ریحانہ اور میا خلیفہ:جمن اور بھکت دونوں کنفیوزڈ! ـ مسعود جاوید

مذکورہ بالا دونوں ہستیوں کے نام کی وجہ سے جمن شاید اس لیے خوش ہیں کہ عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ اور سخی سماجی کارکن انسان دوست اور غریبوں کی ہمدرد ریحانہ مسلمان ہے جس نے کسان مظاہرین کے احتجاجات کو انسانی نقطۂ نظر سے دیکھا اور مظاہرے کے مقامات پر انٹرنیٹ سروسز بند کیے جانے پر ایک ٹویٹ کیا کہ دنیا کے "لوگ اس پر بولتے کیوں نہیں” ؟ حکومت ہند اور ہندوستان کی مشہور شخصیات اداکار اداکارائیں گلوکارہ وغیرہ نے اس ٹویٹ پر اعتراض کیا اور اسے اس ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے قبیل سے مانا۔ جبکہ دوسرے بہت سارے دانشور اور متعدد شخصیات نے اس ٹویٹ پر اعتراض کو غیر ضروری سمجھا، ان کا کہنا ہے کہ پچھلے دنوں امریکہ میں ایک سیاہ فام پر پولیس کی زیادتی کے خلاف مہذب دنیا کے ہر حصے سے آواز بلند کی گئی تھی تب کسی نے اسے امریکہ کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں سمجھا تو ہم اتنے fragile نازک ذرا سی ٹھیس ٹھوکر سے ٹوٹ جانے والی شے کے مانند کیوں ہیں ؟
بہر حال کیا درست اور کیا غلط اس سے قطع نظر سوشل میڈیا پر ردعمل دیکھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ دونوں متشدد متصادم گروہ غلط فہمی کے شکار ہیں۔ جمن خوش کہ یہ مسلمان ہیں اور بھکت بھی آگ بگولہ کہ یہ مسلمان ہیں !
ریحانہ دراصل ریحانہ نہیں، ریانا ہے اور یہ مسلمہ نہیں مسیحیہ (عیسائی ہے) اس کا پورا نام :
روبين ريانا فينتي (انگریزی: Robyn Rihanna Fenty)‏
میا خلیفہ لبنان کی رہنے والی فاسٹ فوڈ میں کام کرتے کرتے امریکی شہریت حاصل کرنے کی لالچ میں ایک امریکی شخص کے جھانسے میں آکر امریکہ چلی گئی جہاں اس نے تین مہینوں تک فحش فلموں میں کام کیا اور اب ماڈل گرل کے بطور کام کرتی ہے۔
یہاں بھی اس کے نام نے لوگوں کو کنفیوژڈ کر رکھا ہے۔ میا کو بعض جمنوں نے میاں بھی لکھا اور خلیفہ نے سونے پر سہاگہ کا کرتے ہوئے ان کے گمان کو یقین میں بدل دیا کہ یہ تو مسلمہ ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک مسیحیہ ( کیتھولک عیسائی) ہے۔ دراصل جو لوگ عرب ممالک سے واقف نہیں ہیں وہ عموماً عربی لباس اور عربی نام سے اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ایسے لباس اور ایسے نام والے سارے مسلمان ہوتے ہیں جبکہ ایسا قطعاً نہیں ہے۔ لبنان ، سیریا(شام) اور عراق کی آبادی میں عیسائیوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے اور مذہبی شعائر میں اسلام سے فرق کے علاوہ تہذیبی طور پر مسلمان اور عیسائی تقریباً یکساں ہیں۔ ان کے نام بھی مسلمانوں جیسے ہوتے ہیں سواے اسماء حسنیٰ اور ان ناموں کے جس کی نسبت اللہ یا محمد یا احمد کی طرف ہو۔ جس طرح ہمارے یہاں پارسیوں کے نام شبنم، شگفتہ ، یاسمین، جمشید وغیرہ ہوتے ہیں اور یہی نام مسلمانوں کے بھی ہوتے ہیں اس لئے بسا اوقات ان ناموں والے اشخاص کے مذاہب کا تعین کرنا مشکل ہوتا ہے۔
مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر کیوں مسلمانوں کا ایک طبقہ ہر واقعہ کو مسلم اور غیر مسلم اینگل سے دیکھتا ہے ؟ مظلوموں کے ساتھ ہمدردی اور اظہار یکجہتی کے لیے انسانیت ، سوزو گداز اور حساس دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہاں ہمیں فخر ہے اپنے مذہب پر کہ اس نے بلا تفریق مذہب و ملت جات پات برادری اور علاقہ لوگوں کے ساتھ غم گساری ، اظہار یکجہتی اور ہمدردی کی تعلیم دی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے مذاہب میں اس کی تلقین نہیں کی گئی ہے۔ دوسری بات وہی جو جارج برنارڈ شا نے کہی تھی کہ اسلام دنیا کا بہترین مذہب ہے اور مسلمان اس مذہب کے بدترین پیروکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک مسلمانوں کی مدر ٹریسا کو ڈھونڈ رہا ہوں !

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*