رنکوشرما قتل معاملہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش، منگول پوری میں امن وامان کی بحالی کے لیے جمعیۃ علماء ہند کوشاں

نئی دہلی:منگول پوری دہلی میں رنکو شرما قتل کے بعد فرقہ پرست عناصر لگاتار امن وامان کو تباہ کرنے کے درپے ہیں اور دہلی اور باہر سے منگول پوری پہنچ کر مسلم اقلیت کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں ۔ ایسے حالات میں امن وامان کی بحالی کے لیے کوشاں ہونا بہت ضروری ہے ۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی اس سلسلے میں وزیر داخلہ حکومت ہند کی توجہ مبذول کراچکے ہیں ۔ اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے آج جمعیۃ علماء ہندکے ایک وفد نے جوائنٹ پولس کمشنر آلو ک کمار سے بات چیت کے بعد باہری دہلی کے کارگزار ڈی سی پی سے ملاقات کی ، اس موقع پر منگول پوری کے مقامی ذمہ داروں نے اپنے حالات کی طرف پولس انتظامیہ کو متوجہ کیا اور کہا کہ کھلے عام مسلمانوں کو مارنے کاٹنے کی دھمکی دی جارہی ہے اور باہر سے آنے والے افراد محلے میں کھڑے ہو کر لائیو ویڈیو بنا کر مسلمانوں کو ڈرا رہے ہیں ۔ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ علاقے میں امن و امان بنا رہے اور باہر سے آنے والے عناصر پر روک لگائی جائے ۔ جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے آلو ک کمار سے اپنی بات چیت میں اس بات پر زور دیا کہ رنکو کے شرما کے قاتلوں کو سزا ملے،یہ ہر طبقہ کا مطالبہ ہے ، لیکن جس طرح کے حالات پیدا کیے جارہے ہیں ، اس سے مقامی لوگوں میں بے چینی ہے ، اس لیے لوگو ں کے جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنا یاجائے اور علاقے میں امن وامن کی کمیٹی کے ذمہ داروں کو فلیگ مارچ کرنے دیاجائے۔جمعیۃ علماء ہند کے وفد میں مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند، مولانا اخلاق قاسمی ، مولانا غیور احمد قاسمی شریک تھے ، جب کہ وفد میں مقامی ذمہ داری کی حیثیت سے فخرالدین شاہ صد ر مسجد کمیٹی منگول پوری ، سرفراز احمد ، ناصر بھائی ، مولانا شاہد ، محمد آزادشامل تھے ۔