آرجے ڈی اورجے ڈی یو ایک سکے کے دورخ،راجدکی بی جے پی کے ساتھ سازباز،اوپندر کشواہاکاتیجسوی یادوپرسنگین الزام

پٹنہ:بہار اسمبلی انتخابات کے مدنظر تمام سیاسی پارٹیوں میں اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شامل ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ راشٹریہ لوک سمتا پارٹی نے عظیم اتحاد سے ناطہ توڑ کر اب بہوجن سماج پارٹی اورجن وادی سوشلسٹ پارٹی کے ساتھ نیا اتحاد بناکر بہار کے سبھی 243سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔بہا ر اسمبلی انتخاب میں سیٹوں کی تقسیم پر پھنسے پیچ کے نہیں سلجھنے سے ناراض چل رہے راشٹریہ آر ایل ایس پی کے سربراہ اوپیندر کشواہا نے عظیم اتحاد کے رہنمائوںکے طریقۂ کار سے ناراض ہوکر اب نئے اتحاد سے انتخاب لڑیںگے۔اس کا اعلان آج انہوںنے اخباری نمائندوں سے گفتگوکے دوران کیا۔کشواہا دو روز سے دہلی میں مقیم تھے اور این ڈی اے کے اہم رہنمائوں سے رابطہ میں تھے لیکن این ڈی اے کی طرف سے سگنل نہ ملنے کے سبب بالآخرانہوں نے نئے اتحاد کے ساتھ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔اوپیندر کشواہانے یہاں بی ایس پی کے بہار کے انچارج رامجی سنگھ گوتم اور جن وادی سوشلسٹ پارٹی کے صدر ڈاکٹر سنجے سنگھ چوہان کی موجودگی میں منعقدہ پریس کانفر نس میں عظیم اتحاد سے ناطہ توڑ نے اور بی ایس پی اور جن وادی سوشلسٹ پارٹی کے ساتھ مل کر نیا اتحاد بنانے کا اعلان کیا۔سابق مرکزی وزیر مسٹر کشواہا نے کہاکہ نتیش حکومت اب تک ہر محاذ پر ناکام ثابت رہی ہے۔ انہوںنے لالورابڑی ( آرجے ڈی حکومت ) کے پندرہ سال اور ابھی کے نتیش حکومت کے 15 سال کی مدت کار کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیا اور کہا کہ آرجے ڈی حکومت کے پندرہ سال کی حکومت میں ریاست میں تعلیم کی کیسی حالت تھی کہ سابق وزیراعلیٰ اپنے بچوں کو میٹر ک کی بھی تعلیم نہیں دلا سکے۔مسٹر کشواہا نے کہاکہ لوگوں کا ایسا ماننا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مہا گٹھ بندھن کی سیاست کو متاثر کر رہی ہے۔ آرجے ڈی اور بی جے پی کے درمیان کچھ نہ کچھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے لوگ دونوں اتحاد سے اب آزادی چاہ رہے ہیں۔اس لیے ان کا نیا اتحاد سبھی 243 سیٹوںپر انتخاب لڑے گا۔اس موقع پر بی ایس پی بہار معاملوں کے انچارج رامجی سنگھ گوتم نے کہاکہ ان کے اتحاد کی قیادت مسٹر کشواہا کریںگے۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح سے اتر پردیش کی سابق وزیراعلیٰ مایا وتی کی مدت کار میں خوف سے پاک سماج کی تعمیر کی گئی تھی ٹھیک اسی طرز پر بہار میںبھی قانون کاراج قائم کیاجائے گا۔ اس کے لیے بہار کی عوام کو آگے آنا ہو گا۔