رہائی کے حکم کے بعد ڈاکٹر کفیل خان کی اہلیہ نے کہا :برائے مہربانی این ایس اے کا غلط استعمال نہ کریں

نئی دہلی:الہ آباد ہائی کورٹ نے اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں نیشنل سکیورٹی ایکٹ(این ایس اے) کا سامنا کرنے والے ڈاکٹر کفیل خان کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ منگل کو عدالت نے اس کیس میں اپنا فیصلہ سنایا اور کہا کہ این ایس اے کے تحت ڈاکٹر کفیل کو تحویل میں رکھنا اور نظربندی کی مدت میں توسیع کرنا غیر قانونی ہے۔ کفیل خان کو فوراًرہا کیا جائے۔ اس پر ان کی اہلیہ کا جواب آیا ہے۔ ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے ان کی اہلیہ شبستہ خان نے بتایا کہ ان کی زندگی سے سات ماہ چھین لیے گئے تھے، جو اب کوئی واپس نہیں کرسکتا۔ایک بے گناہ شخص جس نے کچھ نہیں کیا، اس پر NSA لگا کر اسے قید کردیا گیا اور اسے سات ماہ تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کوئی بھی وہ سات ماہ واپس نہیں لا سکتا۔ جب ہم اس کے بارے میں سوچتے ہیں کہ یہ سات ماہ کیسے گزرے ہوںگے، تو ہماری روح کانپ اٹھتی ہے۔ اگر آپ کے پاس این ایس اے کی طاقت ہے تو اس کا غلط استعمال مت کیجیے۔ اگر کوئی تشدد کر رہا ہے کچھ غلط کررہا ہے تو ضرور اسے جیل میں ڈالیں، اس پر NSA لگادیں۔ لیکن جس نے کچھ نہیں کیا اس پراین ایس اے لگا دیا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔ میری اپیل ہے کہ براہ کرم اگر آپ کے پاس این ایس اے کی طاقت ہے تو اس کا غلط استعمال مت کیجیے۔