معروف اسکالر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر شعبۂ عربی پروفیسر خالد حامدی کا انتقال

نئی دہلی:ذرائع کے مطابق معروف عربی و مذہبی اسکالر، متعدد کتابوں کے مصنف اورماہنامہ ’اللہ کی پکار‘ کے مدیر پروفیسر خالد حامدی کا چند گھنٹے قبل ابوالفضل، اوکھلا کے ایک مقامی اسپتال میں انتقال ہوگیا۔
آج صبح جب وہ کسی کام سے باہر جا رہے تھے، پارکنگ میں گر گئے اور چند گھنٹوں کے اندر اندر ایک مقامی ہسپتال میں دم توڑ گئے جہاں انھیں فوری طور پر لے جایا گیا تھا۔ وہ 1956 میں رام پور میں مولانا سید حامد علی کے ہاں پیدا ہوئے، جو ایک مشہور مصنف اور جماعت اسلامی (ہند) کے رہنما تھے، پروفیسر حامدی اوکھلا اور جامعہ کے حلقے میں ایک جانا پہچانا چہرہ تھے۔ وہ سال ڈیڑھ سال قبل ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ عربی سے ریٹائر ہوئے تھے، وہ اس شعبے کے سربراہ بھی رہے تھے۔ پروفیسر حامدی کی تعلیم جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ سے ہوئی ،جہاں سے انھوں نے عالمیت اور فضیلت کی، اس کے بعد وہ جامعہ آگئے اور یہاں سے 1979 میں بی اے اور 1981 میں ایم اے کیا۔ وہ جامعہ میں گولڈ میڈلسٹ تھے۔ ان کی پی ایچ ڈی علم حدیث کے فروغ میں ہندوستان کے کردار کے موضوع پر چھ جلدوں میں ہے۔ انہوں نے 1993 میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، 1981 میں ہی وہ جامعہ سے بطور لیکچرر وابستہ ہوگئے۔ وہ ایک مشہور مصنف اور خطیب بھی تھے۔ انہوں نے تقریباً 20 کتابیں لکھیں اور ہر ہفتہ اور اتوار کو اپنی ابوالفضل رہائش گاہ پر درس قرآن دیا کرتے تھے۔ کئی سالوں سے وہ اپنا رسالہ’’ اللہ کی پکار‘‘ شائع کرتے رہے جس میں وہ مختلف سماجی،سیاسی و مذہبی موضوعات پر اپنے خیالات و افکار کا بے لاگ انداز میں اظہار کرتے تھے۔ کئی اہم امور میں ان کی رائے جمہور مسلمانوں سے مختلف ہوتی تھی۔