روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجیے-سہیل انجم

سال 2020 حزن و ا لم اور غم و ماتم کا سال بن گیا۔ کیسے کیسے اصحاب علم و فن اور یگانۂ روزگار نے رخت سفر باندھا اور دار الفنا سے دار البقا کی طرف کوچ کر گئے۔ یہ سال انتہائی مہلک کرونا وائرس کی عالمی وبا کا سال ہے۔ آگے چل کر اس پر تحقیق ہو سکتی ہے کہ اس وائرس نے کیسی کیسی ہستیوں کو نگل لیا اور کیسے کیسے ذی علم اس کی وجہ سے اس دنیا سے اٹھ گئے۔ لیکن اگر ہم صرف ہندوستان ہی کی بات کریں تو رواں سال میں داغ مفارقت دینے والی سرکردہ شخصیات کی تعداد کئی درجن تک پہنچ جائے گی۔ اور اب بھی قزاق اجل کے ذریعے نقارہ بجا بجا کر نقد جاں لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ابھی اس سال کے ختم ہونے میں ایک ماہ کا عرصہ باقی ہے اور اس ایک ماہ میں کون کون ہمیں چھوڑ کر چلا جائے گا کہا نہیں جا سکتا۔ بہرحال کچھ تو اپنی طبعی عمر کی وجہ سے اور کچھ دیگر امراض کی وجہ سے چلے گئے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بیشتر افراد کو کرونا وبا نگل گئی۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ سال ’عام الحزن‘ ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ نومبر کی 24 اور 25 تاریخوں میں یعنی چوبیس گھنٹے کے اندر چار اہم مسلم شخصیات ہم سے جدا ہو گئیں۔ مولانا ڈاکٹر کلب صادق، پروفیسر اے آر مومن، شکیل احمد سید ایڈووکیٹ اور احمد پٹیل آگے پیچھے چلے گئے۔
مولانا کلب صادق عالمی شہرت یافتہ شیعہ عالم دین اور دانشور تھے۔ وہ ایک ماہر تعلیم تھے۔ ایک سماجی مصلح تھے۔ شیعہ سنی اور ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی اور علمبردار تھے۔ انھوں نے مسلمانوں کو ہمیشہ تعلیم کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں لکھنو میں ان کی خدمات کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ وہ کٹھ ملائیت کے، خواہ وہ شیعوں میں ہو یا سنیوں میں زبردست مخالف تھے۔ وہ فرسودہ روایات کے خلاف بگل بجاتے رہے ہیں۔ ان رسوم و رواج کے خلاف جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، وہ ہمیشہ برسرپیکار رہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو مسلک اور مذہب کے نام پر لڑانے والوں سے ہمیشہ جنگ کی۔ ان کے خیالات کی وجہ سے مسلمانوں کا ایک طبقہ ان کو ناپسند کرتا تھا۔ لیکن انھوں نے کبھی اس کی پروا نہیں کی اور ہمیشہ بہ بانگ دُہل اپنی بات کہی۔ جب طلاق ثلاثہ کا معاملہ اچھلا تو انھوں نے بیک نشست تین طلاقوں کی مخالفت کی۔ انھوں نے اس کی پروا نہیں کی کہ مسلمانوں کے بہت بڑے طبقے کا مسلک اس کے برعکس ہے اور لوگ ان کے بیان کو ناپسند کریں گے۔ اسی طرح انھوں نے حکومت کی ناراضگی کی پروا کیے بغیر سی اے اے کی مخالفت کی اور لکھنو ¿ کے گھنٹہ گھر پہنچ کر دھرنا دینے والی خواتین کی حمایت کی اور کہا کہ سی اے اے ایک سیاہ قانون ہے۔ اسے واپس لیا جانا چاہیے۔ وہ اپنی اسی صاف گوئی کی وجہ سے مسلمانوں میں بھی مقبول تھے اور غیر مسلموں میں بھی۔ بہر حال ان کی حیات و خدمات پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور آگے بھی لکھا جاتا رہے گا۔
کچھ لوگوں کی شخصی خوبیاں ان کی موت کے بعد اجاگر ہوتی ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں سینئر کانگرس رہنما احمد پٹیل بھی شامل ہیں۔ مولانا کلب صادق کے انتقال سے لوگ غمزدہ تھے ہی کہ احمد پٹیل کے انتقال نے انھیں اور رنجیدہ کر دیا۔ حالانکہ احمد پٹیل عہد حاضر کے سیاست داں تھے لیکن ان کی خوبیاں انھیں دیگر سیاست دانوں سے ممتاز بناتی ہیں۔ عام طور پر سیاست دانوں کے انتقال پر ملی حلقو ںمیں وہ سوگ نہیں منایاجاتا جو احمد پٹیل کے انتقال پر منایا گیا۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے مشیر تھے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک بااصول سیاست داں تھے اور ان کی عوامی خدمات کا دائرہ کافی وسیع تھا۔ وہ خاموشی کے ساتھ ضرورت مندوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ اب جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ انتہائی مذہبی شخص تھے۔ صوم و صلوة اور تلاوت قرآن کے پابند تھے۔ ان کے اندر رواداری بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ کانگریس کے ’مشکل کشا‘ تھے۔ جب بھی پارٹی پر کوئی مصیبت آتی تو وہی اس کو اس مصیبت سے باہر نکالتے تھے۔ بی جے پی ان کی سخت مخالف تھی۔ جب وہ نوجوانی میں سیاست میں آئے تھے تو انھیں لوگ ’بابو بھائی‘ کے نام سے جانتے تھے۔ لیکن 1980 کے الیکشن میں بی جے پی نے مذہب کی بنیاد پر ووٹروں کو تقسیم کرنے کے مقصد سے ان کے خلاف جو پوسٹرس آویزاں کیے ان پر بابو بھائی لکھنے کے بجائے احمد بھائی لکھا۔ ابھی گزشتہ راجیہ سبھا الیکشن میں بی جے پی نے اور بالخصوص دو بڑے رہنماو ¿ں نے ان کے خلاف سارے گھوڑے کھول دیے اور کوشش کی کہ وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ لیکن بہر حال کامیاب وہی ہوئے۔ سیاسی مخالفت کے باوجود وزیر اعظم سمیت بی جے پی کے متعدد رہنما انھیں یاد کرنے پر مجبور ہوئے۔ ان کا جانا کانگریس اور ملت دونوں کا نقصان ہے۔پروفیسر اے آر مومن ممبئی یونیورسٹی میں استاد تھے۔ وہ ایک شہرت یافتہ ماہر تعلیم تھے۔ وہ انگریزی، اردو، فارسی اور دیگر کئی زبانوں کے استاد تھے۔ کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ روزنامہ ٹائمس آف انڈیا کے مستقل کالم نگار تھے۔ ان کا انتقال بلا شبہ ملت کا بڑا خسارہ ہے۔ اسی طرح شکیل احمد سید سپریم کورٹ کے ایک معروف وکیل تھے۔ ملی جذبہ رکھتے تھے۔ جمعیت علماءہند سے وابستہ تھے۔وہ بابری مسجد تحریک میں بھی شامل رہے ہیں۔وہ آسام میں این آر سی کے ذریعے مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کی مہم کے خلاف بھی برسرپیکار تھے۔ ان کا انتقال ایک پکے سچے مسلم وکیل کا جانا ہے جو بہر حال ملت کے لیے ایک خسارہ ہے۔
ابھی ہم انھیں شخصیات کا ماتم کر رہے تھے کہ 26 نومبر کو ملت کے ایک اور سپوت مولانا جنید احمد بنارسی داغ مفارقت دے گئے۔ وہ تقریباً ایک ماہ سے صاحب فراش تھے۔ کرونا کے شکار ہو گئے تھے۔ پندرہ بیس روز سے الشفا ہاسپٹل ابوالفضل انکلیو نئی دہلی میں داخل تھے۔ میں نے آٹھ دس روز قبل ان کو فون کیا۔ انھوں نے کال رسیو نہیں کی۔ ایک گھنٹے کے بعد انھوں نے خود فون کیا اور کہا کہ اب میں ٹھیک ہو رہا ہوں اور ان شاءاللہ جلد ہی اسپتال سے چھٹی مل جائے گی۔ لیکن وہ لمحہ نہیں آیا۔ مولانا جنید بنارسی یوں تو بنارس کے تھے مگر ممبئی میں ان کا کاروبار تھا۔ لیکن کافی دنوں سے دہلی کے جسولہ میں اپنے بچوں کے مکان میں مقیم تھے۔ ان کے والد مولانا اسحاق صاحب بنارس کے معروف عالم دین تھے۔ مولانا جنید بنارسی غیر منقسم مسلم مجلس مشاورت سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کا تعلق ممبئی جمعیت علماءسے بھی رہا ہے۔ وہ سماجی کاموں میں پیش پیش رہتے تھے۔ انتہائی شریف النفس تھے۔ ان سے آخری ملاقات ملک گیر لاک ڈاون کے نفاذ سے عین قبل انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر نئی دہلی میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران ہوئی تھی۔ اس کے بعد فون پر اکثر و بیشتر گفتگو ہوتی اور وہ انتہائی شفقت آمیز انداز میں اپنے دولت خانے پر آنے کی دعوت دیتے۔ بہر حال ان کا جانا بھی ملت کا خسارہ ہے۔ ن کے خاندان کی ایک شناخت یہ ہے کہ بنارس کی گیان واپی مسجد کی امامت اسی خاندان کے سپرد رہی ہے۔
اس سے قبل 22 نومبر کو مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے سابق امیر حافظ محمد یحیٰ چھابڑہ کا انتقال ہو گیا۔ وہ عشروں تک جمعیت اہلحدیث کے امیر رہے۔ ان کے دور میں مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے کئی اہم کارنامے انجام دیے تھے۔ وہ دہلی کے فصیل بند شہر کے ایک نامور تاجر بھی تھے۔ ان کے والد حافظ حمید اللہ بھی ملت کا درد رکھنے والے انسان تھے۔ ان کے مراسم سعودی حکومت سے بھی تھے۔ سعودی عرب میں تیل نکلنے سے قبل وہ وہاں کے لوگوں کی مالی امداد بھی کیا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے وہاں کے فرماں رواو ¿ں میں ان کی بڑی قدر و منزلت تھی۔ حافظ محمد یحیٰ بھی اپنے والد کی مانند ایثار و قربانی کا جذبہ رکھتے تھے۔ ان کا انتقال بھی ملت کا ایک بڑا نقصان ہے۔ بہرحال کس کس کا ذکر کیا جائے اور کس کس کا ماتم کیا جائے۔ ان اشخاص سے قبل دنیا سے رخصت ہو جانے والے ڈاکٹر مظفر حنفی، عظیم امروہوی، مولانا مقیم فیضی ممبئی، مولانا عبد المنان سلفی جھنڈا نگر، مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری دیوبند، حکیم عبد الحنان دہلی، مولانا رفیق قاسمی جماعت اسلامی ہند، پروفیسر ولی اختر دہلی یونیورسٹی، امان اللہ خاں پی آر او جامع مسجد دہلی، عبد القادر شمس صحافی، مجتبیٰ حسین، گلزار دہلوی، نصرت ظہیر اور اسرار جامعی سمیت دیگر بہت سی شخصیات اس ایک سال میں دنیا سے رخصت ہو گئیں جن کی خدمات کو یاد کیاجاتا رہے گا۔
اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجیے

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*