ریزرویشن پر 50فیصد حد کی یاد دلاتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکومتوں کودیابڑاپیغام

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے ریزرویشن سے متعلق متعدد بار اہم تبصرے کئے ہیں۔ حال ہی میں مراٹھا ریزرویشن سے متعلق سماعت کے دوران، عدالت عظمیٰ نے ریاستوں کو ریزرویشن کے بارے میں ایک بڑا پیغام دیا ہے۔ 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشن جائز نہیں بتاتے ہوئے سپریم کورٹ نے ریاستوں کو ان کی حدود یاد دلادی ہے۔ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس پر روک لگاتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ ریزرویشن سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات (ایس ای بی سی) ایکٹ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو ایک بڑی بنچ کے سپرد کیا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مراٹھا ریزرویشن کے بارے میں تھا، لیکن اس حکم کے بعد اب ان ریاستوں میں تناؤ ہے جس نے 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشن دیا ہے۔ 1991 میں حکومت بمقابلہ اندرا سوہنی کیس کی سماعت کے دوران، 11 ججوں پر مشتمل بنچ نے واضح کیا تھا کہ کسی بھی معاملے میں 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشن نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود بہت سی ریاستوں میں 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشن دیا گیا تھا۔