق کی بجائے خالق کی طرف نکلے۔

مگر انعام و اکرام کا یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ بندہ اس سفر سے لوٹنے کے بعد اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اگر اہلِ زمیں میں سے کوئی شخص بھی اس کی محبت سے ہاتھ کھینچے اور اس سے دشمنی مول لے تو اس شخص کو کچھ نہیں کرنا پڑتا بلکہ خود عرشِ بریں پر مستوی ذات اس سے جنگ کا اعلان کر دیتی ہے ، کیونکہ اس وقت بندہ اس مقام پر پہنچ چکا ہوتا ہے کہ جہاں اللہ تعالٰی اس کا کان ہو جاتا ہے کہ جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھ ہو جاتا ہے کہ جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کا ہاتھ ہو جاتا ہے کہ جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں ہو جاتا ہے کہ جس سے وہ چلتا ہے ، سبحان اللہ! یہ ہے اصل روحانی سفر اور یہ ہے اصل مقام:

یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا

ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں

یہ تمام انعام و اکرام اور پذیرائی و حوصلہ افزائی وہ ہے جو انسان کو دنیا میں ہی دیکھ کو مل جاتی ہے ، باقی آخرت میں رب العالمین نے اس کے لئے اپنے پاس کیا کیا نعمتیں رکھی ہیں اس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔

تنبیہ : مخلوق کی طرف کیا جانے والا روحانی سفر بھی خالق کے یہاں ممدوح ہے بشرطیکہ اس کی گاڑی اخلاص کی پٹری پر چلے ، اور جیسے ہی گاڑی اخلاص کی پٹری سے اتر کر ذاتی مفاد کے ٹریک پر چلتی ہے تو کچھ دور بھی نہیں چل پاتی کہ عداوت و نفرت کی زمین میں دھنس جاتی ہے کیونکہ "محبتِ مخلوق کی بقا و معراج کا راز محبت خالق میں پنہاں ہے”۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*