ریختہ روزن کے دو شمارے ـ شکیل رشید

ریختہ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام ، ہما خلیل صاحبہ کی ادارت میں نکلنے والے ادبی پرچے ’’ ریختہ روزن ‘‘ کا شمارہ نمبر۲ ، ا بھی زیرِ مطالعہ ہی تھا کہ شمارہ نمبر ۳ ، آ گیا ! ایک خوشگوار حیرت ہوئی ۔ حیرت اس لیے کہ اردو زبان کا ایک پرچہ پابندی کے ساتھ نکل رہا ہے ۔ اکثر ایسا نہیں ہوتا ، اور اس کی جائز وجوہ بھی ہیں ۔ اور خوشگوار اس لیے کہ وہ تحریریں جو پہلے نہیں پڑھی ہیں پڑھنے کو مل جائیں گی ۔ پہلے شمارے پر بات کرتے ہوئے میں نے اس پرچےکی اس ایک خوبی کا بطور خاص ذکر کیا تھا ، کہ یہ پرچہ ماضی کی ان تحریروں کو ، جو بہت سارے قارئین کی نظروں سے نہیں گزری ہیں ، تلاش کر کے پیش کر رہا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ اس میں صرف پرانی تحریریں ہی ہیں ، اس میں نئی تحریریں بھی ہیں ، لیکن اس پرچے کا بنیادی وصف پرانے ذخیروں سے کھنگال کر نکالی گئی تحریریں ہی ہیں ۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا واحد پرچہ ہے ، کیونکہ دوسرے پرچے نہ پرانی تحریروں کو پیش کرنے کی کوئی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی پرانے ذخیروں کو کھنگالنے کی ۔ اس پرچے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کی ہر تحریر ، چاہے وہ پرانی ہی تحریر کیوں نہ ہو ، اپنے دور کے تقاضوں سے آنکھیں نہیں موندتی ۔ شمارہ نمبر ۲ ، کے اداریے میں ہما خلیل صاحبہ نے اس تعلق سے بہت ہی اچھی بات لکھی ہے ،’’ دراصل کوئی بھی چیز فی نفسہ نئی نہیں ہوتی ، لیکن اس سے پیدا ہونے والے خیالات اور احساسات بہرحال ہر دور میں نئے ضرور ہوتے ہیں ، اور یہی جذبہ ہر نئے عمل کے لیے حوصلہ بخش بھی ہے ۔‘‘ وہ مزید لکھتی ہیں ،’’ ادب میں نیا اور پرانا تو بس فکر و نظر کی بات ہے ۔ آج ہمارے بیچ میں رہنے والے کچھ شخص ہمیں پچھلی صدی کے معلوم ہوتے ہیں اور کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو اپنے خیالات کی بنا پر ہمیں اگلی دنیا کے معلوم ہوتے ہیں ۔ بہرحال مجموعی طور پر تخلیقی کارروائی اپنے دور کے تقاضوں کی عکاسی کرتی ہے ۔ ادب دریا کے بہتے ہوئے دھارے کی طرح ہے ، جو کسی مقام پر ایک جیسا نہیں رہ سکتا ۔‘‘ ہما خلیل صاحبہ کا یہ اداریہ اُس’ بحث ‘کے لیے ، جس کا تقاضا ’ریختہ روزن ‘ سے کیا جا رہا ہے ، دروازے وا کرتا ہے ۔ کیوں نہ ’ نئے اور پُرانے ‘ کی بحث کو نئے سرے سے شروع کیا جائے ؟ اس شمارے کا آغاز جوش ملیح آبادی کی ایک نظم ’ دریا کا موڑ ، نغمۂ شیریں کا زیر و بم ‘ سے ہوتا ہے ۔ کیا خوبصورت نظم ہے ! الفاظ جیسے شاعر کے قلم سے ابل رہے ہوں ۔ اردو کے عنوان سے انجم اعظمی کی ایک نظم بھی اس شمارہ میں شامل ہے ۔ انجم اعظمی تقسیم ملک کے بعد کراچی چلے گئے تھے ،وہیں ۱۹۹۰ء میں ان کا انتقال ہوا ۔ ’ کہانیاں نئی پرانی ‘ کے تحت سات کہانیاں ہیں ، ان میں رشید جہاں کی کہانی ’’ شیلا ‘‘ بھی شامل ہے ۔ رشید جہاں ترقی پسند ادب کے ستونوں میں سے ایک تھیں ۔ ترقی پسند ادب کے سرخیل سجاد ظہیر کی ادارت میں شائع ہونے اور شائع ہوکر متنازعہ قرار پانے والے افسانوی مجموعے ’ انگارے ‘ میں ان کے تین افسانے شامل تھے ، جن میں معاشرتی ، نفسیاتی اور جنسی رویوں پر گہرا طنز تھا ،’’ شیلا ‘‘ بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے ، اسے ’ نیا ادب‘ کے ۱۹۴۰ء کے شمارہ سے حاصل کیا گیا ہے ۔ کہانیوں میں خواجہ احمد عباس کی ’’ کالی گھٹا‘‘ ، خدیجہ مستور کی ’’ خرمن‘‘، ریاض پنجابی کی ’’ لمحوں کی صلیب‘‘ ، شاندار ہیں ۔ اولالذکر دونوں کہانیاں پہلے پڑھی تھیں لیکن دوبارہ پڑھنے کے بعد ان کے معنیٰ کی کچھ نئی پرتیں کھلی ہیں ۔ ممبئی کےسینئر افسانہ نگار عبدالعزیز خان کی ’’ کالے بادل ‘‘ ،چھوٹے چھوٹے جملوں اور مکالموں میں لکھی گئی ایک ایسی کہانی ہے جو ، سروگیسی ، تالا بندی ، شراب نوشی اور بیکار پڑے شوہر کے حوالے سے ، آج کے متوسط طبقے کے درد و الم اور مسائل کو بیان کرتی ہے ۔ عبدالعزیز خان ایک اچھے افسانہ نگار ہیں ، یہ افسانہ لوگ پسند کریں گے ۔ دو افسانے آج کے لکھنے والوں بلکہ لکھنےوالیوں کے ہیں ، ایک ہیں پاکستان کی افسانہ نگار ثمینہ نذیر ، جن کا افسانوی مجموعہ ’’ کلو ‘‘ ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ہے ۔ اس شمارہ میں ان کا افسانہ ’’ رجّو ‘‘ ہے ، یہ ایک اچھا افسانہ ہے ۔ دوسری لکھنے والی ہیں فائزہ عباسی ، یہ مدرس ہیں اور ماحولیات و علمِ قدرت ان کے خاص موضوعات ہیں ، اپنے افسانوں میں وہ اسی حوالے سے ، خواتین کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیتی ہیں ، ان کا افسانہ’’ کوئلے کی کرکری ‘‘ دلچسپ ہے ۔ منتخب غزلوں اور نظموں کے علاوہ اس شمارہ میں طنز و مزاح کا بھی بہترین انتخاب ہے ۔ اکبر الہ آبادی پر ایک گوشہ بھی ہے جس میں مرحوم شمس الرحمن فاروقی کا مضمون ’’ اکبر الہ آبادی: نوآبادیاتی نظام اور عہدِ حاضر ‘‘ شامل ہے ۔ اس مضمون کے مشمولات پر اسیم کاویانی نے اپنی نئی کتاب ’’ اکبر الہ آبادی اپنی شکست کی آواز‘‘ میں سخت تنقید کی ہے ۔ تین تراجم بھی شامل ہیں ، ایک ترجمہ اسرارالحق مجازؔ کا کیا ہوا ہے ،’’ وہ لڑکا ‘‘ ، یہ میکسم گورکی کے افسانے کا رواں ترجمہ ہے ، اسے۱۹۴۰ء کے ’ نیا ادب‘ سے لیا گیا ہے ۔ اس شمارہ میں اور بھی بہت کچھ ہے ، جیسے کہ شمس الرحمٰن فاروقی کا انٹرویو ’’ نقاد اور شاعر کے مابین مکالمہ ‘‘ ، پریم کمار نظر نے یہ انٹرویو کیا ہے ۔ مزید ایک انٹرویو ساقی فاروقی کا ہے ’’ ساری قوم جذباتی زبان کو پسند کرتی ہے ‘‘، یہ انٹرویو افتخار عارف نے کیا ہے ۔ مرحوم شمیم حنفی پر خالد جاوید کی ’’ ایک غیر رسمی تعزیتی تحریر ‘‘ ہے جو ایک نثری نوحہ ہے ۔ پریم چند ، جگر مرادآبادی ، محی الدین قادری زور ، خواجہ احمد فاروقی اور جمیل الدین عالی کے غیر مطبوعہ خطوط پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے ادیبوں کے خطوط سےبہت کچھ سیکھا اور حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ کچھ دلچسپ قصے ہیں ، جیسے حمید اختر کا لکھا ہوا ’’ ساحر پر مجروح کا الزام،حقیقت کیا ہے؟ ۔‘‘ اس شمارہ میں ’ ضبط شدہ ادب ‘ کے سلسلے کے تحت احمد علی کی کہانی ’’ مہاوٹوں کی ایک رات ‘‘ پڑھنے کو ملی ، یہ کہانی پہلے نہ پڑھی تھی نہ ہی یہ نظر سے گزری تھی ، یہ شاندار کہانی ہے ۔ یہ ایک اچھا سلسلہ ہے ۔ اس شمارہ میں نایاب تصاویر بھی ہیں ، ان ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں کی اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں ۔

شمارہ نمبر ۳ ، پر زیادہ بات ممکن نہیں ہے کہ ابھی اسے دیکھنا شروع ہی کیا ہے ، لیکن اس کا ایک مختصر تعارف کرا دیتا ہوں ۔ شرون کمار ورما ، سریندر پرکاش ، سید رفیق حسین ، نعیم بیگ ، خورشید اکرم ، رفاقت حیات اور جیم عباسی ( فہرست میں عباس لکھا ہے جو درست نہیں ہے ) کی کہانیاں ہیں ۔ تراجم میں آسکر وائلڈ کی کہانی کا محمد حامد ضیا کا کیا ہواترجمہ ’’ سرخ گلاب ‘‘ کے عنوان سے ہے ، اور ڈوم موریس کی انگریزی نظموں کے شمع افروز صاحبہ کے کیے تراجم ہیں ۔ اس شمارہ میں انتظار حسین کا انٹرویو طاہر مسعود کے ساتھ اور محمد علوی کا انٹرویو ٖفرحان حنیف کے ساتھ ہے ، دونوں ہی انٹرویو اعلیٰ ہیں ۔ پریم چند کی ضبط شدہ کہانی ’’ دنیا کا سب سے انمول رتن ‘‘، اور سلام مچھلی شہری کی ضبط شدہ نظم ’’ مجبوریاں ‘‘ اس شمارے میں چار چاند لگاتی ہیں ۔ ہما خلیل صاحبہ کا اداریہ سابقہ اداریے کی بات کو آگے بڑھاتا ہے ، وہ لکھتی ہیں ،’’ ماضی اور حال ، نیا اور پرانا ، روایت اور بغاوت ہمیشہ سے ایک ساتھ ایک ہی دنیا میں پروان چڑھے ہیں ۔ زندگی مسلسل آگے بڑھتی رہتی ہے ۔ خیال اور فکر میں تبدیلی ایک فطری عمل ہے ۔ تغیر کے بغیر کائنات کا تصور ممکن نہیں ۔ ادب چونکہ زندگی کا آئینہ دار ہے لہٰذا ادب میں بھی نئے اور پرانے رجحانات وقت کے ساتھ ساتھ آتے ر ہیں گے ۔‘‘ اپنے اداریوں سے ہما خلیل صاحبہ ایک مکالمہ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ یہ ایک ادبی پرچے کے لیے اچھی بات ہے ، لوگوں کو اس مکالمے میں شریک ہونا چاہیے ۔ یہ پرچہ ، ریختہ فاؤنڈیشن ، بی- 37 ، سیکٹر-1 نوئڈا ، اتر پردیش -201301 سے منگوایا جا سکتا ہے ، ایک شمارہ 250 روپیے کا ہے اور سالانہ خریداری کی شرح 800 روپیے ہے ۔ ادب کے قارئین کے لیے ’’ ریختہ روزن ‘‘ کا مطالعہ لازمی ہے ۔