ریاض عظیم آبادی کی یادمیں-انوارالحسن وسطوی

9430649112
سال 2021ء کا چوتھا ماہ ’اپریل‘بے شمارمشاہیر کی وفات کے لیے تادیریادرکھا جائے گا۔وفات پانے والی شخصیتوں میں بے شمار علماء بھی ہیںاوراساتذہ بھی ،ادباء ا ورشعراء بھی ہیں،صحافی حضرات بھی۔ایک ماہ کی قلیل مدت میں اتنی کثیر تعداد میں اموات کی خبریںگذشتہ نصف صدی کے عرصہ میں سننے کو نہیں ملی تھیں،جسے دیکھ اورسن کر انسان حیران اورششدررہ گیا۔کثرت اموات کایہ منظر دیکھ کر ،کسی کا یہ شعر بے ساختہ ذہن میں آتا رہا :
موت اپنے ساتھ لے جائے گی توکتنے جنازے
بزمِ امکاں میں ہواجاتا ہے اب توہُو کا عالم
اردوکے معرو ف اوربزرگ صحافی جناب ریاض عظیم آبادی جنھیں آبروئے صحافت کہنا غلط نہ ہوگا،وہ بھی انہیں برگزیدہ شخصیتوں میں شامل تھے جن کا انتقال 16؍اپریل 2021 ء کو پٹنہ میں ہوا۔بلاشبہہ ان کا انتقال بہار کی اردوصحافت کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔مرحوم ریاض عظیم آبادی تقریباً نصف صدی تک بہارکی اردو صحافت کے ساتھ ساتھ ہندی صحافت سے بھی منسلک رہے۔ایک حق گواوربے باک صحافی کی حیثیت سے ان کی شناخت تھی۔اپنی دھاردارتحریر کے لیے وہ ہرخاص وعام میں مقبول ومحبوب رہے۔ہائی اسکول کی طالب علمی کے زمانے سے ہی انھیں لکھنے پڑھنے کا شوق تھا۔وہ اسی زمانے سے مضامین لکھنا شروع کر چکے تھے۔اس زمانے میں ان کی زیادہ ترتحریریں مشہور اردوروزنامہ’’صدائے عام‘‘پٹنہ میں شائع ہوتی تھیں۔میٹرک کی تعلیم کے زمانہ میں ہی موصوف کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(C.P.I)سے وابستہ ہوئے اورپارٹی کے ترجمان ہفت روزہ’’مسائل‘‘کی ادارت کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ ’’مسائل‘‘بہارکا ایک مشہورومقبول ہفت روزہ تھا جسے لوگ پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔’’1968سے 1974 تک ان کی یہ وابستگی برقراررہی ،پھروہ’’مسائل ‘‘کی ادارت اورپارٹی سے بھی کنارہ کش ہوگئے۔ریاض عظیم آبادی کی انفرادیت یہ رہی کہ انھوں نے حصولِ تعلیم اورصحافت نگاری دونوں کو ایک ساتھ گلے لگائے رکھا۔

 

 

مرحوم ریاض عظیم آبادی کئی ادبی،لسانی،سماجی اورملّی اداروں سے وابستہ رہے۔ وہ کئی سالوں تک آل انڈیامجلس مشاورت(بہارچیٹر)کے جنرل سکریٹری اوربہاراردواکادمی کی مجلس عاملہ کے رکن رہے۔انجمن ترقی اردو سے بھی ان کی گہری وابستگی تھی۔ پروفیسرعبدالمغنی (مرحوم )کی صدارت کے زمانہ میں وہ کئی برسوں تک انجمن ہذاکے سکریٹری اوررکن مجلس عاملہ رہے۔مشہورادیب،ناقد وشاعر پروفیسراعجاز علی ارشدنے اپنی تصنیف’’بہارکی بہار‘‘(جلد دوم)میںلکھاہے کہ’’آل انڈیا اردورائٹرس اینڈجرنلسٹ فارم سے وابستگی کے دوران انھو ںنے فورم کے زیرِ اہتمام کئی تاریخ ساز ادبی کانفرنسیں منعقد کیں جن میں وزیراعظم ہند کے علاوہ مرکزی وریاستی وزراء اورملک کے اہم ادیب وصحافی شریک ہوتے رہے۔ان کانفرنسوں کے موقع پر سیکولرزم اورقومی یک جہتی کے لیے کام کرنے والے ادیبوں اورصحافیوں مثلاًخواجہ حسن عبّاس،علی سردارؔجعفری،مجروحؔ سلطان پوری،ڈی۔آر۔گوئل اورعشرت صدیقی وغیرہ حضرات کو ایوارڈ بھی دیے گئے۔‘‘
ریاض عظیم آبادی نے اپنی زندگی کے 50سال سے زائد کا عرصہ صحافت نگاری میںگزارا۔وہ اردو کے علاوہ ہندی اورانگریزی صحافت سے بھی وابستہ رہے۔اس لمبی مدّت میں موصوف کئی اخبارات سے منسلک ہوئے۔مثلاً 1968سے 1974 تک ہفت روزہ’’مسائل‘‘کی ادارت سنبھالی۔1974 سے 1977تک ’’سیکولرڈیموکریسی‘‘دہلی کے نامہ نگاررہے۔1977 سے 1986 تک ہفت روزہ’’بلٹز‘‘بمبئی کے بیوروچیف (بہار)رہے۔1986 سے 1990تک ’’انڈین اکسپریس کے نمائندہ برائے بہار تھے۔1990 سے 2000 تک ہندی روزنامہ’’دینک جاگرن‘‘میں بیوروچیف برائے بہاراپنی خدمات انجام دیں۔2001 ء سے 2002 ء تک ہندی روزنامہ ’’آریہ ورت‘‘اور’’انڈین نیشن (انگریزی)سے منسلک رہے۔
ریاضؔ عظیم آبادی کے مزاج میں سیمابیت تھی۔اس لیے وہ کہیں مستقل طورپر نہیں رہے۔جہاں بھی اورذرابھی ان کی خودداری اورانا کو ٹھیس لگی اوراپنی پرواز میں انھیں رکاوٹ محسوس ہوئی انھو ںنے اس جگہ کو خیرباد کہہ دیا۔وہ ہرقیمت پر اپنی شرطوں پر جینے والے انسان تھے۔وہ ہمیشہ علامہ اقبالؔ کے اس شعر کے پیروکار رہے:
اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
ریاض عظیم آبادی نے 2007 ء میں اپنی ادارت میں پندرہ روزہ’’سیکولر محاـ ذ‘‘جاری کیا،جس کے وہ تادمِ آخرمدیر رہے۔’’سیکولرمحاذ‘‘ایک معیاری ،دل چسپ اورمعلوماتی اخبارثابت ہوا۔اس کے اداریے اورتجزیے بڑے چاؤ سے پڑھے گئے۔یہ پندرہ روزہ اخبارقارئین کے درمیان بے حد مقبول رہا۔
صحافت میں ریاض عظیم آبادی کا نقطۂ نظرمثبت اورتعمیری تھا۔وہ مخصوص مقاصدکے تحت مضامین اوراداریے لکھتے تھے۔انھو ںنے بہت دنوں تک ’’بے باک قلم‘‘کے عنوان سے روزنامہ’’پندار‘‘پٹنہ میں مستقل کالم لکھاجو کافی مقبول ہوا۔’’پندار‘‘کے علاوہ ان کے یہ کالم ملک کے تقریباً ایک درجن اخبارات میں بھی شائع ہوتے تھے۔شارق اجئے پوری اورسید مسعودالرب جیسے بزرگ اورکہنہ مشق صحافیوں کے انتقال کے بعد ادارہ روزنامہ’’پندار‘‘نے ریاض عظیم آبادی کی خدمات حاصل کیںاوراداریہ نویسی کی ذمہ داری انھیں سونپی۔ریاض عظیم آبادی نے اپنی تحریروں کے ذریعہ ملّت کی ترجمانی اوراردوکی وکالت کا ایماندارانہ فریضہ انجام دیا۔سالِ رواں 2021ء کے فروری ماہ میںجب امارت شرعیہ نے ’’ترغیبِ تعلیم اورتحفظ اردو‘‘کی تحریک شروع کی توانھوں نے متعدد دفعہ اس تحریک کی حمایت میں دل کھول کر اداریہ لکھا اورامیرشریعت مولانا محمد ولی رحمانیؒ کے اس قدم کی بھرپورستائش کی۔مئی 2020ء میں جب بہارکے محکمۂ تعلیم نے بہارکے ہائی اورہائر سکنڈری اسکولوں میںاردو کواختیاری مضمون کے خانہ میںرکھنے کا سرکلرجاری کیا تواس کے خلاف بھی انھوں نے کئی دفعہ زورداراداریہ تحریرفرمایا اورمحکمۂ تعلیم کے اس سرکلر کی زوردار مذمت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔حق گوئی اوربے باکی ریاض عظیم آبادی کا طرہّ امتیاز تھا۔انھو ںنے ہمیشہ سچ کو سچ اورجھوٹ کو جھوٹ ،سفید کو سفید اورسیاہ کو سیاہ کہنے میں کوئی پس وپیش نہیں کیا اورہمیشہ اس شعرکے مصداق رہے:
آئیں جواں مرداں حق گوئی وبے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

 

 

ریاض عظیم آبادی کو اپنی زبان’’اردو‘‘سے والہانہ محبت تھی۔چنانچہ موصوف اردو کے اساتذہ ،ادبا،شعرا،صحافی حتیٰ کہ اردو کے ا دنیٰ خادموں کو بھی قدرکی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ان کے کامو ںکی ستائش کرتے ،ان کا حوصلہ بڑھاتے اوراردوکا کام کرنے کے طریقے بتاتے۔راقم السطورسے بھی ریاض عظیم آبادی کے اچھے مراسم تھے۔میںان کی بے حد قدرکرتا تھا،وہ بھی مجھے عزیز رکھتے تھے اوراپنا چھوٹا بھائی سمجھتے تھے۔موصوف نے 1997 ء میںناچیز کی حقیر دعوت پر انجمن ترقی اردو ویشالی کے ایک سمینارمیں تشریف لاکر مجھے ممنون کیا تھا۔یہ موقع تھا’’آزادی کے پچاس سال اوراردو‘‘کے موضوع پر سمینارکے انعقاد کا۔28؍ستمبر1997 ء کو حاجی پورکے وکالت خانہ ہال میں منعقدہ اس سمینارکا افتتاح حاجی پورکے اردودوست ایس۔ڈی۔اوجناب عبدالرحمن سرور(سابق ڈائرکٹرراج بھاشا،اردوحکومت بہار)نے کیا تھا۔معروف ادیب وشاعر پروفیسرثوبان فاروقی (مرحوم)صدرشعبۂ اردوآر۔این۔کالج ،حاجی پورکی صدارت میں منعقدہ اس سمینارکے مہمان خصوصی بہارکے مشہورومعروف سیاست داں ڈاکٹرتنویرحسن(ایم۔ایل۔سی،بہار)تھے۔اس موقع پر ناموردانشور،ادیب اوراردوتحریک کے مردِمجاہدپروفیسرڈاکٹر قمراعظم ہاشمی (مرحوم)،ڈاکٹر ممتاز احمد خاں(مرحوم)ریڈرشعبۂ اردوبہاریونیورسٹی،مظفرپور،معروف عالم دین مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی اورجواں سال صحافی سید شباب انورکے ساتھ ریاض عظیم آبادی نے بھی بطورخاص سمینارکو خطاب کیا تھا۔اپنے موضوع کے اعتبار سے ریاست کایہ پہلا سمینارتھا جومحبّان ِ اردو کی خوداحتسابی کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ریاض عظیم آبادی نے اس موقع سے اپنے ولولہ انگیز خطاب میںاردو کی اہمیت اورافادیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایک پتے کی بات کہی تھی:
’’آزادی کے پچاس سال بعد بھی یہ ملک اگرسیکولر ہے تویہ اردوکی دین ہے۔ہندوستان میں اگراردو نہ ہوتی تو سیکولرطاقتیں اتنی مضبوط نہ ہوتیں۔مسلمانوں کا یہ ملک پر احسان ہے کہ انھو ںنے اردوکو گلے لگایا جس کی وجہ سے ملک میں سیکولرزم اورقومی یک جہتی برقرار ہے۔‘‘
(انجمن ترقی اردو،ویشالی کی خدمات:مؤلفہ۔انوارالحسن وسطوی۔ص:70)
بہارکے سرکاری اسکولوں میں اردودرس وتدریس کی صورتِ حال اوراردو کی نصابی کتابوں کی عدم دستیابی پر اپنی برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا:
’’جان بوجھ کر اردوکی کتابیں نصف سال گزرجانے کے بعد شائع کی جاتی ہیں۔اس وقت تک بچے ہندی میںکتابیں خرید چکے ہوتے ہیں۔یہ اردو کے ساتھ کھلی سازش ہے،جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘‘
(ایضاً۔ص:70)
ریاض عظیم آبادی کا اصل نام سیدریاض الدین تھالیکن وہ قلمی نام ریاض عظیم آبادی سے مشہورہوئے۔ان کے والد کا نام سید شاہ ضیاء الدین تھا۔موصوف کے دادا سید شاہ علیم الدین پانسگھارا(ضلع پٹنہ)کے زمیندارتھے اورخانوادے کا سلسلہ مشہورصوفی حضرت نوشہ توحیدبلخی(بہارشریف)سے ملتا ہے۔تعلیمی سند کے مطابق ریاض عظیم آبادی کی پیدائش 4؍جنوری 1951 ء کو پٹنہ میں ہوئی۔انھو ں نے موہن رائے سمینری اسکول،پٹنہ سے 1967 ء میں ہائر سکنڈری کا امتحان پاس کیا۔بعدہٗ اورینٹل کالج،پٹنہ سیٹی سے بی۔اے آنرز(اردو)کا امتحان پاس کرکے پٹنہ یونیورسٹی کے ایم۔اے (اردو)درجہ میں داخلہ لیا۔مگرامتحان میں شریک نہیں ہوسکے۔لیکن پٹنہ یونیورسٹی سے ہی ایل۔ایل۔بی کی ڈگری حاصل کی اورکچھ دنوں تک کورٹ میں پریکٹس بھی کی۔ان کی دوشادیاں ہوئیں۔پہلی اہلیہ سے دوبیٹے اوردوبیٹیاں پیداہوئیں۔دوسری اہلیہ سے ایک بیٹا اورایک بیٹی ہے۔مرحوم ریاض عظیم آبادی نے زندگی کی کل 70 بہاریں دیکھیں۔16؍اپریل 2021 ء کو تقریباً 9؍بجے شب میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کی رہائش گاہ’’نورانی باغ‘‘عالم گنج پٹنہ میں ان کا انتقال ہوا۔ان کی نمازِ جنازہ17؍اپریل 2021 ء کو ’’سڈنی گراؤنڈ‘‘نورانی باغ ،عالم گنج میںاداکی گئی جس کی امامت مسجدعبدالقدیر،عالم گنج کے امام وخطیب مولانا دستگیر ندوی نے پڑھائی۔انھیں متھنی قبرستان،عالم گنج (پٹنہ)میں سپُردِ خاک کیا گیا۔واضح ہوکہ ریاض عظیم آبادی نے انتقال سے کئی روز قبل’’کورونا‘‘سے بچاؤ کے لیے ’’کوویڈ۔19‘‘کا ٹیکہ لیا تھا۔

 

 

ریاض عظیم آبادی اپنی زندگی کی آخری دہائی میں مذہب کی جانب زیادہ متوجہ ہوگئے تھے۔ان کا چہرہ باریش اوربارونق ہوگیا تھا۔نہ صرف شکل وصورت بلکہ ان کی گفتگو اورتحریروں سے بھی ان کی اسلام پسندی ظاہرہوتی تھی۔وہ اسلامی روایات اوراقدارکے زبردست حمایتی اوروکیل تھے۔اسلام کے خلاف وہ کچھ بھی سننے اوربرداشت کرنے کوتیارنہیں تھے۔اسلام مخالف اورمسلم مخالف طاقتوں کو انھوں نے ہمیشہ اپنی دھاردار تحریروں کے ذریعہ نشانہ بنایا۔ان کی ایسی تحریریں پڑھ کر مولانا محمد علی جوہرؔ اورمولانا حسرت ؔموہانی کی تحریروں کی یادتازہ ہوجاتی تھی۔حق وباطل کی کشمکش میں انھوںنے ہمیشہ اورببانگ دہل حق کا ساتھ دیااورباطل کی مذمت کی۔بہارکی اردوتحریک میں انھوں نے دورانِ طالب علمی سے ہی حصہ لیا اورالحاج غلام سرور،مولانا بیتاب صدیقی،پروفیسرعبدالمغنی اورپروفیسرقمراعظم ہاشمی جیسے مجاہدینِ اردو کے ساتھ مل کراردوکے حقوق کی لڑائی لڑی۔سابق امیرشریعت حضرت مولانا محمدولی رحمانیؒ نے بہار میں اردو تحریک کو فعال اورمؤثربنانے کے لیے جب تحریک کی شروعات کی توریاض عظیم آبادی نے اپنی تحریروں کے ذریعہ اس تحریک کی زوردارتائید کی جس کا ذکر قبل آچکا ہے۔ریاض عظیم آبادی نے حضرت امیرشریعت کی تحریک پر14؍فروری 2021 ء کو پھلواری شریف،پٹنہ میںمنعقدہ خصوصی مشاورتی اجلاس میں بھی شرکت کی اوراردوکے فروغ وبقا اوراس کے تحفظ کے تعلق سے کئی کارآمدتجاویز بھی پیش کیں۔انھو ںنے امیرشریعت مرحوم کے ذریعہ قائم کردہ ’’اردوکارواں‘‘تنظیم کا بھی خیرمقدم کیااوراسے اپنا بھرپورتعاون دینے کا یقین دلایا۔ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا،جناب شمائل نبی اورجناب طارق انورجیسے قدآورسیاست دانوں سے گہرے مراسم ہونے کے باوجود انھو ںنے کبھی بھی کانگریس پارٹی کی رکنیت حاصل کرنے میں کوئی دل چسپی نہیں دکھائی۔سماجوادی پارٹی ہونے کا دعویٰ کرنے والی کسی سیاسی جماعت سے بھی انھوں نے کبھی کوئی وابستگی نہیں رکھی۔انھو ںنے کبھی بھی سیاسی گلیارے کی خاک نہیں چھانی ۔سی پی آئی سے علیحدگی کے بعد انھوں نے ہمیشہ خودکو سیاست کی وادی سے دورہی رکھا۔لیکن صحافت ہمیشہ ان کے حرزِ جاں رہی۔صحافت توان کی گٹھی میں پڑی تھی۔لہذا صحافت سے ان کا رشتہ تادمِ مرگ برقراررہا۔حتیٰ کہ انتقال سے ایک روز قبل (15؍اپریل2021ء)روزنامہ ’’پندار‘‘کا اداریہ بھی ان کا تحریرکردہ تھا۔’’اداریہ‘‘کے صورت میں ان کی یہ تحریرآخری تحریرثابت ہوئی۔
ریاض عظیم آبادی کی صحافتی خدمات نہایت وقیع اوراہم ہیں،جس کے اعتراف میں2016 ء میں بہاراردواکادمی،پٹنہ کے ذریعہ انھیں غلام سرورصحافتی ایوارڈسے سرفراز کیا گیا۔پھر2018 ء میں شعبۂ اردوپٹنہ یونیورسٹی کی جانب سے بھی ان کی پچاس سالہ صحافتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں سنداوراعزاز سے نوازاگیا۔علاوہ اس کے ان کے قارئین اوران کے مدّاحوں کے ذریعہ انھیں جو پیارومحبت ملی اس کا تواندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کی رحلت سے ملّت نے اپنا ایک مضبوط وکیل اوراردوصحافت نے ایک بے باک صحافی کھودیا ہے،جس کی تلافی مستقبل قریب میں ہوتی نظرنہیں آتی ۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ملّت کو اوراردووالوں کو ان کا بدل عطافرمائے اوران کی خطاؤں سے درگذرفرماکر انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب کرے:
آئے عشاق،گئے وعدۂ فردالے کر
اب انھیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر