آر جے ڈی کسانوں کی تحریک تیزکرے گی،بلیو پرنٹ تیار،کتابچے کی اشاعت ہوگی

پٹنہ:آر جے ڈی بہارمیں کسان تحریک کی حمایت اور تیز کرنے کے لیے بڑی تحریک کی تیاری کررہی ہے۔اس کے لیے مرکزکے ساتھ ساتھ ریاستی حکومت کو گھیرنے کی تیاری ہے۔ اس کا مکمل بلیوپرنٹ آر جے ڈی کے سینئر رہنماؤں ، ریاستی صدر جگدانندسنگھ ، شیوانند تیواری ، پریم کمار مانی ، آلوک مہتا وغیرہ نے تیار کیاہے۔ان کاکہناہے کہ ہم نہ صرف کسانوں کے مسائل کو قریب سے جانتے اور سمجھتے ہیں بلکہ ان مسائل کو بھی تحریک کا ایک حصہ بنائیں گے۔ کسانوں ، مزدوروں کو آگاہ کرنے کے لیے مرکزی حکومت کے تین زرعی قوانین کے پرچے بھی چھاپے جا رہے ہیں۔ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ چودھری چرن سنگھ کے یوم پیدائش 23 دسمبر کوبڑے پیمانے پر منایا جائے گا۔اس موقع پر پٹنہ میں ایک بڑے پروگرام کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔آر جے ڈی کاماننا ہے کہ ہندوستانی حکومت کے زرعی قانون کوبہارمیں صرف 2006 میں لایا گیا تھا جب بہار حکومت نے مارکیٹ کمیٹی کانظام ختم کردیا تھا۔ 5 جون 2020 کوحکومت ہند کورونا لاک ڈاؤن کے وقت تین زرعی بل لے کر آئی اور صدر کو ارسال کردی اور دونوں ایوانوں کو ستمبر میں منظور کرلیا۔ پارٹی کے مطابق یہ نجی کمپنیوں کوبڑا فائدہ دینے کی کوشش ہے۔ آر جے ڈی ایک نیا مطالبہ بھی اٹھائے گی کہ حکومت 60 سال سے زیادہ عمر کے کسانوں کو ماہانہ پانچ ہزار روپے پنشن دے۔ پارٹی کے کسان سیل کے صدر سبودھ یادوکاکہنا ہے کہ حکومت کوکسانوں کا پنشن نافذکرناچاہیے۔ ان کاکہنا ہے کہ پچھلے سال 30 لاکھ میٹرک ٹن کی بجائے صرف 18 ہزار میٹرک ٹن دھان ہی خریدا گیا تھا۔ یعنی پیداوار کا 6فی صد پی اے سی ایس سے حاصل کیاگیاہے ۔بقیہ 94 فیصد کولوگوں کوفروخت کرنا پڑا۔ مکئی اور گندم کو بھی کم قیمت پر فروخت کرنا پڑا۔ حکومت نے زرعی مشینری پر دی جانے والی سبسڈی ختم کردی ہے۔ آر جے ڈی کے ریاستی صدر جگدانند سنگھ کا کہنا ہے کہ بہار میں کسانوں کی مقامی مارکیٹ ختم ہوگئی ہے۔ لہٰذاپی اے سی کے ساتھ ساتھ ایف سی سی اور ایف سی آئی کو بھی دھان خریدنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ بہارمیں PAX کانظام ٹھیک نہیں ہے۔ آر جے ڈی بھی کم سے کم سپورٹ قیمت پر اناج خریدنے ، مارکیٹ کمیٹی کے نظام کو دوبارہ شروع کرنے ، بروقت آبپاشی کانظام مہیاکرنے اور فصلوں کی انشورنش کی رقم کی بروقت ادائیگی کے لیے سڑک پر ہوگی۔