روحانی انفیکشن اور روحانی اینٹی بایوٹک از: محمد اللہ قیصر

آج بچے کے ساتھ ڈاکٹر کے سامنے بیٹھا تھا، ڈاکٹر نے حالات دریافت کرنے کے بعد نسخہ لکھنا شروع کیا، دوا تجویز کرنے کے بعد ہدایت دی کہ اینٹی بایوٹیک کو پابندی سے لینے پر خصوصی توجہ دیں، متعینہ اوقات میں چوک کی کوئی گنجائش نہیں، اگر چھوٹ گیا تو ازسر نو دوا لینی ہوگی۔
مطلب یہ تھا کہ ناغہ ہونے کی صورت میں کمزور ہوتا ہوا یکٹیریا، اپنی سابقہ حالت میں پہو نچ کر مضبوط تر ہوجاتا ہے، بلکہ اس میں اینٹی بایوٹک سے لڑنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔
میں کچھ دیر سوچنے لگا کہ کیا روح بھی انفیکٹیڈ ہوتی ہے؟، جس کا سمٹم بعض گناہوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، اور اس کے لیے  بھی کوئی انٹی بایوٹک ہے جیسے توبہ، استغفار ،نماز وغیرہ جیسے اینٹی بایوٹک تجویز کیے گئے ہیں؟ سوال ہے کیا اگر انسان استغفار میں ناغہ کرتا ہے، تو روحانی انفیکشن بھی قوی تر ہو جاتا ہے؟
روح کا انفیکشن کیا ہے؟: قرآن میں ہے ” کلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون” بلکہ ان کے کرتوت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کردیا ہے۔
اس کے علاوہ مختلف احادیث ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ گناہوں سے قلب سیاہ ہوجاتا ہے، "إذا أذنبَ العبدُ نُكِتَ في قلبِهِ نُكتةٌ سوداءُ” بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے۔ اس کو مادی تعبیر میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ روح انفیکٹیڈ ہوجاتی ہے، ذرا تفصیل سے اس طرح سمجھیں کہ جس طرح ہمارا جسمانی ڈھانچہ جن ظاہری اور پوشیدہ اعضاء و جوارح پر مشتمل ہے، ان سے ہم واقف ہیں، اگر کوئی اینٹیجن/ بیکٹریا/ جرثومہ اس میں داخل ہوتا ہے تو ہمارا جسم ردعمل ظاہر کرتا ہے، جو عموما بخار، سردی، نزلہ، کھانسی کی شکل میں ظاہر ہوتا یے، پھر اینٹی بایوٹک لیتے ہیں، تو انفیکشن ختم ہوجا تا ہے، اس کے بعد جسم کے تمام اعضاء درست طریقہ سے اپنا کام شروع کردیتے ہیں، اسی طرح ممکن ہے کہ روح بھی انفیکٹیڈ ہوتی ہو، ( اس کے اعضاء و جوارح ہیں یا نہیں اس کا علم اللہ کے علاؤہ کسی کو نہیں، کیوں کہ روح کی تفصیل اللہ نے نہیں بتائی) اور وہ روح مخالف اعمال ( معاصی) کے ظہور سے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوں، یا یوں کہیں کہ جس طرح، خارجی مخالف جسم (اینٹی جین) کے دخول سے جسم میں انفیکشن ہوتا ہے اسی طرح روح مخالف عمل کے ظہور سے روح میں انفیکشن ہوتا ہے، اور ان کا اثر قساوت قلبی، توفیق سے محرومی، معاصی میں بیباکی، علم و رزق میں تنگی، وغیرہ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، انہیں کو ہم روحانی بیماری بھی کہتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ روحانی بیماریوں کا علاج بھی روحانی ہوگا، (جس طرح جسم مادی ہے تو اس کو لاحق ہونے والی بیماریوں کا علاج مادی اشیاء کا مرکب ہوتا ہے) ان روحانی علاجات کو روحانی اینٹی بایو ٹک سمجھ لیں، جیسے حدیث پاک میں ہے” إنَّ هذِهِ القلوبَ تَصدأُ كما يَصدأُ الحديدُ إذا أصابَهُ الماءُ. قيلَ وما جِلاؤُها؟ قالَ: كثرةُ ذِكْرِ الموتِ وتلاوةِ القرآنِ ، دلوں پر ایسے زنگ لگ جاتے ہیں، جیسے پانی لگ جانے سے لوہا زنگ آلود ہو جاتا ہے، پوچھا گیا: اس کی صفائی کیسے ہوگی، فرمایا، کثرت سے موت کا ذکر اور قرآن کی تلاوت سے ( زنگ دور جاتے ہیں) نماز کے متعلق قرآن نے کیا، "إن الصلوة تنهى عن الفحشاء والمنكر” بلاشبہہ نماز برائیوں سے روکتی ہے،
یوں کہہ لیں کہ روح کا انفیکشن ختم ہو جاتا ہے، اس طرح بندہ پھر روح کے تقاضوں پر عمل کرنے لگتا ہے، برائیوں سے اجتناب کرتا ہے تو حسنات کی توفیق ملتی ہے، چھوٹے گناہ دھل جاتے ہیں، یہ اس بات کی علامت ہوتی کہ روح اپنی فطرت کے مطابق کام کر رہی ہے، إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيما.(النساء 31)
اگر تم اجتناب کرتے رہو گے ان بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تمہیں روکا جا رہا ہے تو ہم تمہاری چھوٹی برائیوں کو تم سے دور کردیں گے اور تمہیں داخل کریں گے بہت باعزت جگہ پر۔
جس طرح صحیح سالم جسم میں موجود انفیکشن مادی اینٹی بایوٹک سے دور ہوتا ہے، اسی طرح روح کا انفیکشن روحانی اینٹی بایوٹک ،اور روحانی علاج سے دورگا، اور روح کےلیے  اینٹی بایوٹک ہے،توبہ، استغفار، تلاوت، اور دیگر اعمال صالحہ۔
واضح رہے کہ توبہ استغفار کو اینٹی بایوٹک سے تشبیہ دی گئی صرف سمجھانے کے لیے ، ایک جسم کی بیماری دور کرتی ہے تو دوسری روح کے امراض سے نجات کا سبب بنتی ہے، ورنہ ظاہر ہے اینٹی بایوٹک جو کہ ایک مادی علاج ہے چونکہ انسانوں کی بنائی ہوئی ہے لہذا وہ انفیکشن دور کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سارے نقصانات بھی پہنچاتی ہے، یعنی مفید بیکٹیریا اور مضر بیکٹیریا میں فرق نہیں کرتی اور دونوں کو ختم کر تی ہے، اس سے جو نقصانات ہوتے ہیں انہیں ہی سائڈ افیکٹ کہا جاتا ہے۔ جبکہ توبہ و استغفار کی بڑی فضیلت ہے، ان سے مومن کا مقام بلند ہوتا ہے، قرب الٰہی کی نعمت ملتی ہے، اگر دل سے کیا جائے تو وہ روح کو بالکل پاک کر دیتے ہیں، اس کا کوئی سائڈ افیکٹ نہیں ہوتا، جیسے اینٹی بایوٹک کے ہوتے ہیں، البتہ بسا اوقات انسان خود اپنی کمزوری کی بنا پر ان اعمال صالحہ نافعہ کو اپنے لئے نقصان کا سبب بنا لیتا ہے، مثلاً اس میں عجب، ریا، نام و نمود پیدا ہو جائے، تو یہ الگ بات ہے، لیکن استغفار بذات خود فوائد کا مجموعہ ہے، روحانی ترقی کا زینہ ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*