مطالعہ : روح کی غذا ـ طفیل احمد مصباحی

زندگی ، جسم اور روح کے مجموعے کا نام ہے ۔ انسان کو زندہ رہنے اور زندگی گذارنے کے لیے غذاؤں کی ضرورت پڑتی ہے ۔ زندگی کی بھی دو صورتیں ہیں ۔ ایک مادی زندگی ، دوسری روحانی زندگی ۔ جسمانی زندگی کے لیے مادّی غذا اور روحانی زندگی کے لیے روحانی غذا ضروری ہے ۔ قرآن مقدس کی صراحت کے مطابق اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان و سکون کی دولت نصیب ہوتی ہے ۔

الا بذکر اللہ تطمئن القلوب .

یہی وجہ ہے کہ علماء و مفسرین نے اللہ تعالی کے ذکر و اذکار اور اوراد و ظائف کو ” روح کی غذا ” کہا ہے اور یہ بات حق ہے ۔ ذکر و فکر میں جو لذت اور روحانی سکون ملتا ہے ، وہ آلاتِ لہو و لعب میں کہاں ؟ جب بندہ زمین کی پستیوں میں اپنے رب کو یاد کرتا ہے تو اللہ رب العزت آسمان کی بلندیوں پر عرشیوں کے درمیان اس کا ذکر کرتا ہے ۔ ذکر و اذکار کے علاوہ ، عبادت و ریاضت ، قرآن شریف کی تلاوت اور مجلسِ وعظ و تذکیر سے بھی روح کو غذا ملتی ہے ۔ غرض کہ روح کی غذا کی متعدد انواع و اقسام ہیں ۔
اچھی کتابوں کا مطالعہ بھی روح کی غذا ہے ۔ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ عز و جل کی عبادت ہے اور عبادت کا مقصد ، تزکیۂ نفس ، تطہیرِ باطن اور صفائیِ قلب ہے ۔ مادی غذائیں کھانے اور لہو و لعب میں مبتلا ہونے کے بعد انسان کا جسم جب نڈھال اور پژ مردہ ہونے لگتا ہے تو روح اپنے غذا کا مطالبہ کرتی ہے اور جب روح کو مطلوبہ غذا مل جاتی ہے تو انسان ( جو جسم اور روح کا مجموعہ ہے ) کے ظاہر و باطن میں تازگی آجاتی ہے ۔ اسے کیف و سرور ملنے لگتا ہے اور اس وقت اسے زندگی کا حقیقی لطف ملتا ہے ۔
” خیر الجلیس الکتاب ”
کتاب بہترین ساتھی ہے ۔ کتاب کو جو بہترین ساتھی کہا گیا ہے ، اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ کتاب اور اس کا مطالعہ سچے دوست اور بہترین ساتھی ہیں ۔ کتابیں سامنے ہوں ، لیکن ان کا مطالعہ نہ کیا جائے تو پھر کتابیں کس کام کی ؟

أعز مـكان في الدنا سرج سابح
وخير جليس في الزمان كتاب

متنبی کے اس شعر سے ظاہر ہے کہ ایک بہادر اور مجاہد کے لے سب سے بہتر ساتھی ، تیز رفتار گھوڑا ہے اور ایک طالب علم کے لیے سب سے بہتر ساتھی کتاب ہے ۔ کیوں کہ کتابیں ہی دنیا بھر معلومات کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ انبیائے کرام ، بزرگان دین ، علمائے کرام کے حالات اور قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ ہمیں ان کتابوں سے معلوم ہوتی ہے ۔ کتابیں ، ہمیں قلبی سرور اور روحانی سکون بخشتی ہیں اور تنہائیوں کی رفیق بن کر ہم سے ہم کلام ہوتی ہیں ۔ آدابِ زندگی اور طریقۂ بندگی سکھانے کے ساتھ ہمارے پست حوصلوں کو جوان کرتی ہیں ، آسمانوں پر کمندیں ڈالنے کا ولولہ پیدا کرتی ہیں اور دنیا میں کچھ کرنے کا جذبہ بیدار کرتی ہیں ۔ کتب و رسائل ، علوم و فنون کی کنجی ہیں ۔ یہ علوم و معارف کے بند دروازوں کو کھولتی ہیں اور اکتسابِ فیض کا موقع فراہم کرتی ہیں ۔

ایک عرب عالم نے کیا ہی خوب کہا ہے :

لا ينمو الجسد إلا بالطعام والرياضة ولا ينمو العقل إلا بالمطالعة والتفكير .

یعنی جسم ، غذا اور ریاضت ( ورزش ) سے نشو و نما پاتا ہے اور عقل ، درس و مطالعہ اور غور و فکر سے پروان چڑھتی ہے ۔ لہٰذا عقل کو پروان چڑھانے ، فکر میں بالیدگی پیدا کرنے اور روح کو بیش قیمت غذا فراہم کرنے کے لیے مطالعہ ناگزیر ہے ۔ مطالعے کا عادی انسان ، کثرتِ کار ، ہجوم ِ افکار اور دنیاوی مصائب و آلام میں لاکھ کھِرا ہو ، لیکن مطالعے کے لیے وہ وقت نکال ہی لیتا ہے اور مطالعے وہ کیف و سرور اور لطف و لذت پاتا ہے کہ دنیاوی مصائب کو بھول جاتا ہے ۔ درس و مطالعہ کا ایک اہم اور صحت مند افادی پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے وقت کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے اور انسان تضییعِ اوقات کی محرومیوں سے بچ جاتا ہے ۔ تضییعِ اوقات ، سب سے بڑی محرومی ہے اور درس و مطالعہ محرومیوں کے اس جال سے باہر نکلنے کا مؤثر ذریعہ اور کامیاب ترین راستہ ہے ۔

علم نے اضطراب بخشا ہے !!!
کس قدر پُر سکوں تھی لاعلمی

مختلف علوم و فنون کا مطالعہ ، بظاہر ایک اضطرابی عمل ہے ، لیکن اس کے فوائد بیشمار ہیں ۔ عصرِ حاضر کی ایجادات و اکتشافات اور سائنس دانوں کے نت نئے سائنسی کارنامے ، یہ در اصل غور و فکر اور درس و مطالعہ کے نتائج و ثمرات ہیں ۔
مطالعے کی غرض و غایت ، علم کا حصول ، معلومات میں اضافہ اور راہِ عمل کا تعیّن ہے ۔ مطالعہ سے انسان کی شخصیت کا پتہ چلتا ہے اور اس کی وسعتِ ظرف کا اندازہ ہوتا ہے ۔ الاناء یترشّح مافیہ ( برتن سے وہی ٹپکتا ہے ، جو برتن میں ہوتا ہے )
آپ کا مطالعہ جتنا وسیع ہوگا ، آپ کا زورِ استدلال ، فکری توانائی اور قوّتِ تخلیق بھی اتنی ہی مضبوط و مستحکم ہوگی ۔ آپ کی بات میں وزن اور آپ کے افکار و نظریات میں غیر معمولی قوت ہوگی ۔ الفاظ کی بازی گری ، پھکّڑ پن اور ہوائی فائرنگ کا زمانہ اب گذر گیا ۔ اہل علم آج زورِ استدلال ، قوّتِ اخذ و استنباط اور معانی کی گہرائیوں پر نظر رکھتے ہیں ۔ ہر چیز کو علم و استدلال کی روشنی میں پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی بات پر کان دھرتے ہیں ، جن کا حقیقت سے مضبوط رشتہ ہوا کرتا ہے ۔ ادّعائے محض اور پھسپھسی باتوں پر وہ کان تک نہیں دھرتے اور انہیں ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں ۔

مطالعے کی اہمیت کے حوالے سے ایک مفکر کا قول ہے کہ :

کتابوں کا مطالعہ انسان کی شخصیت کو ارتقا کی بلند منزلوں تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ، حصولِ علم و معلومات کا وسیلہ ، عملی تجرباتی سرمایہ کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے اور انسانی ذہن و فکر کو روشنی فراہم کرنے کا معروف ذریعہ ہے ۔
لہٰذا تعلیمی و تدریسی زندگی کے علاوہ عمومی حالت میں ہمیں کتابوں کا مطالعہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے ، کیوں کہ کتب و رسائل کے گہرے
مطالعے سے جہاں ہمارے علم و معلومات میں اضافہ ہوتا ہے ، وہیں فکر و شعور میں بالیدگی ، عزائم میں پختگی ، طبیعت میں کیف و نشاط اور ذہن و دماغ میں تازگی پیدا ہوتی ہے ۔

خالقِ کائنات نے انسان کو عقل جیسی ہمہ گیر طاقت و قوت اور فکر و شعور جیسی بیش قیمت دولت سے نوازا ہے ۔ دنیا کی ساری نیرنگیاں اور ایجادات و اکتشافات کی محیر العقول دل فریبیاں ، عقل و شعور کے صحیح استعمال کا نتیجہ ہیں ۔ عقل کو نتیجہ خیز بنانے اور فکری ارتقاء کو منتہائے کمال تک پہنچانے میں مطالعۂ کتب ، بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ، اسی طرح روحانی ارتقاء کے لے مطالعہ ایک جز و لاینفک کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اوپر بیان ہوا کہ ” جس طرح جسم کے لیے غذا ضروری ہے ، اسی طرح روح کے لیے بھی غذا ضروری ہے اور ذکرِ الہٰی کے مطالعہ بھی روح کی غذا ہے” ۔
اور آپ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ غذا کے بغیر جسم لاغر اور کمزور ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح مطالعہ کے بغیر عقل و شعور میں اضمحلال اور کمزوری آجاتی ہے اور فکری ارتقاء جمود و تعطّل کا شکار ہو جاتا ہے ۔

حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ کے بقول :
” چاہے وہ دین کا کام ہو یا دنیا کا ، یہ اچھی صحت پر موقوف ہے ” ۔ جان ہے تو جہان ہے اور صحت ہے تو سب کچھ ہے ۔ دماغی صحت کے بغیر ایک مکمل صحت مند زندگی کا تصور ممکن نہیں ۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں جہاں ہر شعبۂ حیات میں ترقی کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ، وہیں نت نئی بیماریاں بھی جنم لے چکی ہیں ۔ نفسیاتی امراض نے آج پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے اور ماہرینِ طب و صحت ان کے تدارک کے لیے طرح طرح تجاویز اور فارمولے دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں ، تاکہ نفسیاتی امراض کے عذاب سے بنی نوعِ انساں کو محفوظ رکھا جا سکے ۔ دماغی اور نفسیاتی بیماریاں اکثر اوقات جسمانی امراض کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں اور متاثرہ افراد کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دیتی ہیں ۔
منشیات کا استعمال ، دیر رات تک جاگنا ، صبح دیر سے اٹھنا ، میاں بیوی کے آپسی جھگڑے ، کمپوٹر اور انٹرنیٹ کا ضرورت سے زیادہ استعمال ، نفسیاتی امراض کے بنیادی اسباب ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی زندگی سے ان امور کو بے دخل کردیں اور مذکورہ قبیح عادات سے حتی الامکان پرہیز کریں ۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق اچھی اور مفید کتابوں کا مطالعہ انسان کو ان امراض سے نجات دلا سکتا ہے ۔ اچھی اور مفید کتابوں کے مطالعے سے انسان کی زندگی میں سکون اور اطمینان جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں ، جو نفسیاتی امراض سے لڑنے اور بہت حد ان کے ازالے میں موثر کردار ادا کرتے ہیں ۔
مطالعہ سے علم و معمولات میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے ۔ گذشتہ قوموں کی تہذیب و ثقافت کا پتہ چلتا ہے ۔ آج کا انسان گذشتہ کئی صدیوں کو مطالعہ کی کھڑکی سے گویا جھانکتا ہے اور قوموں کی عروج و زوال کی داستان کا گہرائی سے مطالعہ کر کے عروج کے اسباب پر کاربند اور زوال کے عوامل سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ہم مطالعہ کی مدد سے ہزار ، دو ہزار سال قبل فوت ہونے والی عظیم شخصیات سے باتیں کرتے ہیں اور یہ مطالعہ ہی کی دین ہے کہ بعدِ زمانی کے باجود ہم قدیم مصنفّین کی بارگاہوں میں حاضری دے کر ان کے علم کے سمندر سے موتیاں چنتے ہیں اور ان کے وسیع تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ مطالعہ ہمیں تضییعِ اوقات اور بُروں کی صحبت سے بچاتا ہے ۔ مشہور کہاوت ہے :
” جیسی سنگت ، ویسی رنگت ”
اچھے دوستوں کی اچھی صحبت کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں ۔ اچھوں کی صحبت انسان کو اچھا بناتی ہے اور بُروں کی صحبت اخلاق و عادات پر منفی اثرات ڈالتی ہے ۔ مطالعہ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے انسان برے لوگوں کی صحبت سے بچ جاتا ہے ۔ اوباش ، نکمے اور برے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے سے بدرجہا بہتر ہے کہ کتابوں کی صحبت اختیار کی جائے اور ان سے دوستی کی جائے ۔ کتاب جیسا سچا اور مخلص دوست انسان کو زندگی کے کسی موڑ پر کبھی ذلیل اور رسوا نہیں ہونے دیتا ، بلکہ اس کی عزت اور قدر و منزلت میں اضافہ کرتا ہے ۔ مطالعہ کرنے والوں کی اصلاح کرتا ہے ۔ ان کے اخلاق و عادات کو سدھارتا ہے اور معاشرے میں کامیابی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا ہنر سکھاتا ہے ۔
ہر انسان کو مطالعہ کی اشد ضرورت ہے ۔ کوئی بھی شخص مطالعہ سے بے نیاز نہیں ہو سکتا ہے ۔ یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ جو جتنا بڑا عالم ہوتا ہے ، وہ اتنا ہی زیادہ مطالعہ کرتا ہے اور دنیا و ما فیہا سے بے نیاز ہو کر کتابوں کی دنیا میں کھویا رہتا ہے اور مطالعہ کی کی حیات بخش لذتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے ۔ مطالعہ ایک قسم کا جنون ہے ، جس کو اس کی عادت یا بلفظِ دیگر چاٹ لگ جاتی ہے ، وہ آخری دم تک اس زلفِ جاناں کا اسیر بن جاتا ہے ۔ وہ کتابوں سے محبت کرتا ہے ۔ مطالعہ کو اپنا محبوب و مطلوب سمجھ کر اس کے ارد گرد منڈلاتا پھرتا ہے ۔
ہمارے بہت سارے اکابر علماء و مشائخ کا یہ معمول رہا کہ وہ رات کو تین حصوں میں بانٹ دیتے ۔ ایک حصے میں آرام کرتے ، ایک حصہ عبادت میں گذارتے اور رات کا ایک حصہ مطالعۂ کتب میں بسر کرتے ۔ اپنے وقت کے مشہور عالم و مؤرخ علامہ ابن خلدون نے لکھا ہے کہ ” میری پوری زندگی میں صرف دو رات ایسی گذری ، جس میں مطالعے سے میں محروم رہا ۔ ایک : میری شادی کی پہلی رات اور دوسری وہ رات جس میں میرے والد کا انتقال ہوا ۔

مولانا ابو الکلام آزاد نے ” غبار خاطر ” میں ایک جگہ لکھا ہے :
بچپن سے ہی یہ چٹیک سی لگ گئی تھی کہ فراغت ہو ، کتاب ہو اور باغ کا کوئی پرسکون کونا ۔ پھر وہاں بیٹھے گھنٹوں مطالعہ کرتا رہوں ۔
عرب کے مشہور عالم و ادیب ڈاکٹر عائض القرنی کے بقول :

میرے پاس سینکڑوں لوگ آتے ہیں اور ان کے لبوں پر ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ ہم کیسے عمدہ قلم کار بن سکتے ہیں ؟ میری طرف سے ان تمام سوالات کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ یہ ایک دن کا کام نہیں ۔ یہ ایک سفر ہے جو کتاب سے شروع ہوتا ہے اور جب تک کتاب سے رشتہ جڑا رہتا ہے ، یہ سفر جاری رہتا ہے ۔ ایک کامیاب مصنف اور قلم کار بننے کے لیے کتابوں کا خوب خوب مطالعہ کرنا چاہیے ۔
سید سلیمان ندوی کہا کرتے تھے کہ ” ایک صفحہ کا مضمون لکھنے سے پہلے سو صفحات مطالعہ کرنا چاہیے ۔ ایک صفحے کا جو مضمون ، سو صفحات مطالعہ کیے بغیر لکھا جائے ، وہ پڑھے جانے کے لائق نہیں ہے ” ۔
ایک مصنف اور قلم کار کے لیے مطالعہ گویا ” آکسیجن ” کی طرح ضروری ہے ۔ تحریر میں معنویت ، تہہ داری اور چاشنی گہرے مطالعے کے بغیر نہیں آتی ۔ مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں میں رائج نصابی کتب پڑھنے لینے کے بعد انسان متعلقہ علوم و فنون میں ماہر اور کامل و اکمل نہیں بن جاتا ، مہارت تو اس کے بہت بعد مسلسل درس و مطالعہ سے پیدا ہوتی ہے ۔ غرض کہ ہر جہت سے مطالعہ کی اہمیت و افادیت مسلّم ہے ، کیوں کہ مطالعہ ، تعمیر و ترقی کا ذریعہ ، روح کی غذا اور علمی پیاس بجھانے کے لیے ” آبِ حیات ” کا درجہ رکھتا ہے ۔

راقم کے بعض اساتذہ نے مطالعہ کا مفہوم یوں بیان کیا ہے ، جو بہت حد تک جامع ہے :
المطالعہ : ھو الاطلاع علی ما اراد المصنف .

کتاب کے مصنف کے معنیٔ مراد تک پہنچنے کا نام مطالعہ ہے ۔ یعنی دیگر کاموں کی طرح مطالعہ بھی غور و فکر کے ساتھ ہونا چاہیے اور ہمیں سرسری طریقے سے نہیں بلکہ کامل توجہ اور پوری گہرائی کے ساتھ کسی بھی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ ہمیشہ مطالعہ ہی میں خود کو مصروف رکھا جائے ۔ مطالعہ کم ہو ، لیکن روزانہ ہو اور پوری پابندی کے ساتھ ہو ۔ یہ نہیں کہ آج جذبات میں آ کر پچاس یا سو صفحات پڑھ ڈالے اور کل سے ایک صفحہ بھی نہیں ۔مطالعے کو اپنی زندگی کا معمولی اور روٹین بنا لیں اور ہر دن پانچ ، دس یا بیس صفحہ ضرور مطالعہ کریں ، اس عمل سے آپ اپنے اندر ضرور تبدیلی محسوس کریں گے ۔ قلبی سکون اور دماغی تازگی کے ساتھ آپ کے سامنے نت نئی معلومات کا ایک ” آئینۂ جہاں نما ” ہوگا ۔

اگر ممکن ہو اور وقت اجازت دے تو زیرِ مطالعہ کتابوں کے اہم نکات اپنی ڈائری میں نوٹ کر لیا کریں ، یہ پوائنٹس آگے چل کر بہت کام آئیں گے ۔ عربی کی ایک کہاوت ہے : العلم صید و الکتابۃ قید . علم ، شکار ہے اور کتابت ( لکھنا ) اس شکار کے لیے قید ہے ۔ کوئی بھی چیز لکھ لینے سے وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جایا کرتی ہے ۔ خود بھی مطالعہ کریں اور اپنے بال بچوں کو بھی مطالعہ کا عادی بنائیں ۔ گھر میں اچھی اچھی کتابیں لا کر رکھیں ۔ میگزین اور رسالے منگوائیں ۔ خود بھی پڑھیں اور بچوں کو بھی اس کی ترغیب دیں ۔ مطالعہ کے لیے ایک وقت متعین کر لیں ۔ رات کی تنہائی اور صبح کا وقت مطالعہ کے لیے بڑا مناسب ہوا کرتا ہے ۔ اگر رات میں نیند نہ آتی ہو اور آپ کو بے خوابی کا مرض لاحق ہو تو اس کے لیے مطالعہ کا نسخہ اپنائیں ۔ کتابیں پڑھتے پڑھتے ، کب نیند آجائے گی ، آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا ۔ ہمیشہ اچھی کتابوں کا مطالعہ کریں ۔ انبیائے کرام ، صحابہ و تابعین اور بزرگان دین کی حالات زندگی پر مشتمل کتابیں خصوصی طور پر مطالعہ میں رکھیں ۔ سیرت طیبہ اور تاریخ و تذکرہ کے علاوہ قرآن و تفسیر اور حدیث و فقہ کی کتابوں کو بھی اپنے مطالعے کا حصہ بنائیں ۔ ہم اس مذہب کے ماننے والے ہیں جس کے نبی پہلی وحی لفظ ” اقرا ” سے ہوئی ہے ۔ جب تک ہم نے کتابوں سے اپنا رشتہ مضبوط رکھا اور تعلیمی میدان میں پیش پیش رہے ، دنیا کی امامت و حکومت
ہمارے ہاتھوں میں رہی ۔ اور جب سے ہم نے تعلیم سے اپنا رشتہ منقطع کرلیا اور درس و مطالعہ سے دوری اختیار کر لی ، ذلت و پستی کی گہری کھائی میں دن بدن دھنستے چلے گئے ۔ یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آج کا ہمارا نوجوان طبقہ درس و مطالعہ کے بجائے اپنا قیمتی وقت موبائل اور انٹرنیٹ پر صرف کرتا ہے ۔ اس افسوسناک رویّہ میں ہمیں تبدیلی لانے کی اور مطالعہ کو اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ بنانے کی ضرورت ہے ۔