ریورس پولرائزیشن: ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آجاتے ہیں-ڈاکٹر عابد الرحمن

( چاندور بسوہ)
dr.abidurrehman@gmail.com

موجودہ حالات میں ملک کی سیاسی مساوات اور صف بندیوں میں جو تبدیلی آئی ہے اور جس طرح مسلم مخالف سیاسی پارٹیاں اور ان کے سیاسی حریف ایک ہی رنگ میں رنگتے جارہے ہیں اس سے ملک میں ’ مسلم سیاست ‘ کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہو رہی ہے ۔ ملک کا حال یہ کردیا گیا ہے کہ پوری اکثریت اپنی ذات پات اور اونچ نیچ کے بھید بھاؤ کے ساتھ ہمارے خلاف ایک ہو گئی ہے۔ ملک کی پوری کی پوری سیاست اور تقریباً ہر پارٹی کی سیاست کا دارو مدار مسلم مخالفت پر ہی ہوگیا ہے ۔ کچھ پارٹیاں کھلم کھلا مسلم مخالفت کی سیاست کرتی ہیں کچھ یہی سیاست درپردہ کرتی ہیں اور کچھ پارٹیاں اس اشو پر مکمل چپی سادھے یہی کرتی ہیں ۔ ملک کی سبھی پارٹیاں ہندوتوا سیاست میں کسی نہ کسی طور پر شامل ہیں۔ ملک کی اسی فیصد اکثریت کے دل و دماغ میںمسلم منافرت اس شدت سے بھر دی گئی ہے کہ وہ اس میں نہ صرف سلگتے ہوئے زمینی مسائل کی پروا نہیں کرتے بلکہ مسلم منافرت کے مقابلے ان مسائل کی بات کرنے والوں کو بھی مسلمانوں کے حامی ، ہندو مخالف ،دھرم مخالف اور ملک مخالف سمجھتے ہیں ۔ بہت کم لوگ ہیں جو سیاسی پارٹیوں کے اس دام فریب میں نہیں آئے لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک سے زیادہ نہیں ۔آزادی کے بعد سے ہم نے سیکولرازم کے نام کئی سیاسی پارٹیوں کی غیر مشروط حمایت کی اور انہوں نے اپنے جعلی سیکولرازم کے ذریعہ ہمارے خلاف اشتعال انگیزی کرنے والی طاقتوں کو در پردہ بڑھا وا دیا اور ہما رے گرد ان کے خوف کا حصار کھینچ کر ہماری سیاسی بصیرتوں کو قید کئے رکھا ،اور ہم بھی ان طاقتوں کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے جعلی سیکولر وں کو ووٹ دینا اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے رہے ۔
ان طاقتوں کو روکنے کے چکر میں ہم نے کبھی اپنی سیاست یا سیاسی حصہ داری کے متعلق سوچا تک نہیں اور بدلے میں یہ ہمیں مسلسل حاشیہ پر لگاتے رہے اور اب جبکہ مسلم مخالف قوتوں کو عروج حاصل ہو چکا ہے تو سیکولرازم کے یہ نام نہاد علمبردار ہمارا نام بھی لینے سے ڈرنے لگے ہیں یعنی اب ہم سیاسی حاشیہ سے بھی دھکیل دئے گئے ہیں ۔ ویسے اب ملک میں سیکولرازم نام کو بھی باقی نہیں رہا پہلے جو اسے سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھااب وہ بھی جرم ہوگیا ، اب ملک کی سیاست یک رنگی ہو گئی ہے ، اور ہم ولن بنا دئے گئے ہیں جو کوئی ہماری بات کرے گا وہ ولن ٹھہرایا جا ئے گا ،ہندو مخالف سے لے کر ملک مخالف تک قرار دیا جائے گا ۔اس لئے اب ہمارے خلاف اشتعال انگیزی کرنے والوں کے سیاسی حریف بھی ہمارا نام لیتے ہوئے ڈر رہے ہیں ۔ اب سیاسی پارٹیاں سیکولرازم کا رسک نہیں لیتیں بلکہ سیکولر ازم کو اپنی پہچان بتانے والے لوگ بھی کھلم کھلا مسلم مخالفت کرنے والی سیاسی قوتوں سے اتحاد کر رہے ہیں ۔ ایسے میں ہم کیا کریں یہ بہت بڑا سوال ہے؟اب ضروری ہے کہ ہم اپنی سیاست کریں ۔لیکن پہلے ہمیں اپنی سیاسی ترجیحات طے کرنی ہوں گی اور ہم سمجھتے ہیں ابھی اپنی سیاست کے نام یا اپنی سیاسی پارٹی کے نام چند سیٹیں جیتنا ہماری ترجیح نہیں ہو نی چاہئے بلکہ ملکی سیاست میں متناسب حصہ داری حاصل کرنا ہماری پہلی ترجیح اور ملک کی سیاست میں مسلم منافرت گھولنے والے اور ہم پر ظلم کرنے والے عناصر کو جیتنے نہ دینا ہماری دوسری ترجیح ہونی چاہئے ۔ملک میں کئی حلقہ ہائے انتخاب ایسے ہیں جہاں ہم الیکشن ریزلٹس کو متاثر کر سکتے ہیں اگر خود نہیں جیت سکتے تو اپنے مخالفین کوجیتنے سے ضرور روک سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ہمیں سیاسی طور پر متحد ہو نا ہوگا ، کہیں ہمیں یہ کام ہماری اپنی سیاسی پارٹی کے ذریعہ کرنا ہو گا کہیں دوسری موافق پارٹیوں سے سودے بازی کے ذریعہ کرنا ہوگا ۔ہر جگہ ہم اپنی پارٹی بنا کر یہ کام نہیں کرسکتے ،اپنی پارٹی اور جارحانہ سیاست کے ذریعہ ہم وہی سیٹیں جیت سکتے ہیں جو دوسری پارٹیوں کے ٹکٹ سے ہم پہلے ہی سے جیتتے آرہے ہیں، لیکن اس میں ہمارے ووٹوں کی تقسیم اگر ہوئی تو ہمیں ان سیٹوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں ،یہ نکتہ بھی ہماری اسٹریٹیجی میں شامل رہنا چاہئے ۔ہمارے مخالفین کی سیاست کا دارومدار مسلم منافرت اور مخالفت پر ہے ۔اس سے ان کا مقصد پولرائزیشن کے ساتھ ساتھ ریورس پولرائزیشن بھی ہوتا ہے ۔
یعنی ایک تو وہ چاہتے ہیں کہ ان کا روایتی ہندو ووٹ بنک مضبوط و مستحکم ہو ۔ دوسرے مسلمان بھی ان کے خلاف متحد ہوجائیں اور اس کا اظہار بھی کریںاور ان کے سیاسی حریفوں کی حمایت کا اعلان بھی ۔ تاکہ ردعمل کے طور پر ان کا ووٹ بنک بھی مزید متحرک ہو اور وہ ہندو بھی ان کے دام فریب میں آکر ان کی طرف مائل ہوں جو ان کا ووٹ بنک نہیں ہیںاسی طرح مسلمان جن کی حمایت کا شور کریں اسے مسلمانوں کے حامی اور ہندو مخالف سمجھ کر ہندو ان سے دور ہوجائیں لیکن اگر ہم مسلمانوں میں سے کوئی اٹھے اور اسی لہجے میں بات کرے جس لہجے میں یہ کرتے ہیںیا کم از کم ہمارے حقوق کی بات جارحانہ طورسے کرے تو ان کا کام مزید آسان ہو جاتا ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کچھ مسلمان لیڈرہر چھوٹے بڑے اشو پر مسلسل یہی کرتے رہیں تاکہ ردعمل کے طور پراکثریت کے وہ لوگ بھی مسلمانوں کو خطرہ سمجھنے لگیں جو ابھی تک ان مسلم مخالف طاقتوں کے دام فریب میں نہیں آئے ،جو اب بھی زمینی مسائل کو مذہب اور ہندو مسلم منافرت پر مقدم رکھتے ہیں یا جو ان سیاسی طاقتوں کے مخالفین کے روایتی ووٹرس ہیں ۔ اگر ہم غور کریں تو ان دنوں یہی کچھ ہوتا نظر آ رہا ہے ہماری سیاست بالراست ہمارے دشمنوں ہی کی اعانت کرتی نظر آرہی ہے ، ہمارے مخالفین اکثریت کو جس قوت سے براہ راست متحد اور اپنی طرف متحرک کر رہے ہیں ہم بھی اسی قوت سے انہی کے حق میں یہی کام کرتے نظر آرہے ہیں ۔ہمارا سارا زور اس پر ہوتا ہے کہ ہم ہماری دشمن پارٹیوں کے مخالفین کے ووٹ نہیں کاٹ رہے ہیں لیکن یہ اہم نہیں ہے ،اہم یہ ہے کہ ہماری سیاست اکثریت کو ہمارے مخالفین کی طرف کس قدر راغب اور متحرک کر رہی ہے ۔ ہماری سیاست کو اس پہلو پر بہت زیادہ دھیان دینے اور اسے اچھی طرح مینج کر نے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی سیاست کے نام پر مسلم اکثریتی علاقوں کی چند سیٹیں جیت گئے اور ردعمل کے طورپر اکثریت کی بہت بڑی تعداد ہمارے مخالفین کی طرف ریورس پولرائز ہوگئی تو یہ ہماری شکست فاش ہوگی ۔