20 C
نئی دہلی
Image default
مباحثہ

ریڈیکل سیکولرزم اور اسلاموفوبک لبرلزم کے نرغے میں مسلمانان ہند!

 

امام الدین علیگ

سی اے اے اور این آر سی کے خلاف جاری اس تحریک کی شروعات کرنے والے کوئی اور نہیں لاالہ الا اللہ والے ہی تھے۔ ورنہ لبرلز اور سیکولرز تو زبان کھولنے کے بھی خلاف تھے۔ کیونکہ اُنہیں لگتا تھا کہ مسلمانوں کے زبان کھولنے اور احتجاج کرنے سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ یہ الگ بات ہے بعد میں انہیں اسلاموفوبک لبرلوں نے تحریک کو ہائی جیک کرکے اپنے ریڈیکل نظریے کو تھوپتے ہوئے لا الہ والوں کا ہی ایکسكلوزن کر دیا۔ سیکولر ملا حضرات کو نہیں معلوم کہ وہ مصلحت اور مصالحت کہ نام پر جس چیز کی وکالت کر رہے ہیں وہ ریڈیکل سیکولرزم اور اسلاموفوبک لبرلزم ہے۔

ان مبینہ سیکولرز کو لگتا ہے کہ صرف وہی فراست، بصیرت اور بصارت سے آشنا ہیں! جبکہ یہ تک نہیں معلوم کہ فراست اور بصیرت کسی بھی فیصلے کے طویل مدتی اثرات دور رس نتائج کی فہم و ادراک کو کہتے ہیں، فوری اثرات کو سمجھنے کو نہیں۔

اسلامی نعروں پر پابندی لگا کر پوری قوم کو جو ریڈیکل سیکولرزم کی گھٹی پلائی جا رہی ہے، اسکے طویل مدتی اثرات کو سمجھنے سے ان کی نظر قاصر ہے۔ یہ صرف اس فوری اثر کو دیکھ رہے ہیں کہ اسلامی رنگ سے ریڈیکل سیکولرز اور کمیونلزم کی طرف مائل لوگ (جن کی تعداد احتجاجیوں میں 1 فیصد بھی نہیں) ہم سے چھٹ جائیں گے! یا وہ صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ سرکار اور بی جے پی اسے ہندو۔مسلم کا معاملہ بنا کر انتخابی فائدہ اٹھا لےگی! یہ ان نام نہاد سیکولروں کی سمجھ ہے جسے یہ فراست اور بصیرت قرار دیتے ہیں! جبکہ یہ سبھی کنکلوزن فوری اثرات پر مبنی ہیں اور مکمل طور پر درست بھی نہیں ہیں۔ اسکے برعکس 20 کروڑ مسلمانوں میں دینی حمیت کو جگا کر ایک بڑی تعداد کو سڑکوں پر اُتار دیا جائے تب بھی یہ ریڈیکل سیکولرز بھیڑ کو دیکھ کر کہیں نہیں جانے والے، اگر کروڑوں یا لاکھوں مسلمان سڑکوں پر آئے تو اُن کے نعروں کی کسے پرواہ ہوگی؟ دیگر کمیونیٹیز صرف بھیڑ کی تعداد دیکھ کر ہی آپ کے پیچھے ہو لیں گی، اور آج بھی شہریت کے ایشو پر جو ہمارے ساتھ آئے ہیں وہ صرف مسلمانوں کی بھیڑ، اس معاملے پر اُنکے اتحاد و اتفاق رائے کو دیکھ کر ہی ساتھ دے رہے ہیں، وہ یہ سوچ کر بالکل بھی ساتھ نہیں آئے ہیں کہ مسانوں نے نعرہ تکبیر کا ایکسکلوزن کر رکھا ہے۔رہی پولیٹیکل پارٹیوں اور نیتاؤں کی بات تو وہ ہوتے ہی ہیں بھیڑ کے بھوکے۔ ان سب باتوں کے علاوہ اگر مسلمان چاہیں تو اپنی اس تحریک کے ذریعے اسلاموفوبک لوگوں کی سوچ کا زاویہ درست کرکے، اسلامی نعروں اور علامتوں کے تئیں لوگوں کی الرجی کا علاج کرکے نیا پیمانہ بھی سیٹ کر سکتے ہیں اور یہ سب اپنے نعروں اور اپنی پہچان سے ہی ممکن ہے لیکن احساس کمتری کے شکار لوگوں کی نظر ان دور رس اثرات، نتائج اور ممکنہ حصولیابیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ پھر بھی وہ سمجھداری میں خود کو تیس مار خاں سمجھتے ہیں!

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں ہے)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment