روہت سردانا کی موت اور ہمارے رویےـ مولانا ابوحسان پوترک

 

آج تک نیوز چینل کے ایک سنگھی صحافی ‘روہت سردانا’ کی موت ہوگئی ہے۔ اس خبر کے بعد سوشل میڈیا پرمسلم نوجوانوں میں ردعمل کے مختلف رویے سامنے آئے ہیں، کوئی ان کی مسلم مخالف صحافت کی وجہ سے اظہار مسرت کررہا ہے، اور ”خس کم جہاں پاک” کے نعرے بلند کررہا ہے، تو کوئی ان کی فرقہ پرست سوچ کو مذموم مانتے ہوئے، روادری کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر ان کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کررہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان دونوں رویوں میں کس رویہ کو موجودہ معاشرہ میں تحسین کی نگاہوں سے دیکھا جانا چاہئے اور کس کو نہیں؟ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ قومی سطح پر نفرت اور دشمنی کا جو ماحول بنایا گیا ہے، اس میں بہت سے مشہور صحافیوں کے ساتھ روہت سردانا کا نام بھی سرفہرست ہے۔ اس ناحیہ سے مسلمانوں کی ان سے شدید ناراضگی بلکہ ان سے نفرت تک کا جواز موجود ہے۔ اسلامی روایات میں اس قماش کے انسانوں کو مبتلائے مصیبت دیکھ کر اظہار مسرت کا جواز انسانی جبلت کی رعایت کا عنوان ہے۔
سانپ آخر ایک موذی جانور ہے، انسانی آبادی میں اس کو کھلے عام سیروتفریح کا پروانہ نہیں دیا جاسکتا، ہماری اس بات سے وہ لوگ بھی اتفاق کریں گے جن کی روایات میں سانپ کو عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے، بلکہ معبود مانا جاتا ہے، ایسے کسی بھکت کے گھر میں اچانک اگر کوئی سانپ نمودار ہوجائے اور وہ اس کو پکڑنے کی ہمت رکھتا ہو نہ ہی اس کو مار کر خوف و دہشت کی اس عارضی کیفیت سے خلاصی پاسکتا ہو، ایسے وقت میں کوئی انسان یا کوئی غیبی قوت اس سانپ کو مار ڈالے یا اس سے بچاو کی کوئی یقینی شکل پیدا کردے تو اس انسان کا جوطبعی تاثر ہوسکتا ہے، وہ روہت سردانا جیسےنفرت کے سوداگروں کی موت پر ہونا چاہئے۔
مسلمانوں کے حق میں اس طرح کے لوگ سانپ بچھو ہی کی طرح ہیں، چنانچہ ان کی موت پر ان کو خوش ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا، بلکہ اسلام میں ایسے عناصر کے لیے مستقل دعائیں موجود ہیں، قنوت نازلہ کے الفاظ پر غور کرنے سے یہ عقدہ حل ہوجاتا ہے۔
لیکن اس کا اظہار کیسے کیا جائے یہ ایک سوال ہے۔ دل میں خوش ہونا، خوشی کے کلمات کابےساختہ جاری ہوجانا، آنکھیں چمک اٹھنا سب اپنی جگہ درست، لیکن کیا اس خوشی پر مضمون لکھنا، اس کی تشہیر کرنا، سوشل میڈیا پر جہاں لوگ قدرتی بیماریوں تک کو جہاد کا نام دے کر مسلمانوں کے خلاف معصوم لوگوں میں نفرت بھڑکانے سے باز نہیں آتے، ان کو مواد فراہم کرنے کے مترادف نہیں ہے؟
ہر جائز کام علی رؤس الاشہاد،علی الاعلان کرنا ضروری نہیں، اور نہ کسی کام کا جائز ہونا اس کے وجوب کو مستلزم ہے۔ سورج (ظلم) کی موجودگی میں دن (نفرت )کے اثبات یا انکار کی بحث از خود مضحکہ خیزعمل ہے۔
ایسے لوگوں سے نجات پانے کے لیے دعائیں کیجئے، صدقہ دیجئے، نجات ملنے پر سجدہ شکر ادا کیجئے، اپنی جماعت کے ساتھ خوشی کا اظہار کیجئے، مگر مرنے والے کے پسماندگان کی اذیت میں اضافے کا باعث بننا عجیب سا لگتا ہے۔
آپ کے دشمنوں کے نزدیک وہ ان کا ہیرو تھا، سوشل میڈیا پر اظہارمسرت کا مطلب مرنے والے کے دروازے پر ڈھول بجاکر ناچنا ہے۔ مسرت اور موت ایسے موقعے ہیں کہ اس وقت کی دوستی اور دشمنی تا عمر بھلائی نہیں جاسکتی۔ انتقام کی روزانہ نئی شکلیں سامنے آرہی ہیں، بلکہ منصوبہ بند طریقے پر لائی جارہی ہیں، اور اس کے سارے وسائل ان کے کنٹرول میں ہے۔سوشل میڈیا پر اس طرح کا رویہ ان کے گھروں پر جاکر طیش دلانے والی حماقت سے کم نہیں۔
دیکھئے روزانہ کیا ہورہا ہے!! دین، احکام دین کا مذاق اڑایا جارہا ہے، قرآن مجید پر پابندی کی بات کی جارہی ہے، محبوب ومحترم شخصیات کو لے کرمسلمانوں کو اذیت پہنچانے کے بےشمار موضوعات تیار ہیں، ان بےاصل اور جھوٹے پروپیگنڈوں کا جواب دینے کے لئے بھی ہمارے پاس اپنا کوئی آزاد ذریعہ ابلاغ بھی موجود نہیں ہے، ایسی صورت میں اس حرکت کا کیا انجام ہوگا؟ وہ بھی آپ کی محترم شخصیات کی موت پر سوشل میڈیا پر کپڑے اتار کر ناچیں گے، اور جس نچلی سطح تک وہ جاسکتے ہیں، اس کا تصور بھی ہمارے لئے آسان نہیں، کیونکہ جنگ اور محبت میں ہم اپنے اخلاقی حدود سے باہر نہیں جاسکتے۔مگر سام، دام، ڈنڈ اور بھید کے سیاسی اصول پر عمل کرتے ہوئے تمام بداخلاقیوں کو نیکی اور عبادت تصور کرتے ہیں۔
اس لئے جذبات کا اظہارعقل کی بندشوں سے آزاد نہیں ہونا چاہئے، موت تو بہرحال سب کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔